مکمل مشقی کوئز

کثیرالانتخابی سوالات — مکمل مشق

تمام پندرہ موضوعات کے کل 450 کثیرالانتخابی سوالات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ موضوعات منتخب کریں اور مشق شروع کریں۔

موضوعات منتخب کریں

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے

موضوع 1۔ سیرت النبی ﷺ کا مفہوم، اہمیت، بنیادی مصادر اور منہجِ مطالعہ

1سیرت کے مطالعے کا آغاز عام طور پر کن بنیادی سوالات سے ہوتا ہے؟
الفمفہوم، اہمیت، مآخذ اور منہجِ مطالعہ سے متعلق سوالات
بصرف جغرافیائی حدود کے تعین سے
جصرف عسکری تنظیم کے سوالات سے
دصرف نسب ناموں کی ترتیب سے
سیرت کے مطالعے کا آغاز مفہوم، اہمیت، مآخذ اور منہجِ مطالعہ جیسے چار بنیادی اور باہم مربوط سوالات سے ہوتا ہے۔
2قرآن مجید نے سورۃ الأحزاب میں نبی کریم ﷺ کی زندگی کو امت کے لیے کیا قرار دیا؟
الفبہترین نمونہ (اسوۂ حسنہ)
بصرف ایک تاریخی شخصیت
جصرف ایک عسکری قائد
دصرف ایک تاجر
آیت ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ کے مطابق نبی کریم ﷺ کی ذات امت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔
3سیرت کے لغوی معنی کیا بیان کیے جاتے ہیں؟
الفچلنے کا طریقہ، روش اور کردار
بصرف عسکری مہمات کی تفصیل
جنبی کریم ﷺ کے ظاہری حلیے کا بیان
دقرآن کی تفسیر کا ایک انداز
سیرت کا لغوی مفہوم چلنے کے طریقے، روش اور کردار سے متعلق ہے، جو بعد میں اصطلاحاً نبی کریم ﷺ کی مکمل عملی زندگی کے لیے مخصوص ہو گیا۔
4اصطلاحی طور پر سیرت سے کیا مراد لی جاتی ہے؟
الفصرف نبی کریم ﷺ کی جنگوں کی تاریخ
بنبی کریم ﷺ کی پوری عملی زندگی
جصرف مکی دور کے واقعات
دصرف نبی کریم ﷺ کے اقوال کا مجموعہ
اصطلاح میں سیرت سے رسول اللہ ﷺ کی مکمل عملی زندگی مراد ہوتی ہے، نہ کہ محض کسی ایک پہلو یا دور کا بیان۔
5مغازی کی کتابیں بنیادی طور پر کس موضوع پر مرکوز ہوتی ہیں؟
الفنبی کریم ﷺ کے اخلاق و عادات
بغزوات اور عسکری مہمات
جنبی کریم ﷺ کی ولادت کے حالات
دقریش کے قبائلی نظام
مغازی کی اصطلاح خاص طور پر ان تصانیف کے لیے استعمال ہوتی ہے جو غزوات اور عسکری مہمات کی تفصیل بیان کرتی ہیں۔
6کتبِ شمائل میں عام طور پر کیا بیان کیا جاتا ہے؟
الفنبی کریم ﷺ کی اوصاف، عادات اور ظاہری حلیہ
بصرف ہجرت کے واقعات
جصرف صحابہ کرام کے فضائل
دصرف قریش کی تاریخ
شمائل کی کتابوں میں نبی کریم ﷺ کے اوصاف، عادات، اخلاق اور ظاہری حلیے کا بیان جمع کیا جاتا ہے۔
7ایک جامع مطالعۂ سیرت، مغازی اور شمائل کے دائروں سے کیسے مختلف ہے؟
الفیہ ان دونوں کو دعوت، ریاست اور معاشرتی زندگی کے وسیع تناظر سے جوڑتا ہے
بیہ صرف مغازی پر انحصار کرتا ہے
جیہ صرف شمائل کو اہمیت دیتا ہے
دیہ ان دونوں اصطلاحات کو یکسر رد کرتا ہے
ایک جامع مطالعۂ سیرت مغازی اور شمائل کو الگ الگ خانوں میں بند نہیں رکھتا بلکہ دعوت، ریاست، خاندان اور معاشرتی زندگی کے وسیع تناظر سے جوڑ دیتا ہے۔
8قرآن مجید کو سیرت کا سب سے مستند ماخذ کیوں قرار دیا جاتا ہے؟
الفکیونکہ یہ بعد کی تصنیف ہے
بکیونکہ یہ انہی واقعات کے دوران نازل ہوا
جکیونکہ اس میں صرف عبادات کا ذکر ہے
دکیونکہ یہ صرف مدنی دور کا بیان کرتا ہے
قرآن مجید انہی واقعات کے دوران، وقتاً فوقتاً نازل ہوا جن کا وہ ذکر کرتا ہے، اس لیے اسے سیرت کا سب سے قدیم اور معاصر ماخذ سمجھا جاتا ہے۔
9قرآن مجید سیرت کے واقعات کو کس زاویے سے پیش کرتا ہے؟
الفمحض قصہ گوئی کے انداز میں
بہدایت، تزکیہ اور قانون کے زاویے سے
جصرف جغرافیائی تفصیل کے طور پر
دصرف عسکری حکمتِ عملی کے طور پر
قرآن مجید واقعات کو ہدایت، تزکیۂ نفس اور قانون سازی کے زاویے سے بیان کرتا ہے، محض تاریخی روداد کے طور پر نہیں۔
10قرآن مجید میں سیرت کے کن پہلوؤں کی اصولی تصویر ملتی ہے؟
الفمکی مخالفت، ہجرت کے حالات، غزوات اور منافقین کا کردار
بصرف قبائل کے نام
جصرف جغرافیائی فاصلے
دصرف موسمی حالات
قرآن میں مکی مخالفت، ہجرت کے حالات، غزوات، منافقین کا کردار اور نبوی اخلاق کی اصولی تصویر ملتی ہے۔
11سیرت کی تحقیق میں کن دو کتابوں کو حدیث کی صحت میں سب سے بلند مقام حاصل ہے؟
الفابن ہشام اور طبری
بصحیح بخاری اور صحیح مسلم
جابن سعد اور جواد علی
دشبلی نعمانی اور مبارکپوری
صحیح بخاری اور صحیح مسلم کو روایات کی صحت کے اعتبار سے حدیث کی کتابوں میں سب سے بلند مقام حاصل ہے۔
12ابن اسحاق، ابن ہشام، ابن سعد اور طبری کی روایات کو کیسے استعمال کیا جاتا ہے؟
الفبغیر کسی جانچ کے قبول کر لیا جاتا ہے
بسند اور متن کی جانچ کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے
جصرف حوالے کے طور پر رکھا جاتا ہے
دانہیں مکمل طور پر رد کر دیا جاتا ہے
ان مؤرخین کی روایات کو سند اور متن دونوں کے معیار پر جانچنے کے بعد ہی سیرت کی تحقیق میں استعمال کیا جاتا ہے۔
13کسی روایت کا کسی قدیم تاریخی کتاب میں درج ہونا کیا ثابت کرتا ہے؟
الفاس کی صحت خود بخود ثابت ہو جاتی ہے
باس کی صحت کی خودکار ضمانت نہیں ملتی، مزید جانچ درکار ہے
جاسے حتمی طور پر رد کر دینا چاہیے
داسے قرآن پر مقدم رکھنا چاہیے
کسی روایت کا محض کسی تاریخی کتاب میں موجود ہونا اس کی صحت کی ضمانت نہیں دیتا، بلکہ سند اور متن کی جانچ ضروری ہے۔
14سیرت کے مصادر کی درجہ بندی میں سب سے پہلا اور قطعی ماخذ کیا سمجھا جاتا ہے؟
الفقدیم کتبِ مغازی
بقرآن مجید
جمستشرقین کی تحقیقات
دصرف زبانی روایات
سیرت کے مصادر میں قرآن مجید کو ہمیشہ اولین اور قطعی ماخذ کی حیثیت دی جاتی ہے، اس کے بعد صحیح حدیث اور دیگر مآخذ کا درجہ آتا ہے۔
15مطالعۂ سیرت کو قرآن کی عملی تفسیر کیوں کہا جاتا ہے؟
الفکیونکہ یہ قرآنی تعلیمات کو ایک حقیقی زندگی پر منطبق دکھاتا ہے
بکیونکہ سیرت قرآن سے پہلے لکھی گئی
جکیونکہ سیرت میں قرآن کا کوئی ذکر نہیں
دکیونکہ سیرت صرف عبادات پر مشتمل ہے
سیرت اسلامی تعلیمات کی زندہ مثال ہے کیونکہ اس میں قرآنی اصول ایک حقیقی انسانی زندگی پر عملاً نافذ ہوتے دکھائے گئے ہیں۔
16سیرت کے مطالعے سے طالب علم کو کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے؟
الفصرف تاریخی تاریخیں یاد ہو جاتی ہیں
بدعوت، قیادت، عدل اور صبر جیسے عملی اصول ملتے ہیں
جصرف عربی زبان کی مہارت بڑھتی ہے
دصرف قبائلی نظام کی تفصیل معلوم ہوتی ہے
سیرت کے مطالعے سے دعوت، قیادت، عدل، صبر اور اجتماعی اصلاح جیسے عملی اور قابلِ اطلاق اصول حاصل ہوتے ہیں۔
17تحقیقِ سیرت کے درست منہج میں سب سے پہلا اصول کیا ہے؟
الفصحیح روایت کو ضعیف روایت پر ترجیح دینا
بہر مشہور قصے کو قبول کر لینا
جصرف مستشرقین کی آراء پر انحصار کرنا
دتاریخی ترتیب کو نظر انداز کرنا
درست تحقیقی منہج کا پہلا اصول یہ ہے کہ صحیح اور مستند روایت کو ہمیشہ ضعیف اور بے اصل روایت پر ترجیح دی جائے۔
18روایات کو کس تناظر میں پڑھنے کی ہدایت دی جاتی ہے؟
الفزمانی ترتیب اور تاریخی ماحول کے ساتھ
بصرف جدید نظریات کی روشنی میں
جبغیر کسی سیاق کے الگ الگ
دصرف شاعرانہ تفسیر کے انداز میں
روایات کو زمانی ترتیب، تاریخی ماحول اور قرآنی رہنمائی کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے تاکہ غلط نتیجہ اخذ نہ ہو۔
19سیرت کے مطالعے میں کن دو انتہاؤں سے بچنے کی تلقین کی جاتی ہے؟
الفہر قصے کی بلا تحقیق قبولیت اور ثابت روایات کا انکار
بصرف عربی اور صرف اردو ماخذ کا استعمال
جصرف مکی اور صرف مدنی دور کا مطالعہ
دصرف حدیث اور صرف قرآن کا مطالعہ
سیرت کا متوازن مطالعہ نہ تو ہر مشہور قصے کو بلا تحقیق قبول کرتا ہے اور نہ ہی ثابت شدہ معجزات و صحیح روایات کا انکار کرتا ہے۔
20بعض مغربی محققین نے سیرت کے کن پہلوؤں پر مفید کام کیا ہے؟
الفمخطوطات کی تدوین اور تاریخی تناظر
بعقیدے کے بنیادی مآخذ کی تدوین
جوحی کی حقیقت کا اثبات
دنبوت کے تصور کی توثیق
کچھ مستشرقین نے مخطوطات کی تدوین اور تاریخی پس منظر کی وضاحت میں علمی طور پر مفید کام کیا ہے۔
21بہت سے مستشرقین کی سب سے بڑی علمی کمزوری کیا رہی ہے؟
الفانہوں نے وحی کو نفسیاتی یا سماجی عمل سمجھ کر بنیادی مقدمہ نظر انداز کیا
بانہوں نے حدیث کی سند پر زیادہ توجہ دی
جانہوں نے صرف قرآن کا مطالعہ کیا
دانہوں نے عربی زبان سیکھنے سے انکار کیا
بہت سے مستشرقین نے وحی کے تجربے کو محض نفسیاتی یا سماجی مظہر سمجھ کر اسلام کے بنیادی عقیدی مقدمے کو نظر انداز کر دیا۔
22علمی دیانت کا تقاضا کسی بھی نظریے یا دعوے کے بارے میں کیا ہے؟
الفاسے بغیر جانچے قبول کر لیا جائے
باسے اس کے دلائل اور مفروضات کی روشنی میں پرکھا جائے
جاسے صرف اس کی شہرت کی بنا پر رد کیا جائے
داسے کسی بھی صورت میں نظر انداز کیا جائے
علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دعوے کو اس کے دلائل اور بنیادی مفروضات کی روشنی میں جانچا جائے۔
23نبوی منہج مقصد کے ساتھ کس چیز کی پاکیزگی پر بھی زور دیتا ہے؟
الفصرف نتائج کی پاکیزگی
بذریعے اور طریقِ کار کی پاکیزگی
جصرف مالی وسائل کی فراوانی
دصرف عددی کثرت
نبوی منہج کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مقصد کے ساتھ ساتھ ذریعے اور طریقِ کار کی پاکیزگی پر بھی اتنا ہی زور دیتا ہے۔
24سیرت کا حقیقی مطالعہ معلومات کو کس چیز میں بدل دیتا ہے؟
الفمحض یادداشت میں
بکردار، خدمت اور ذمہ داری میں
جصرف امتحانی نمبروں میں
دصرف تاریخی تجسس میں
سیرت کا حقیقی اور بامعنی مطالعہ معلومات کے ذخیرے کو کردار، خدمت اور عملی ذمہ داری میں تبدیل کر دیتا ہے۔
25آج کے دور میں سیرت النبی ﷺ کن مسائل کے حل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے؟
الفاخلاقی بحران، مذہبی شدت پسندی اور سیاسی ناانصافی
بصرف موسمیاتی تبدیلی
جصرف صنعتی ترقی
دصرف کھیلوں کے مسائل
آج کے دور میں اخلاقی بحران، مذہبی شدت پسندی اور سیاسی ناانصافی جیسے مسائل میں سیرت النبی ﷺ متوازن رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
26مضمون کے اختتام پر سیرت کے مفہوم، اہمیت، مآخذ اور منہج کے مجموعی مطالعے کا نتیجہ کیا بتایا گیا ہے؟
الفیہ ایمان، عقلی نقد اور تاریخی احتیاط کو یکجا کرنے والی ایک زندہ علمی روایت ہے
بیہ محض ماضی کی ایک خشک یادداشت ہے
جیہ صرف مذہبی جذباتیت پر مبنی ہے
داس کا کوئی عملی نتیجہ نہیں نکلتا
سیرت کے چاروں پہلو مل کر ایک ایسی علمی روایت تشکیل دیتے ہیں جس میں ایمان، عقلی نقد اور تاریخی احتیاط ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔
27درج ذیل میں سے کون سا بیان سب سے بہتر انداز میں بیان کرتا ہے کہ سیرت کے مفہوم، اہمیت اور مآخذ کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
الفیہ تینوں ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں کیونکہ مفہوم واضح ہوئے بغیر اہمیت اور مآخذ کا صحیح تعین ممکن نہیں
بان تینوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جاہمیت کا تعین مآخذ سے پہلے ہرگز ممکن نہیں مگر اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی
دمفہوم کی وضاحت کے بغیر بھی مآخذ کا تعین آسانی سے ہو سکتا ہے
مضمون کے مطابق مفہوم، اہمیت، مآخذ اور منہج ایک ہی زنجیر کی کڑیاں ہیں، جن میں سے ہر ایک دوسرے کی تفہیم پر انحصار کرتا ہے۔
28قرآن مجید اور کتبِ حدیث و سیرت کے مابین بنیادی فرق کیا بیان کیا گیا ہے؟
الفقرآن قطعی اور معاصر ماخذ ہے جبکہ حدیث و سیرت کی روایات کو سند و متن کی جانچ کے بعد قبول کیا جاتا ہے
بدونوں بغیر جانچے یکساں طور پر قابلِ اعتماد ہیں
جحدیث کو قرآن پر ہمیشہ مقدم رکھا جاتا ہے
دسیرت کی کتابوں کو کسی جانچ کی ضرورت نہیں ہوتی
قرآن اپنی نوعیت کے اعتبار سے قطعی اور معاصر ماخذ ہے، جبکہ حدیث اور کتبِ سیرت کی روایات کو سند اور متن کے معیار پر جانچ کر قبول کیا جاتا ہے۔
29سیرت کی تحقیق میں تینوں بنیادی اصولوں کو ملحوظ رکھنے کا سب سے بڑا فائدہ کیا ہے؟
الفیہ عقیدت اور علمی دیانت دونوں کی بیک وقت حفاظت کرتا ہے
بیہ صرف وقت کی بچت کرتا ہے
جیہ صرف کتابوں کی تعداد بڑھاتا ہے
داس کا کوئی عملی فائدہ نہیں
متوازن تحقیقی منہج، یعنی صحیح روایت کو ترجیح دینا، سیاق میں پڑھنا اور دو انتہاؤں سے بچنا، عقیدت اور علمی دیانت دونوں کی حفاظت کرتا ہے۔
30سیرت کا سطحی اور جذباتی مطالعہ اس کے حقیقی اور گہرے مطالعے سے کس بنا پر مختلف ہے؟
الفحقیقی مطالعہ معلومات کو کردار، خدمت اور ذمہ داری میں ڈھالتا ہے جبکہ سطحی مطالعہ محض معلومات تک محدود رہتا ہے
بدونوں میں کوئی فرق نہیں
جسطحی مطالعہ زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے
دحقیقی مطالعہ صرف تاریخی تاریخیں یاد کرواتا ہے
مضمون کے مطابق سیرت کا حقیقی مطالعہ محض معلومات میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ انہیں کردار، خدمت اور ذمہ داری کے عملی سانچے میں ڈھال دیتا ہے۔

موضوع 2۔ بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی حالات

1سورۃ الروم کی آیت ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ کس بات کی نشاندہی کرتی ہے؟
الفبعثت سے قبل انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے پھیلائے گئے وسیع تر اخلاقی فساد کی
بصرف عرب کی موسمی خرابی کی
جصرف تجارتی نقصان کی
دصرف قبائلی جنگ کے خاتمے کی
یہ آیت خشکی اور تری میں انسانوں کے اپنے اعمال سے پھیلنے والے فساد کی نشاندہی کرتی ہے، جو بعثت سے قبل کی وسیع تر اخلاقی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔
2بعثت سے قبل عالمی حالات کا مطالعہ کیوں محض تاریخی تجسس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا؟
الفاس سے نبوی رسالت کے پس منظر، حکمت اور ضرورت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے
باس کا نبوت سے کوئی تعلق نہیں
جیہ صرف جغرافیہ کا موضوع ہے
داس سے صرف تجارتی راستے معلوم ہوتے ہیں
یہ مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کس پس منظر میں مبعوث ہوئی اور اس کی حکمت و ضرورت کیا تھی۔
3چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کی سیاسی ساخت کیسی تھی؟
الفایک ہی مرکزی حکومت کے تحت متحد
ببڑی سلطنتوں، بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم
جمکمل طور پر جمہوری نظاموں پر مبنی
دصرف قبائلی جنگوں سے خالی اور پرامن
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا بڑی سلطنتوں، مقامی بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم تھی، کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں۔
4اس دور کو مکمل تاریکی کہنے سے متعلق درست علمی موقف کیا ہے؟
الفیہ تعبیر بالکل درست اور حتمی ہے
بیہ تعبیر محتاط نہیں، کیونکہ ترقی یافتہ پہلو بھی موجود تھے
جاس دور میں کوئی بھی تہذیب موجود نہیں تھی
داس دور میں کوئی مذہبی سرگرمی نہیں تھی
اس دور کو مکمل تاریکی کہنا درست نہیں، کیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں علم و تمدن کے آثار بھی موجود تھے۔
5چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کے بارے میں سب سے متوازن تعبیر کیا پیش کی گئی؟
الفانسانیت کو ایک جامع اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی
بدنیا مکمل طور پر پرامن اور منظم تھی
جدنیا میں کوئی علمی سرگرمی موجود نہیں تھی
دتمام اقوام ایک ہی نظام کے تحت متحد تھیں
مضمون کے مطابق سب سے متوازن تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی۔
6جزیرۂ عرب میں سیاسی زندگی کی بنیاد کیا تھی؟
الفمرکزی شاہی حکومت
بقبائلی وفاداری
جمذہبی خلافت کا نظام
دجمہوری انتخابی نظام
عرب میں مرکزی حکومت کے بجائے قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی اصل بنیاد سمجھی جاتی تھی۔
7خانہ کعبہ کی اصل حیثیت اور بعد کی صورتِ حال کیا بیان کی جاتی ہے؟
الفیہ ابتدا سے بت پرستی کا مرکز تھا
بیہ حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا مگر بعد میں بت پرستی پھیل گئی
جیہ ایک عسکری قلعہ تھا
دیہ صرف تجارتی گودام کے طور پر استعمال ہوتا تھا
کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا، لیکن صدیوں میں اس کے گرد بت پرستی پھیل چکی تھی۔
8عرب معاشرے کی کن خوبیوں کا ذکر تاریخی مآخذ میں ملتا ہے؟
الفصرف ظلم اور جنگ
بشاعری، حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت
جصرف زراعت اور کاشتکاری
دصرف بحری تجارت
عرب معاشرے میں شاعری، مضبوط حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت جیسی نمایاں خوبیاں پائی جاتی تھیں۔
9عرب معاشرے میں کن خامیوں کا بھی ذکر ملتا ہے؟
الفخونریزی، سود اور کمزوروں پر ظلم
بصرف تعلیمی پسماندگی
جصرف موسمی مشکلات
دصرف زبان کی کمزوری
عرب معاشرے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم جیسی خامیاں بھی نمایاں تھیں۔
10بعض عرب قبائل میں کون سی سنگ دل رسم رائج تھی؟
الفلڑکیوں کو زندہ دفن کرنا
ببچوں کو تعلیم دینا
جغلاموں کو آزاد کرنا
دیتیموں کی سرپرستی کرنا
بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم پائی جاتی تھی، جسے بعد میں اسلام نے ختم کیا۔
11غلام، یتیم اور مقروض افراد کی حیثیت عرب معاشرے میں کیسی تھی؟
الفوہ محفوظ اور بااختیار طبقہ تھے
بوہ طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے
جانہیں مکمل قانونی تحفظ حاصل تھا
دان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا
غلام، یتیم اور قرض دار افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے اور ان کے حقوق کا کوئی مؤثر تحفظ نہیں تھا۔
12پیشِ اسلام عرب میں وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت کی حیثیت کیسی تھی؟
الفمکمل مساوی قانونی اختیار حاصل تھا
بعموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی
جاسے سب سے زیادہ حقوق حاصل تھے
داس کا کوئی معاشرتی کردار نہیں تھا
وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت عموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی، جو بعد میں اسلامی احکام سے بدلا۔
13بازنطینی روم کس خطے کی بڑی سیاسی قوت تھا؟
الفمغربی افریقہ
بمشرقی بحیرۂ روم
ججنوبی ایشیا
دوسطی امریکہ
بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں اس دور کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت تھا۔
14روم میں مسیحی فرقوں کے اختلافات کا کیا نتیجہ نکلتا تھا؟
الفمکمل مذہبی ہم آہنگی
بریاستی جبر اور باہمی کشمکش
جفوری صلح اور اتحاد
دان اختلافات کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا
مسیحی فرقوں کے اعتقادی اختلافات اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کا سبب بنتے تھے۔
15روم کی عام آبادی کس دباؤ کا شکار تھی؟
الفبھاری محصولات اور مسلسل جنگوں کا معاشی دباؤ
بصرف موسمی مشکلات
جصرف تعلیمی کمی
دصرف زبان کے مسائل
بھاری محصولات اور روم و ایران کی مسلسل جنگوں نے عام آبادی کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔
16ساسانی ایران میں کس نظام کا غلبہ تھا؟
الفجمہوری نظام
بشہنشاہی نظام اور درباری اشرافیہ کا غلبہ
جقبائلی جمہوریت
دبازنطینی طرزِ حکومت
ایران میں شہنشاہی نظام، سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔
17ایران میں کس مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی؟
الفزرتشتی مذہب
ببدھ مت
جیہودیت
دصابئی مذہب
زرتشتی مذہب کو ایران میں سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دیگر مذاہب کی حالت وقت کے ساتھ بدلتی رہی۔
18روم اور ایران کی طویل جنگوں کا دونوں سلطنتوں پر کیا اثر پڑا؟
الفدونوں سلطنتیں داخلی طور پر کمزور ہو گئیں
بدونوں مزید مضبوط ہو گئیں
جصرف روم کمزور ہوا جبکہ ایران مضبوط رہا
داس کا کوئی اثر نہیں پڑا
روم اور ایران کے مابین صدیوں پر محیط جنگوں نے دونوں سلطنتوں کو داخلی طور پر کمزور کر دیا تھا۔
19مصر اس دور میں سیاسی طور پر کس کے زیرِ اثر تھا؟
الفایرانی سلطنت
برومی اقتدار
جچینی سلطنت
دحبشی بادشاہت
مصر سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی اختلافات کا شکار تھا۔
20حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی کون سی خصوصیت سیرت کے تناظر میں اہم ہے؟
الفاس کی عسکری طاقت
باس کا عدل اور مظلوم مسلمانوں کو پناہ دینا
جاس کی تجارتی دولت
داس کا زرتشتی مذہب اختیار کرنا
نجاشی کے عدل نے بعد میں مظلوم مسلمانوں کو ہجرت کے وقت محفوظ پناہ فراہم کی، جو اس کے کردار کی نمایاں خصوصیت تھی۔
21پیشِ اسلام ہندوستان کی نمایاں سماجی خصوصیت کیا تھی؟
الفمکمل سماجی مساوات
بذات پات کی سخت تقسیم
جمرکزی جمہوری نظام
دقبائلی بادشاہت کا خاتمہ
ہندوستان میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم موجود تھی۔
22چین نے اس دور میں کس بنیاد پر مضبوط تہذیبی ڈھانچہ قائم کیا؟
الفصرف عسکری طاقت پر
بمنظم سلطنت، زراعت، تجارت اور علمی روایت پر
جصرف مذہبی جبر پر
دصرف بحری تجارت پر
چین میں منظم سلطنت، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارت اور علمی روایت نے ایک مضبوط تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دیا۔
23نبوی دعوت نے انسانیت کو تقسیم کرنے والی کن بنیادوں کے مقابلے میں کیا پیش کیا؟
الفنسل اور طبقے کی برتری کو مزید تقویت دی
بتقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور دیا
جصرف عرب کی برتری کو تسلیم کیا
دصرف مالی حیثیت کو معیار بنایا
اسلام نے نسل، طبقے اور قبیلے سے بلند ہو کر تقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور پیش کیا۔
24عالمی پس منظر سے قرآن کے کس پیغام کی وسعت نمایاں ہوتی ہے؟
الفعدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی
بصرف عرب کی مقامی روایات کی
جصرف قبائلی جنگوں کی حکمتِ عملی کی
دصرف تجارتی معاہدوں کی
اس عالمی پس منظر سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی عالمگیر وسعت نمایاں ہوتی ہے۔
25بعثتِ نبوی نے انسانی مساوات کی بنیاد کس چیز کو قرار دیا؟
الفتقویٰ اور کردار کو
بنسل اور رنگ کو
جقبیلے اور خاندان کو
دمال اور دولت کو
اسلام نے انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد تقویٰ اور کردار پر تھی، نہ کہ خون یا رنگ پر۔
26مضمون کے مطابق یہ نتیجہ اخذ کرنا کیوں مناسب نہیں کہ بعثت سے قبل پوری دنیا یکساں طور پر تاریک تھی؟
الفکیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاست، علم، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو موجود تھے
بکیونکہ اس دور میں کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں تھا
جکیونکہ عرب مکمل طور پر مہذب تھا
دکیونکہ اس دور کی کوئی تاریخ محفوظ نہیں
روم، ایران، ہندوستان اور چین میں علم، تجارت اور تعمیرات کے ترقی یافتہ پہلو موجود تھے، اس لیے پوری دنیا کو یکساں تاریک کہنا مناسب نہیں۔
27ان تمام تہذیبوں میں کون سے مشترکہ مسائل بھی نمایاں طور پر پائے جاتے تھے؟
الفمذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ اور استحصال
بصرف زبان کا مسئلہ
جصرف موسمی مشکلات
دکوئی مسئلہ نہیں تھا
ترقی یافتہ پہلوؤں کے باوجود ان تمام تہذیبوں میں مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ اور استحصال بھی نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔
28درج ذیل میں سے کون سا بیان بعثتِ نبوی سے قبل کی عالمی صورتحال کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفدنیا میں کچھ ترقی یافتہ پہلوؤں کے باوجود گہرا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی بحران موجود تھا جس نے ایک عالمگیر رہنمائی کو ناگزیر بنا دیا
بدنیا مکمل طور پر مثالی اور منصفانہ تھی
جصرف عرب میں مسائل تھے جبکہ باقی دنیا مکمل خوشحال تھی
داس دور کا کوئی مستند تاریخی ریکارڈ موجود نہیں
مضمون کا مجموعی تجزیہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ محدود ترقی کے باوجود دنیا گہرے مذہبی، سیاسی اور اخلاقی بحران سے دوچار تھی، جس نے عالمگیر الہامی رہنمائی کو ضروری بنا دیا۔
29عرب معاشرے میں کمزور طبقات کے استحصال اور نجاشی کے عدل کے مابین موازنہ کیا سبق دیتا ہے؟
الفاس دور میں ظلم کے ساتھ ساتھ عدل کی روایت بھی مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئی تھی
بہر جگہ صرف ظلم ہی موجود تھا
جنجاشی کا عدل بے اثر رہا
دعرب اور حبشہ کے حالات بالکل یکساں تھے
نجاشی کے عادلانہ نظام نے، جو بعد میں مسلمانوں کی پناہ گاہ بنا، یہ ظاہر کیا کہ اس دور میں بھی عدل کی روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
30مضمون کے مطابق انسانیت کو کس نوعیت کی رہنمائی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی؟
الفایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی
بصرف مقامی سیاسی اصلاح کی
جصرف اقتصادی ترقی کی
دصرف عسکری طاقت کی
مضمون کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ انسانیت کو کسی مقامی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔

موضوع 3۔ حضور اکرم ﷺ کا نسب، ولادت، بچپن، جوانی اور قبل از نبوت زندگی

1نبی کریم ﷺ نے اپنے شرفِ نسب کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟
الفاللہ نے اولادِ اسماعیل میں سے کنانہ کو، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنی ہاشم کو اور بنی ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا
باللہ نے تمام قبائل کو یکساں حیثیت دی
جنسب کی کوئی اہمیت نہیں
دآپ ﷺ نے اپنے نسب کا کبھی ذکر نہیں کیا
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے اپنے نسب کے تدریجی انتخاب کا ذکر انہی الفاظ میں فرمایا۔
2نبی کریم ﷺ کے نسب کے تدریجی انتخاب کی حدیث سے کیا سبق ملتا ہے؟
الفنبوت کے لیے انتخاب اتفاقی نہیں بلکہ ایک بامعنی اور تدریجی عمل تھا
بنسب کی کوئی حیثیت نہیں تھی
جیہ انتخاب مکمل طور پر بے ترتیب تھا
داس حدیث کا کوئی خاص مفہوم نہیں
یہ حدیث اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نبوت کے لیے انتخاب محض اتفاقی امر نہیں تھا بلکہ ایک تدریجی اور بامعنی انتخاب کا نتیجہ تھا۔
3رسول اللہ ﷺ کس قبائلی خاندان سے تعلق رکھتے تھے؟
الفبنی ہاشم
ببنی امیہ
جبنی مخزوم
دبنی عدی
رسول اللہ ﷺ قریش کے معزز خاندان بنی ہاشم سے تعلق رکھتے تھے، جسے مکہ میں خاص عزت حاصل تھی۔
4نبی کریم ﷺ کا نسب کس ہستی کے ذریعے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے؟
الفعدنان
بقحطان
جکنانہ کے بعد کسی نامعلوم شخص
دصرف قریش کے نام سے
آپ ﷺ کا نسب عدنان کے واسطے سے حضرت اسماعیلؑ تک پہنچایا جاتا ہے، جبکہ اس سے اوپر کی تفصیل میں احتیاط برتی جاتی ہے۔
5قرآن مجید کے مطابق اصل فضیلت کس چیز پر منحصر ہے؟
الفنسب اور خاندان پر
بتقویٰ اور عمل پر
جمالی حیثیت پر
دقبائلی طاقت پر
قرآن مجید نے واضح کیا کہ اصل فضیلت نسب کی بجائے تقویٰ اور نیک عمل کی بنیاد پر متعین ہوتی ہے۔
6نبی کریم ﷺ کی ولادت کس واقعے کے قریب ہوئی؟
الفعام الفیل
بغزوۂ بدر
جفتح مکہ
دصلح حدیبیہ
آپ ﷺ کی ولادت مکہ میں عام الفیل کے قریب ہوئی، یعنی اس سال جب ابرہہ نے کعبہ پر حملے کی کوشش کی تھی۔
7نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے پہلے کس کا انتقال ہو چکا تھا؟
الفدادا عبدالمطلب کا
بوالد حضرت عبداللہ کا
جوالدہ آمنہ کا
دچچا ابوطالب کا
آپ ﷺ کی پیدائش سے پہلے ہی آپ کے والد حضرت عبداللہ کا انتقال ہو چکا تھا۔
8چھ برس کی عمر میں نبی کریم ﷺ کو کس کی وفات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا؟
الفدادا عبدالمطلب کی
بوالدہ آمنہ کی
جچچا ابوطالب کی
دحضرت خدیجہؓ کی
چھ برس کی عمر میں آپ ﷺ کی والدہ آمنہ کا انتقال ہوا، جبکہ آٹھ برس کی عمر میں دادا عبدالمطلب کی وفات ہوئی۔
9ولادتِ نبوی ﷺ کی تاریخ کے بارے میں علمی احتیاط کیوں ضروری ہے؟
الفکیونکہ ولادت کا سال ہی نامعلوم ہے
بکیونکہ مہینے اور دن کی تاریخ میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں
جکیونکہ ولادت کا مقام غیر واضح ہے
دکیونکہ اس واقعے کا کوئی ماخذ موجود نہیں
ولادت کا سال عام الفیل کے قریب ہونا معروف ہے، مگر مہینے اور دن کی متعین تاریخ کے بارے میں اہلِ سیر کے اقوال مختلف ہیں۔
10عرب روایت کے مطابق نبی کریم ﷺ نے رضاعت کس کے ہاں پائی؟
الفحضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں
بحضرت خدیجہؓ کے ہاں
جحضرت آمنہ کے ہاں
دام ایمنؓ کے ہاں
آپ ﷺ نے بنو سعد قبیلے میں حضرت حلیمہ سعدیہ کے ہاں رضاعت پائی، جو اس دور کے مکی رواج کے مطابق تھا۔
11صحرائی ماحول نے نبی کریم ﷺ کی تربیت میں کیا کردار ادا کیا؟
الفصرف جسمانی طاقت میں اضافہ کیا
بجسمانی نشوونما اور لسانی فصاحت میں مدد دی
جکوئی خاص کردار ادا نہیں کیا
دصرف تجارتی مہارت پیدا کی
صحرا کی پاکیزہ فضا، فصیح زبان اور سادہ زندگی نے آپ ﷺ کی جسمانی نشوونما اور لسانی تربیت دونوں میں کردار ادا کیا۔
12دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد نبی کریم ﷺ کی کفالت کس نے کی؟
الفچچا ابوطالب نے
بچچا حمزہؓ نے
جحضرت خدیجہؓ نے
دحضرت حلیمہ سعدیہ نے
دادا عبدالمطلب کی وفات کے بعد چچا ابوطالب نے محبت اور ذمہ داری سے آپ ﷺ کی کفالت کی۔
13ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود کیا کیا؟
الفنبی کریم ﷺ کی مخالفت کی
بقریش کے مقابلے میں قبائلی حمایت فراہم کی
جدعوت کو روکنے کی کوشش کی
دمکہ سے ہجرت کر گئے
ابوطالب نے ایمان قبول نہ کرنے کے باوجود قریش کی مخالفت کے مقابلے میں اپنے بھتیجے کو قبائلی حمایت اور تحفظ فراہم کیا۔
14نبی کریم ﷺ کو جوانی میں کن القاب سے یاد کیا جاتا تھا؟
الفالصادق اور الامین
بالفاروق اور الصدیق
جالنجیب اور الکریم
دالحلیم اور الرحیم
دیانت اور وعدے کی پابندی کے باعث اہلِ مکہ آپ ﷺ کو الصادق (سچا) اور الامین (امانت دار) کہا کرتے تھے۔
15جوانی میں بکریاں چرانے کے تجربے نے نبی کریم ﷺ میں کون سی صفات پروان چڑھائیں؟
الفصبر اور نگہداشت جیسی صفات
بصرف مالی منفعت
جصرف جسمانی طاقت
دصرف تجارتی مہارت
بکریاں چرانے سے صبر اور نگہداشت جیسی صفات پروان چڑھیں اور محنت کی عزت عملی طور پر ثابت ہوئی۔
16تجارتی سفروں میں شرکت نے نبی کریم ﷺ کو کیا حاصل کرنے میں مدد دی؟
الفمعاملہ فہمی اور انسانی مزاج کی گہری سمجھ
بصرف مالی منافع
جصرف زبان کی مہارت
دصرف جغرافیائی معلومات
تجارتی سفروں میں شرکت سے آپ ﷺ نے معاملہ فہمی اور انسانی مزاج کی گہری سمجھ حاصل کی۔
17حلف الفضول کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفتجارتی منافع میں اضافہ
بمظلوم کو حق دلانا
جقبائلی جنگ کا آغاز کرنا
دبت پرستی کو فروغ دینا
حلف الفضول مکہ میں مظلوم کا حق دلانے اور طاقتور قبائل کی زیادتی روکنے کے لیے قائم کیا گیا معاہدہ تھا۔
18نبی کریم ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت کیسے یاد کیا؟
الفاسے غیر ضروری قرار دیا
باسے قدر کی نگاہ سے یاد کیا
جاس کا کبھی ذکر نہیں کیا
داسے کالعدم قرار دیا
رسول اللہ ﷺ نے حلف الفضول میں اپنی شرکت کو بعد از نبوت بھی قدر کی نگاہ سے یاد کیا اور اس کی تحسین فرمائی۔
19حضرت خدیجہؓ نے نبی کریم ﷺ سے نکاح کی پیش کش کیوں کی؟
الفآپ کی تجارتی دیانت سے متاثر ہو کر
بسیاسی مصلحت کی بنا پر
جخاندانی دباؤ کی وجہ سے
دمالی فائدے کی خاطر
آپ ﷺ کی تجارتی دیانت اور امانت داری سے متاثر ہو کر حضرت خدیجہؓ نے نکاح کی پیش کش کی۔
20آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں سب سے پہلے کس نے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جحضرت علیؓ نے
دورقہ بن نوفل نے
آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو تسلی دی اور نبوت کی تصدیق کی۔
21قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران کس مسئلے پر نزاع پیدا ہوا؟
الفحجرِ اسود نصب کرنے پر
بتعمیر کے اخراجات پر
جکعبہ کے دروازے کی سمت پر
دتعمیر کے وقت پر
قریش کی تعمیرِ کعبہ کے دوران حجرِ اسود کو نصب کرنے کے حق پر مختلف قبائل کے درمیان شدید نزاع پیدا ہو گیا۔
22نبی کریم ﷺ نے حجرِ اسود کے تنازعے کا کیا حل پیش کیا؟
الفچادر میں رکھوا کر سرداروں سے مشترکہ طور پر اٹھوایا
بقرعہ اندازی کروائی
جتنازعے کو نظر انداز کر دیا
دجنگ کی اجازت دے دی
آپ ﷺ نے حجرِ اسود کو چادر میں رکھوا کر تمام قبائل کے سرداروں کو مشترکہ طور پر اٹھانے کا حکیمانہ حل پیش کیا۔
23حجرِ اسود کے فیصلے سے نبی کریم ﷺ کی کون سی صفت ظاہر ہوتی ہے؟
الفغیر جانب داری اور حکمت
بصرف جسمانی طاقت
جصرف مالی فیاضی
دصرف شاعرانہ صلاحیت
اس فیصلے نے آپ کی غیر معمولی حکمت، غیر جانب داری اور نزاعات حل کرنے کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔
24قبل از نبوت زندگی کے واقعات کو مجموعی طور پر کس نظر سے دیکھا جانا چاہیے؟
الفبے ربط اور غیر متعلق واقعات کے طور پر
بنبوی ذمہ داری کی تدریجی تیاری کے طور پر
جمحض تاریخی تفصیل کے طور پر
دصرف قبائلی رسم و رواج کے طور پر
قبل از نبوت زندگی کے واقعات دراصل ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں تھے جو آئندہ نبوی ذمہ داری کی تیاری ثابت ہوئے۔
25درج ذیل میں سے کون سا بیان خاندانی شرافت اور دینی فضیلت کے تعلق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفخاندانی شرافت نے دعوت کو اخلاقی وزن دیا مگر اصل فضیلت تقویٰ اور عمل پر مبنی ہے
بخاندانی شرافت ہی اصل فضیلت کا واحد معیار ہے
جنسب کا سیرت کے مطالعے سے کوئی تعلق نہیں
دتقویٰ کی کوئی اہمیت نہیں
مضمون کے مطابق خاندانی شرافت نے دعوت کو اخلاقی وزن اور قبولیت عطا کی، لیکن قرآن نے واضح کیا کہ اصل فضیلت تقویٰ اور عمل پر مبنی ہوتی ہے۔
26نبی کریم ﷺ کی پے در پے یتیمی اور صدمات نے کم عمری میں آپ کے اندر کیا پیدا کیا؟
الفصبر، خود انحصاری اور کمزوروں کے دکھ کا گہرا احساس
ببے صبری اور غصہ
جتجارتی حرص
دسماجی تنہائی کا خوف
پے در پے صدموں نے کم عمری ہی میں آپ ﷺ کے اندر صبر، خود انحصاری اور یتیموں کے دکھ کا گہرا احساس پیدا کر دیا۔
27ابوطالب کی کفالت اور حلف الفضول میں شرکت دونوں واقعات مل کر کیا ظاہر کرتے ہیں؟
الفنبی کریم ﷺ کو ابتدا ہی سے خاندانی تحفظ اور معاشرتی عدل کی قدر سے آشنائی حاصل تھی
بان دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جیہ دونوں واقعات غیر اہم تھے
دیہ دونوں واقعات صرف مالی نوعیت کے تھے
ابوطالب کی کفالت نے خاندانی تحفظ فراہم کیا جبکہ حلف الفضول میں شرکت نے عدل کی اجتماعی اہمیت سے آشنا کیا، دونوں مل کر تربیتی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
28حضرت خدیجہؓ کا کردار آغازِ وحی کے موقع پر کیوں خاص اہمیت رکھتا ہے؟
الفوہ سب سے پہلے تسلی دینے اور نبوت کی تصدیق کرنے والی ہستی تھیں
بانہوں نے وحی کے واقعے کو غیر اہم قرار دیا
جانہوں نے نبوت کی تصدیق سے انکار کیا
دان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں تھا
آغازِ وحی کے نازک مرحلے میں حضرت خدیجہؓ ہی سب سے پہلے تھیں جنہوں نے آپ ﷺ کو تسلی دی اور نبوت کی تصدیق کی۔
29حجرِ اسود کے تنازعے کے حل سے متعلق کون سا بیان سب سے درست ہے؟
الفنبی کریم ﷺ کے فیصلے نے تمام قبائل کو مطمئن کرتے ہوئے تنازعے کو پرامن طریقے سے حل کیا
باس فیصلے نے تنازعے کو مزید بڑھایا
جکسی قبیلے نے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا
دیہ فیصلہ طاقت کے زور پر مسلط کیا گیا
چادر کے ذریعے تمام سرداروں کو شریک کرنے کے فیصلے نے تنازعے کو پرامن اور منصفانہ طریقے سے حل کیا اور آپ کی حکمت کو ظاہر کیا۔
30مضمون کے آخر میں قبل از نبوت زندگی کے واقعات کو کس تربیتی سلسلے کی کڑیاں قرار دیا گیا ہے؟
الفیتیمی سے لے کر حجرِ اسود کے فیصلے تک کے واقعات، جو نبوی ذمہ داری کی تیاری تھے
بیہ واقعات بے ترتیب اور غیر متعلق تھے
جصرف تجارتی واقعات کو اہمیت دی گئی
دصرف رضاعت کے واقعے کو اہم قرار دیا گیا
یتیمی، رضاعت، کفالت، تجارت، حلف الفضول اور حجرِ اسود کے فیصلے تک کے تمام واقعات ایک ہی تربیتی سلسلے کی کڑیاں تھے جو چالیس برس کی عمر میں سونپی جانے والی عظیم ذمہ داری کی تیاری ثابت ہوئے۔

موضوع 4۔ بعثتِ نبوی، آغازِ وحی، مقاصدِ رسالت اور عقیدۂ ختمِ نبوت

1نبی کریم ﷺ کو کس عمر میں نبوت سے سرفراز کیا گیا؟
الفچالیس برس
بتیس برس
جپچاس برس
دپینتیس برس
نبی کریم ﷺ کو چالیس برس کی عمر میں غارِ حرا میں پہلی وحی کے ذریعے نبوت سے سرفراز کیا گیا۔
2سورۃ الاحزاب کی آیت ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَسُولَ اللّٰهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ﴾ کن تین پہلوؤں کو یکجا کرتی ہے؟
الفبعثت، رسالت اور ختمِ نبوت
بصرف نسب اور خاندان
جصرف عبادت اور روزہ
دصرف تجارت اور معاشرت
یہ آیت بعثت، رسالت اور ختمِ نبوت کے تینوں پہلوؤں کو ایک ہی سانس میں سمیٹ دیتی ہے۔
3بعثت سے پہلے نبی کریم ﷺ کو کس چیز نے بے چین رکھا؟
الفتجارتی خسارہ
بمکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد
جقبائلی جنگیں صرف
دموسمی مشکلات
بعثت سے پہلے مکہ کی بت پرستی اور اخلاقی فساد آپ ﷺ کو شدید بے چین رکھتا تھا، جس نے خلوت کی طرف مائل کیا۔
4غارِ حرا کی خلوت کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفمعاشرے سے فرار
بآنے والی ذمہ داری کے لیے روحانی تیاری
جتجارتی منصوبہ بندی
دمحض آرام و سکون
غارِ حرا کی خلوت معاشرے سے فرار نہیں بلکہ آنے والی عظیم نبوی ذمہ داری کے لیے ایک گہری روحانی تیاری تھی۔
5پہلی وحی کے موقع پر حضرت جبریلؑ کس مہینے میں حاضر ہوئے؟
الفرمضان
بشعبان
جمحرم
دذوالحجہ
چالیس برس کی عمر میں رمضان کے مبارک مہینے میں حضرت جبریلؑ غارِ حرا میں حاضر ہوئے اور وحی کا آغاز ہوا۔
6پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ کیا تھے؟
الفاقرأ باسم ربک
بیا ایہا المدثر
جقل ھو اللہ احد
دالحمد للہ رب العالمین
پہلی وحی کے ابتدائی الفاظ اقرأ باسم ربک تھے، جنہوں نے علم کو ابتدا ہی سے رب کی معرفت سے جوڑ دیا۔
7پہلی وحی کے تجربے کے بعد گھر لوٹنے پر نبی کریم ﷺ کو سب سے پہلے کس نے تسلی دی؟
الفحضرت ابوبکرؓ نے
بحضرت خدیجہؓ نے
جورقہ بن نوفل نے
دحضرت علیؓ نے
وحی کے تجربے کی ہیبت سے گھر لوٹنے پر حضرت خدیجہؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو چادر اوڑھا کر تسلی دی۔
8ورقہ بن نوفل کی کیا خصوصیت تھی جس کی بنا پر حضرت خدیجہؓ آپ کے پاس گئیں؟
الفوہ ایک تاجر تھے
بوہ سابقہ آسمانی کتابوں سے واقف تھے
جوہ ایک شاعر تھے
دوہ مکہ کے سردار تھے
ورقہ بن نوفل سابقہ آسمانی کتب سے واقفیت رکھتے تھے، اسی لیے حضرت خدیجہؓ آپ ﷺ کو ان کے پاس لے گئیں۔
9ورقہ بن نوفل نے وحی کے فرشتے کے بارے میں کیا کہا؟
الفیہ وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا
بیہ ایک عام خواب ہے
جیہ شیطانی وسوسہ ہے
داس کا کوئی مطلب نہیں
ورقہ نے کہا کہ یہ وہی عظیم ناموس (فرشتہ) ہے جو حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا تھا، اور یہی نبوت کی علامت ہے۔
10پہلی وحی کے بعد کیا واقعہ پیش آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے؟
الفوحی کا سلسلہ مستقل طور پر بند ہو گیا
بایک عرصے کے لیے وحی میں وقفہ آیا
جوحی روزانہ نازل ہونے لگی
دوحی کا آغاز اسی وقت سے ہوا
پہلی وحی کے بعد ایک وقفہ آیا جسے وقفۂ وحی کہا جاتا ہے، اور اس کی مدت کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔
11وقفۂ وحی کے بعد نازل ہونے والی سورت نے کیا حکم دیا؟
الفانذار اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم
بصرف روزے کا حکم
جصرف زکوٰۃ کا حکم
دصرف حج کا حکم
سورۂ مدثر کی ابتدائی آیات نے یا ایہا المدثر کے حکم کے ذریعے انذار اور ظاہری و باطنی پاکیزگی کا راستہ متعین کیا۔
12وحی نے نبی کریم ﷺ کی ذاتی عبادت کو کس چیز میں تبدیل کر دیا؟
الفذاتی عبادت میں محدود رکھا
باجتماعی دعوت اور اصلاح کی ذمہ داری میں
جتجارتی سرگرمی میں
دصرف خاندانی معاملات میں
وحی نے آپ ﷺ کی ذاتی عبادت کو ایک اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی وسیع ذمہ داری میں تبدیل کر دیا۔
13رسالت کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفانسان کو شرک سے نکال کر توحید کی طرف لانا
بصرف عرب کو سیاسی طور پر متحد کرنا
جصرف تجارت کو فروغ دینا
دصرف قبائلی جنگیں ختم کرنا
رسالت کا پہلا اور بنیادی مقصد انسان کو ہر قسم کے شرک سے نکال کر خالص توحید کی طرف لانا تھا۔
14قرآن مجید نے نبوی مشن کے بنیادی اجزا کن چیزوں کو قرار دیا؟
الفتلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور تعلیمِ کتاب و حکمت
بصرف عسکری تربیت
جصرف تجارتی معاہدے
دصرف قبائلی اتحاد
قرآن نے تلاوتِ آیات، تزکیۂ نفس اور کتاب و حکمت کی تعلیم کو نبوی مشن کے بنیادی اجزا قرار دیا۔
15رسالت کے مقاصد کے عملی نتائج کے طور پر قرآن نے کن چیزوں کا ذکر کیا؟
الفعدل، رحمت، اعلیٰ اخلاق اور آخرت کی جواب دہی کا شعور
بصرف تجارتی منافع
جصرف قبائلی اتحاد
دصرف زبانی دعوے
عدل، رحمت، اعلیٰ اخلاق اور آخرت کی جواب دہی کا شعور نبوی مشن کے عملی نتائج کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
16نبی کریم ﷺ کی رسالت کس حد تک محدود تھی؟
الفصرف قریش تک
بصرف مکہ تک
جکسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں تھی
دصرف عرب تک
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر قرار دیا، اس لیے آپ کی رسالت کسی مخصوص نسل یا خطے تک محدود نہیں۔
17قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کو کن الفاظ سے یاد کیا؟
الفتمام جہانوں کے لیے رحمت
بصرف عرب کے لیے رہنما
جصرف قریش کے لیے سردار
دصرف مکہ کے لیے مصلح
قرآن نے آپ ﷺ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر و نذیر اور تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا۔
18قرآن مجید کے مطابق نبی کریم ﷺ کا لقب کیا ہے جو ختمِ نبوت کی دلیل ہے؟
الفخاتم النبیین
بسیدالانبیاء صرف روایتی طور پر
جامام الانبیاء
دصرف رسولِ عرب
سورۂ احزاب میں قرآن نے نبی کریم ﷺ کو خاتم النبیین قرار دیا، جو عقیدۂ ختمِ نبوت کی بنیادی قرآنی دلیل ہے۔
19عقیدۂ ختمِ نبوت کا حقیقی مفہوم کیا ہے؟
الفدین کی بنیادی ہدایت مکمل ہو چکی اور مزید کسی نبی کی ضرورت نہیں
بنبوت کا سلسلہ کسی اور شکل میں جاری ہے
جہر دور میں نیا نبی آ سکتا ہے
دنبوت کا تصور غیر واضح ہے
ختمِ نبوت کا مطلب یہ ہے کہ دین کی بنیادی ہدایت نبی کریم ﷺ کی رسالت پر مکمل ہو چکی، اور امت اسی کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔
20عقیدۂ ختمِ نبوت کا سب سے پہلا عملی تقاضا کیا ہے؟
الفقرآن و سنت کو آخری نبوی ہدایت مان کر کسی نئے مدعیِ نبوت کو رد کرنا
بنئے نبیوں کی تلاش جاری رکھنا
جہر دور میں نئی وحی کا انتظار کرنا
دنبوت کے تصور کو غیر اہم سمجھنا
ختمِ نبوت کا پہلا عملی تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری اور حتمی نبوی ہدایت مانا جائے اور کسی نئے مدعیِ نبوت کو تسلیم نہ کیا جائے۔
21اسلام وحی اور عقل کے بارے میں کیا موقف رکھتا ہے؟
الفدونوں کو باہم دشمن سمجھتا ہے
بدونوں کو ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے
جعقل کو مکمل طور پر رد کرتا ہے
دوحی کو غیر ضروری قرار دیتا ہے
اسلام وحی اور عقل کو باہم دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کا معاون سمجھتا ہے، اور عقل کو وحی کے فہم کے لیے استعمال کرتا ہے۔
22حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق کس ذریعے سے متعین ہوتے ہیں؟
الفانسانی خواہش سے
بوحی سے
جمحض رواج سے
دصرف عقل سے
حلال و حرام اور غیب کے بنیادی حقائق انسانی خواہش کے بجائے وحی سے متعین ہوتے ہیں، تاکہ دین کی بنیاد مستحکم رہے۔
23اسلام میں عقل کا کام کیا بیان کیا گیا ہے؟
الفوحی کے مفہوم کو سمجھنا اور اس کے اطلاق کی صورتیں تلاش کرنا
بوحی کو مکمل طور پر مسترد کرنا
جوحی کا متبادل بننا
ددین کے احکام کو تبدیل کرنا
عقل وحی کے مفہوم کو سمجھتی ہے، اس کے دلائل پر غور کرتی ہے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے اطلاق کی صورتیں تلاش کرتی ہے۔
24مضمون کے اختتام پر بعثت، وحی، مقاصدِ رسالت اور ختمِ نبوت کو مجموعی طور پر کیا قرار دیا گیا ہے؟
الفانسانیت کے لیے ایک حتمی اور دائمی الہامی رہنمائی کا نقطۂ عروج
بایک وقتی اور مقامی واقعہ
جایک نامکمل اور غیر واضح تجربہ
دایک محض تاریخی حادثہ
مجموعی طور پر یہ چاروں پہلو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ نبوت کوئی وقتی یا مقامی واقعہ نہیں بلکہ انسانیت کے لیے ایک حتمی اور دائمی الہامی رہنمائی کا نقطۂ عروج تھی۔
25غارِ حرا کی طویل خلوت کا نتیجہ کیا نکلا؟
الفدل دنیاوی مشاغل سے کٹ کر الہامی پیغام کے استقبال کی یکسوئی تک پہنچا
باس کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوا
جاس سے تجارتی نقصان ہوا
داس سے سماجی تعلقات مضبوط ہوئے
کئی برسوں پر محیط تنہائی نے دل کو دنیاوی مشاغل سے کاٹ کر اس یکسوئی تک پہنچا دیا جہاں الہامی پیغام کے استقبال کی صلاحیت پیدا ہو سکے۔
26پہلی وحی کے تجربے کی نوعیت کو سب سے بہتر کون سا بیان بیان کرتا ہے؟
الفیہ ایک غیر معمولی اور ہیبت ناک الہامی تجربہ تھا جس نے آپ ﷺ کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا
بیہ ایک عام اور معمولی خواب تھا
جاس کا نبوت سے کوئی تعلق نہیں تھا
دیہ محض ایک تاریخی افسانہ ہے
وحی کے پہلے تجربے کی ہیبت اتنی شدید تھی کہ آپ ﷺ کانپتے ہوئے گھر لوٹے، اور یہ واقعہ آپ کی پوری زندگی کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دینے والا ثابت ہوا۔
27ورقہ بن نوفل کی پیش گوئی، کہ آپ کی قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی، کا کیا نتیجہ نکلا؟
الفیہ بعد میں ہجرت کی صورت میں حقیقت ثابت ہوئی
بیہ کبھی درست ثابت نہیں ہوئی
جاس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا
داسے فوراً رد کر دیا گیا
ورقہ کی پیش گوئی، کہ قوم آپ کو مکہ سے نکالے گی، بعد میں ہجرتِ مدینہ کی صورت میں حقیقت ثابت ہوئی۔
28سورۂ مدثر کے نزول اور رسالت کے مقاصد کے مابین کیا ربط ہے؟
الفسورۂ مدثر نے انفرادی عبادت کو اجتماعی دعوت میں بدلا، جو رسالت کے وسیع مقاصد کی طرف پہلا قدم تھا
بدونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جسورۂ مدثر نے دعوت کو محدود کر دیا
دیہ صرف ذاتی عبادت تک محدود رہی
سورۂ مدثر کی آیات نے ذاتی عبادت کو اجتماعی دعوت اور معاشرتی اصلاح کی ذمہ داری میں تبدیل کیا، جو رسالت کے وسیع مقاصد کی طرف پہلا عملی قدم تھا۔
29نبوی رسالت کی عالمگیریت نے دعوتِ اسلام کو کن حدود سے بلند کیا؟
الفزبان، رنگ اور قومیت کی حدود سے
بصرف مکہ کی حدود سے
جصرف قریش کی حدود سے
دصرف عرب کی زبان کی حدود سے
رسالت کی عالمگیریت نے دعوتِ اسلام کو زبان، رنگ اور قومیت کی حدود سے بلند کر کے ایک آفاقی پیغام بنا دیا۔
30عقیدۂ ختمِ نبوت کے تناظر میں کسی نئے مدعیِ نبوت کے بارے میں کیا موقف اپنایا جاتا ہے؟
الفاسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جاتا
باسے قبول کر لیا جاتا ہے
جاس پر کوئی موقف نہیں اپنایا جاتا
داسے صرف جزوی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے
عقیدۂ ختمِ نبوت کا واضح تقاضا یہ ہے کہ قرآن و سنت کو آخری ہدایت مان کر کسی نئے مدعیِ نبوت کو ہرگز تسلیم نہ کیا جائے۔

موضوع 5۔ مکی دور میں دعوتِ اسلام کا آغاز، دعوت کے مراحل اور ابتدائی مسلمان

1اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں نبی کریم ﷺ کو کیا حکم دیا؟
الفاپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ)
بفوراً پوری دنیا کو دعوت دو
جصرف اپنے گھر والوں تک محدود رہو
دہجرت کر جاؤ
ابتدائی حکم یہ تھا کہ ﴿وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ﴾ یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ، جو دعوت کے پہلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
2﴿فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ﴾ کے حکم نے دعوت کے کس مرحلے کی نشاندہی کی؟
الفدعوت کو علانیہ اور واضح انداز میں بیان کرنے کے مرحلے کی
بدعوت کو مکمل طور پر بند کرنے کی
جصرف خاندان تک محدود رہنے کی
دہجرت کی تیاری کی
یہ حکم دعوت کو علانیہ اور واضح انداز میں بیان کرنے کے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جو خفیہ دعوت کے بعد آیا۔
3مکی دعوت کی بنیاد کن اصولوں پر رکھی گئی؟
الفتوحید، آخرت اور اخلاقی جواب دہی
بصرف تجارتی اصلاح
جصرف قبائلی اتحاد
دصرف عسکری تنظیم
مکی دعوت کی بنیاد توحید، آخرت اور اخلاقی جواب دہی کے تین بنیادی ستونوں پر رکھی گئی تھی۔
4رسول اللہ ﷺ نے انسان کو کن دو چیزوں کی غلامی سے آزاد ہونے کی دعوت دی؟
الفبتوں اور طبقاتی بڑائی سے
بتجارت اور زراعت سے
جشاعری اور خطابت سے
دسفر اور تجارت سے
رسول اللہ ﷺ نے انسان کو بتوں کی غلامی اور طبقاتی بڑائی کے تسلط، دونوں سے آزاد ہونے کی دعوت دی۔
5ابتدائی مکی آیات نے ایمان کے ساتھ کن چیزوں پر زور دیا؟
الفعلم، عبادت، انفاق اور کردار سازی
بصرف عسکری تربیت
جصرف مالی منافع
دصرف قبائلی وفاداری
ابتدائی آیات نے ایمان کے ساتھ ساتھ علم، عبادت، انفاق اور کردار سازی پر بھی زور دیا تاکہ عقیدہ عملی طرزِ زندگی بن جائے۔
6دعوت کا ابتدائی مرحلہ کس طریقے سے آگے بڑھا؟
الفعلانیہ تقریروں سے
بخفیہ اور شخصی رابطوں سے
جتحریری خطوط کے ذریعے
دصرف تجارتی سفروں کے دوران
دعوت کا ابتدائی مرحلہ خفیہ اور محدود رہا اور اسے شخصی رابطوں کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔
7خفیہ دعوت کا طریقہ کیوں اختیار کیا گیا؟
الفیہ خوف کی وجہ سے تھا
بیہ نئی جماعت کی حفاظت اور تربیت کی حکمت تھی
جاس کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی
دیہ محض اتفاق تھا
خفیہ دعوت خوف یا کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ نئی ابھرتی ہوئی جماعت کی حفاظت اور تربیت کی ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی تھی۔
8سب سے پہلے ایمان لانے والی ہستی کون تھیں؟
الفحضرت خدیجہؓ
بحضرت ابوبکرؓ
جحضرت علیؓ
دحضرت زید بن حارثہؓ
حضرت خدیجہؓ سب سے پہلے ایمان لائیں اور زندگی کے ہر مرحلے میں رسول اللہ ﷺ کے لیے سب سے بڑا سہارا ثابت ہوئیں۔
9ابتدائی قبول اسلام کرنے والوں میں کن صحابہ کا ذکر ملتا ہے؟
الفحضرت علیؓ، زید بن حارثہؓ اور ابوبکرؓ
بصرف قریش کے سردار
جصرف حبشہ کے باشندے
دصرف مدینہ کے انصار
حضرت علیؓ، حضرت زید بن حارثہؓ اور حضرت ابوبکرؓ ابتدائی قبول اسلام کرنے والوں میں شامل تھے۔
10حضرت ابوبکرؓ نے دعوت کے لیے کن وسائل کو استعمال کیا؟
الفاپنے اعتماد، اخلاق اور سماجی روابط کو
بصرف مالی رشوت کو
جصرف عسکری طاقت کو
دصرف قبائلی دباؤ کو
حضرت ابوبکرؓ نے اپنے اعتماد، اخلاق اور سماجی و تجارتی روابط کو دعوتِ اسلام کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال کیا۔
11حضرت ابوبکرؓ کی کوششوں سے کون سے افراد اسلام لائے؟
الفعثمان بن عفانؓ، زبیر بن عوامؓ اور دیگر
بصرف حبشہ کے باشندے
جصرف قریش کے سردار
دصرف مدینہ کے قبائل
حضرت ابوبکرؓ کی کوششوں سے عثمان بن عفانؓ، زبیر بن عوامؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، سعد بن ابی وقاصؓ اور طلحہ بن عبیداللہؓ اسلام لائے۔
12دارِ ارقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا؟
الفتجارتی سرگرمیوں کے لیے
بابتدائی مسلمانوں کی تعلیم و تربیت کے لیے
جقبائلی جرگوں کے لیے
دصرف قیام گاہ کے طور پر
دارِ ارقم ابتدائی مسلمانوں کی تعلیم اور تربیت کا اہم مرکز بنا جہاں قرآن پڑھایا جاتا اور ایمان مضبوط کیا جاتا تھا۔
13دارِ ارقم میں کیا سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں؟
الفقرآن کی تلاوت، تعلیم اور ایمان کی مضبوطی کی تربیت
بصرف تجارتی معاہدے
جصرف عسکری مشقیں
دصرف قبائلی جرگے
دارِ ارقم میں قرآن کی تلاوت اور تعلیم دی جاتی، ایمان کو تازہ اور مضبوط کیا جاتا، اور مشکلات کے لیے ذہنی و روحانی تیاری کروائی جاتی تھی۔
14علانیہ دعوت کا آغاز کس قرآنی حکم کے بعد ہوا؟
الفقریبی خاندان کو خبردار کرنے کے حکم کے بعد
بہجرت کے حکم کے بعد
ججہاد کے حکم کے بعد
دروزے کے حکم کے بعد
قریبی خاندان کو خبردار کرنے کے قرآنی حکم کے بعد دعوت نے علانیہ صورت اختیار کی۔
15نبی کریم ﷺ نے علانیہ دعوت کے لیے کس مقام کا انتخاب کیا؟
الفصفا کی پہاڑی
بکعبہ کا صحن
جطائف کی وادی
ددارِ ارقم
آپ ﷺ نے صفا کی پہاڑی پر قریش کو جمع کر کے اپنی سچائی کی گواہی لی اور آخرت سے خبردار کیا۔
16علانیہ دعوت کے موقع پر سب سے سخت مخالفت کس نے کی؟
الفابولہب نے
بابوطالب نے
جحضرت حمزہؓ نے
دنجاشی نے
ابولہب نے صفا کی پہاڑی کے موقع پر سخت مخالفت اور نامناسب طرزِ عمل کا مظاہرہ کیا۔
17مکی سورتوں نے کن موضوعات کو بار بار پیش کیا؟
الفتوحید، قیامت اور اخلاقی ذمہ داری
بصرف عسکری قوانین
جصرف وراثت کے احکام
دصرف تجارتی معاہدے
مکی سورتوں نے توحید، قیامت، سابقہ اقوام اور اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات کو بار بار پیش کیا۔
18مکی قرآن نے کمزور مسلمان جماعت کو کیا قوت عطا کی؟
الففوری سیاسی غلبہ
بصبر، نماز اور اخلاقی کردار کی قوت
جمالی وسائل کی کثرت
دعسکری ہتھیار
قرآن نے کمزور جماعت کو فوری سیاسی غلبے کے بجائے صبر، نماز اور کردار کی حقیقی قوت عطا کی۔
19نبوی دعوت میں کون سے اصول ایک ساتھ جمع تھے؟
الفوضوح، تدریج، حکمت اور مخاطب کی رعایت
بصرف جبر اور سختی
جصرف رازداری
دصرف مالی ترغیب
نبوی دعوت میں وضوح، تدریج، حکمت اور مخاطب کی رعایت جیسی خصوصیات ایک ساتھ جمع تھیں۔
20رسول اللہ ﷺ نے دعوت کے دوران کیا سمجھوتا کبھی قبول نہیں کیا؟
الفمراعات کے بدلے اصولی سمجھوتا
بسماجی رابطوں کا سمجھوتا
جتجارتی سمجھوتا
دخاندانی سمجھوتا
آپ ﷺ نے دنیاوی مراعات کے بدلے کسی بھی اصولی سمجھوتے کو کبھی قبول نہیں کیا، چاہے مخالفین نے کتنی ہی پیشکش کی۔
21ابتدائی مسلمانوں کی قربانیوں سے کیا اصول ثابت ہوتا ہے؟
الفدعوت کی کامیابی تعداد سے نہیں بلکہ ایمان اور استقامت سے وابستہ ہے
بدعوت کی کامیابی صرف تعداد پر منحصر ہے
جدعوت کی کامیابی صرف مالی وسائل پر منحصر ہے
ددعوت کی کامیابی کا کوئی اصول نہیں
ابتدائی مسلمانوں نے ثابت کیا کہ دعوت کی کامیابی تعداد سے پہلے ایمان، تربیت اور اخلاقی استقامت سے وابستہ ہے۔
22مضمون کے اختتام پر مکی دعوت کے تدریجی مراحل اور قربانیوں سے کیا سبق اخذ کیا گیا ہے؟
الفحقیقی اصلاحی تحریک عجلت سے نہیں بلکہ صبر، حکمت، تربیت اور اصولی ثابت قدمی سے پروان چڑھتی ہے
باصلاحی تحریک صرف عجلت سے کامیاب ہوتی ہے
جمصلحت آمیز مفاہمت ہی کامیابی کی کنجی ہے
دتعداد کی کثرت ہی سب سے اہم عنصر ہے
مضمون کا حتمی سبق یہ ہے کہ کوئی بھی حقیقی اصلاحی تحریک عجلت یا مصلحت آمیز مفاہمت سے نہیں بلکہ صبر، حکمت، تربیت اور اصولی ثابت قدمی سے پروان چڑھتی ہے۔
23چند مخلص افراد پر مشتمل ابتدائی جماعت آنے والے برسوں میں کیا بن گئی؟
الفایک عالمگیر تحریک جس نے دنیا کے فکری و اخلاقی منظرنامے کو بدل دیا
بایک محدود مقامی گروہ جو جلد ختم ہو گیا
جایک صرف تجارتی تنظیم
داس کا کوئی اثر نہ رہا
یہی اصول تھے جنہوں نے ایک چھوٹی سی مخلص جماعت کو ایک ایسی عالمگیر تحریک میں تبدیل کر دیا جس نے دنیا کے فکری اور اخلاقی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔
24مکی دعوت میں تدریج کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفمقصد چھپانا
بجماعت سازی، تربیت اور مناسب انتظام
جدعوت کو کمزور کرنا
دوقت ضائع کرنا
تدریج مقصد چھپانے کے لیے نہیں بلکہ جماعت سازی، مؤثر تربیت اور حالات کے مناسب انتظام کے لیے اختیار کی گئی۔
25مکی دعوت کے پیغام کی نوعیت آغاز سے کیسی تھی؟
الفابتدا ہی سے مبہم اور غیر واضح
بابتدا ہی سے توحید، آخرت اور اخلاق پر واضح
جصرف علانیہ مرحلے میں واضح ہوئی
دکبھی واضح نہیں ہوئی
دعوت کا بنیادی پیغام ابتدا ہی سے توحید، آخرت اور اخلاق پر واضح اور غیر مبہم تھا، البتہ ابلاغ میں تدریج اختیار کی گئی۔
26ابتدائی نازل ہونے والی آیات نے ایمان کے ساتھ ساتھ کن چیزوں پر زور دیا اور کیوں؟
الفعلم، عبادت، انفاق اور کردار سازی پر، تاکہ عقیدہ محض زبانی دعویٰ نہ رہے
بصرف مالی منفعت پر
جصرف عسکری تربیت پر
دصرف قبائلی روابط پر
ابتدائی آیات نے علم، عبادت، انفاق اور کردار سازی پر زور دیا تاکہ عقیدہ محض دعویٰ نہ رہے بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی بن جائے۔
27سب سے پہلے ایمان لانے والوں کے متنوع پس منظر سے کیا بات واضح ہوتی ہے؟
الفنبوی دعوت نے شروع ہی سے معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنی طرف متوجہ کیا
بدعوت صرف ایک مخصوص طبقے تک محدود تھی
جصرف امیر افراد نے ایمان قبول کیا
دصرف غلام طبقے نے ایمان قبول کیا
ابتدائی مسلمانوں کی مختلف عمریں اور سماجی حیثیتیں ظاہر کرتی ہیں کہ نبوی دعوت کسی ایک مخصوص گروہ کی تحریک نہیں بلکہ ہر طبقے کے لیے تھی۔
28حضرت ابوبکرؓ کی دعوتی کاوشوں سے کیا اصول ثابت ہوتا ہے؟
الفایک باکردار داعی فرد سے فرد تک پہنچ کر پورے سماجی حلقے کو متاثر کر سکتا ہے
بدعوت صرف اجتماعی تقریروں سے پھیلتی ہے
جانفرادی کوشش کا کوئی اثر نہیں ہوتا
ددعوت کے لیے مالی وسائل ہی کافی ہیں
حضرت ابوبکرؓ کی انفرادی اور مخلصانہ کوششوں نے کئی بارسوخ افراد کو اسلام کی طرف مائل کیا، جو اس اصول کی روشن مثال ہے۔
29دعوت کے خفیہ اور علانیہ مراحل کے مابین بنیادی فرق کیا تھا؟
الفخفیہ مرحلہ تربیت اور جماعت سازی پر مرکوز تھا جبکہ علانیہ مرحلے میں پیغام کھلے عام قریش تک پہنچایا گیا
بدونوں مراحل بالکل یکساں تھے
جعلانیہ مرحلہ پہلے آیا
دخفیہ مرحلے میں کوئی تربیت نہیں ہوئی
خفیہ مرحلہ تربیت اور جماعت سازی پر مرکوز تھا، جبکہ علانیہ مرحلے میں صفا کی پہاڑی پر پیغام کھلے عام قریش تک پہنچایا گیا۔
30مکی سورتوں کے تربیتی کردار کو سب سے بہتر کون سا بیان بیان کرتا ہے؟
الفان سورتوں نے دل، عقل اور ضمیر کو بیک وقت بیدار کر کے نئے مسلمانوں کو آزمائشوں کے لیے تیار کیا
بان سورتوں کا کوئی تربیتی مقصد نہیں تھا
جان سورتوں نے صرف قانونی احکام دیے
دان سورتوں نے فوری سیاسی غلبہ فراہم کیا
مختصر مگر پراثر مکی آیات نے دل، عقل اور ضمیر تینوں کو بیدار کر کے نئے مسلمانوں کے ایمان کو آزمائشوں کے لیے تیار کیا۔

موضوع 6۔ قریش کی مخالفت، مسلمانوں پر مظالم، ہجرتِ حبشہ اور شعبِ ابی طالب کا محاصرہ

1اس دور کی داستان کو سیرت میں کس چیز کا عملی ثبوت قرار دیا گیا ہے؟
الفیہ ثابت کرتی ہے کہ حق کی دعوت جب مفادات کو ہلاتی ہے تو مزاحمت شدید ہوتی ہے
بیہ صرف قریش کی تجارتی حکمتِ عملی کا بیان ہے
جیہ محض جغرافیائی واقعات کا ریکارڈ ہے
داس کا کوئی خاص مقصد بیان نہیں کیا گیا
یہ دور اس بات کا ثبوت ہے کہ حق کی دعوت جب انسانوں کے مفادات اور عقیدے کی جڑوں کو ہلاتی ہے تو مزاحمت شدت سے سامنے آتی ہے۔
2سورۃ الزمر کی آیت ﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ...﴾ کس بات کی تسلی دیتی ہے؟
الفصبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا
بمظلوموں کو دنیا میں فوری بدلہ ملے گا
جقریش کو معافی مل جائے گی
دہجرت واجب نہیں تھی
یہ آیت مظلوم اہلِ ایمان کو تسلی دیتی ہے کہ صابرین کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا۔
3قریش کی مخالفت کا سب سے بنیادی مذہبی سبب کیا تھا؟
الفتوحید کے اعلان نے کعبہ سے وابستہ بت پرستانہ نظام اور قریش کی مذہبی پیشوائی کو چیلنج کیا
بمسلمانوں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا تھا
جرسول اللہ ﷺ نے تجارتی راستے تبدیل کر دیے تھے
دقریش کے سردار آپس میں سیاسی اختلافات کا شکار تھے
توحید کا اعلان بتوں کی خدمت اور کعبہ سے وابستہ قریشی اقتدار کے لیے براہِ راست خطرہ تھا۔
4آخرت اور جواب دہی کے عقیدے نے قریش کے کس رویے کو للکارا؟
الفاس بے لگام سماجی اختیار کو جس میں طاقتور جواب دہ نہیں سمجھا جاتا تھا
بتجارتی منافع کے نظام کو
جحج کی رسومات کو
دقبائلی نسب کے فخر کو
آخرت اور جواب دہی کے تصور نے اس بے لگام سماجی طاقت کو چیلنج کیا جس کے تحت طاقتور اپنے افعال پر جواب دہ نہیں سمجھا جاتا تھا۔
5اسلامی مساوات نے قریشی اشرافیہ کو کیوں ناگوار گزری؟
الفاس نے نسب، دولت اور غلامی پر قائم طبقاتی امتیاز کو للکارا
باس نے تجارت پر نیا ٹیکس لگا دیا
جاس نے حج کے مقامات بدل دیے
داس نے قریش کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کیا
اسلام کی مساوات نے نسبی اور طبقاتی برتری کے اس نظام کو للکارا جس پر قریشی اشرافیہ کی سرداری قائم تھی۔
6درج ذیل میں سے کون سا بیان قریش کی مخالفت کی اصل نوعیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفیہ خالص نظریاتی اختلاف تھا
بیہ اقتدار، وقار اور معاشی مفاد کا مشترکہ ردعمل تھا
جیہ صرف ذاتی دشمنیوں کا نتیجہ تھا
دیہ محض تجارتی مقابلے کا مسئلہ تھا
مخالفت محض عقائد کا اختلاف نہیں تھی بلکہ اقتدار، وقار اور مفاد کا مشترکہ ردعمل تھی۔
7قریش نے دعوتِ اسلام کے خلاف سب سے پہلے کون سا حربہ استعمال کیا؟
الففوری طور پر مسلح تصادم کیا
بتمسخر، الزام تراشی اور نفسیاتی دباؤ کا سہارا لیا
جتمام مسلمانوں کو مکہ سے نکال دیا
دنجاشی کے دربار میں شکایت کی
ابتدائی مرحلے میں قریش نے تشدد کے بجائے تمسخر اور نفسیاتی دباؤ کے ذریعے دعوت کو روکنے کی کوشش کی۔
8رسول اللہ ﷺ کے خلاف قریش نے کون سے الزامات لگائے جن کی قرآن نے تردید کی؟
الفشاعر، ساحر اور مجنون ہونے کے الزامات
بتاجر اور مسافر ہونے کے الزامات
جقبیلے کا سردار بننے کے الزامات
دحج کا انتظام سنبھالنے کے الزامات
قریش نے آپ ﷺ کو شاعر، ساحر اور مجنون کہا، جن کی قرآن کریم میں واضح تردید نازل ہوئی۔
9جب تمسخر اور مراعات کی پیشکش دونوں ناکام ہوئیں تو قریش نے بالآخر کیا راستہ اپنایا؟
الفدعوت سے دستبردار ہو گئے
بمعاشرتی اور جسمانی تشدد کا راستہ اختیار کیا
جنجاشی سے مدد مانگی
داسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے
جب نرم حربے ناکام ہوئے تو قریش نے کمزور مسلمانوں پر معاشرتی اور جسمانی تشدد شروع کر دیا۔
10مخالفت کے تدریجی سخت ہوتے جانے سے کیا بات ظاہر ہوتی ہے؟
الفقریش کے پاس دلیل کی کمی تھی اسی لیے وہ تشدد کی طرف بڑھے
بقریش ابتدا ہی سے متشدد تھے
جمسلمان کمزور تھے اسی لیے مذاق اڑایا گیا
دقریش کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوا تھا
استہزا سے دباؤ اور بالآخر براہِ راست اذیت کی طرف بڑھنا ظاہر کرتا ہے کہ مخالفین کے پاس دلیل کی کمی تھی۔
11وہ مسلمان جو مخالفت کا سب سے زیادہ نشانہ بنے، ان کی مشترکہ خصوصیت کیا تھی؟
الفان کے پاس قبائلی تحفظ نہیں تھا
بوہ سب امیر تاجر تھے
جوہ سب مکہ کے باہر رہتے تھے
دوہ سب قریش کے رشتہ دار تھے
غلام، خواتین اور کمزور طبقات، جن کے پاس قبائلی تحفظ نہیں تھا، مظالم کا سب سے زیادہ نشانہ بنے۔
12حضرت بلالؓ کو کس اذیت کا سامنا کرنا پڑا؟
الفانہیں مکہ سے جلاوطن کر دیا گیا
بانہیں تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا
جان کا سارا مال ضبط کر لیا گیا
دانہیں غار میں قید کر دیا گیا
حضرت بلالؓ کو مکہ کی تپتی دھوپ میں ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھا جاتا تھا، مگر وہ ثابت قدم رہے۔
13اسلام کی پہلی شہیدہ کون سی خاتون قرار پائیں؟
الفحضرت خدیجہؓ
بحضرت سمیہؓ
جحضرت اسماءؓ
دحضرت ام سلمہؓ
حضرت سمیہؓ کو بنو مخزوم کی اذیتوں کے نتیجے میں شہید کیا گیا اور وہ اسلام کی پہلی شہیدہ قرار پائیں۔
14قرآن نے حضرت عمارؓ کے واقعے سے کون سا فقہی اصول واضح کیا؟
الفجان کے خطرے میں دل کے ایمان کے ساتھ زبانی اکراہ کی گنجائش
بہر حال میں فوراً ہجرت کر جانا واجب ہے
جاذیت کے وقت جوابی تشدد جائز ہے
دمشکل میں دین چھپانا ہمیشہ ممنوع ہے
اگر دل ایمان پر مطمئن ہو تو جان کے شدید خطرے میں زبان سے نکلنے والے مجبوری کے الفاظ کی شرعی رعایت ہے۔
15آلِ یاسر کے واقعے سے سب سے اہم سبق کیا ملتا ہے؟
الفنبوی جماعت کی قوت مال اور تعداد میں تھی
بنبوی جماعت کی قوت ایمان اور اخلاقی استقامت میں تھی
جاذیت کے مقابلے میں انتقام لینا ضروری تھا
دکمزور مسلمانوں کو دعوت سے الگ رکھا گیا تھا
آلِ یاسر کی قربانی نے ثابت کیا کہ ابتدائی مسلمانوں کی اصل طاقت مادی وسائل میں نہیں بلکہ ایمان کی استقامت میں تھی۔
16رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو حبشہ جانے کی اجازت کیوں دی؟
الفکیونکہ وہاں تجارت کے بہتر مواقع تھے
بکیونکہ وہاں نجاشی نامی عادل بادشاہ حکومت کرتا تھا
جکیونکہ حبشہ مکہ سے قریب تر تھا
دکیونکہ وہاں پہلے سے مسلمان آباد تھے
حبشہ کے بادشاہ نجاشی کے عدل کی شہرت کے باعث رسول اللہ ﷺ نے مظلوم مسلمانوں کو وہاں پناہ لینے کی اجازت دی۔
17ہجرتِ حبشہ سے کون سا اہم اصول اخذ ہوتا ہے؟
الفمسلمان کبھی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ نہیں رہ سکتے
بعدل فراہم کرنے والی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ عارضی پناہ جائز ہے
جہجرت صرف مسلح مزاحمت کے بعد کی جا سکتی ہے
دہجرت کا مقصد صرف تجارتی فائدہ حاصل کرنا تھا
ہجرتِ حبشہ نے یہ اصول قائم کیا کہ عدل و آزادی دینے والی غیر مسلم حکومت کے زیرِ سایہ عارضی پناہ لی جا سکتی ہے۔
18قریش نے نجاشی کے دربار میں مہاجرین کو واپس لانے کے لیے کن کو بھیجا؟
الفابوجہل اور ابولہب
بعمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ
جخالد بن ولید اور عکرمہ
دابوسفیان اور ولید بن مغیرہ
قریش نے عمرو بن العاص اور عبداللہ بن ابی ربیعہ کو تحائف کے ساتھ نجاشی کے دربار بھیجا۔
19نجاشی کے دربار میں کس صحابی نے اسلام کا جامع تعارف پیش کیا؟
الفحضرت جعفر بن ابی طالبؓ
بحضرت عمر بن خطابؓ
جحضرت عثمان بن عفانؓ
دحضرت زید بن حارثہؓ
حضرت جعفر بن ابی طالبؓ نے نجاشی کے دربار میں جاہلیت، نبوی دعوت اور اسلامی اخلاق کا جامع تعارف پیش کیا۔
20سورۂ مریم کی کن آیات نے نجاشی کو متاثر کیا؟
الفحضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعے سے متعلق آیات
بحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے متعلق آیات
جقیامت کے مناظر سے متعلق آیات
دحج کے احکام سے متعلق آیات
حضرت جعفرؓ نے وہ آیات تلاوت کیں جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر تھا، جس سے نجاشی متاثر ہوئے۔
21نجاشی کے واقعے سے یہ کیوں ثابت ہوتا ہے کہ اخلاقِ حسنہ کا اثر مذہبی سرحدوں سے ماورا ہے؟
الفکیونکہ ایک غیر مسلم بادشاہ سچائی سے متاثر ہو کر مہاجرین کی حمایت میں کھڑا ہو گیا
بکیونکہ نجاشی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا
جکیونکہ قریش کے نمائندے کامیاب ہو گئے تھے
دکیونکہ نجاشی نے مہاجرین کو واپس بھیج دیا
نجاشی نے سچی دعوت اور اخلاق سے متاثر ہو کر مہاجرین کو واپس کرنے سے صاف انکار کر دیا، جو اخلاق کے آفاقی اثر کی دلیل ہے۔
22شعبِ ابی طالب کے محاصرے میں قریش نے کیا اقدام کیا؟
الفبنو ہاشم اور بنو مطلب سے سماجی و معاشی مقاطعے کا معاہدہ کیا
بتمام مسلمانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا
جمکہ کی حدود سے مسلمانوں کو نکال باہر کیا
دکعبہ کو بند کر دیا
قریش نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف رشتہ داری اور تجارت پر پابندی کا معاہدہ لکھ کر کعبہ میں آویزاں کیا۔
23محاصرے میں ابوطالب کے مسلمان نہ ہونے کے باوجود ان کے شامل ہونے کی وجہ کیا تھی؟
الفقبائلی حمیت میں انہوں نے اپنے بھتیجے کا ساتھ دیا
بوہ خفیہ طور پر مسلمان ہو چکے تھے
جانہیں مجبور کیا گیا تھا
دوہ تجارتی مفاد کے لیے شامل ہوئے
ابوطالب اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے، مگر قبائلی حمیت کی بنا پر اپنے بھتیجے کے ساتھ محاصرے میں شامل رہے۔
24محاصرے کے دوران مسلمانوں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟
الفخوراک کی شدید قلت کے باعث پتے اور چمڑا تک کھانا پڑا
بانہیں فوجی تربیت دی گئی
جانہیں مکہ سے مکمل طور پر نکال دیا گیا
دانہیں تجارتی اجارہ داری دی گئی
محاصرے کے دوران خوراک کی اس قدر قلت ہوئی کہ محصورین کو درختوں کے پتے اور خشک چمڑا تک کھانا پڑا۔
25شعبِ ابی طالب کا محاصرہ کن افراد کی کوششوں سے ختم ہوا؟
الفابوجہل اور ولید بن مغیرہ کی کوششوں سے
بہشام بن عمرو جیسے انصاف پسند افراد کی کوششوں سے
جنجاشی کی مداخلت سے
دخالد بن ولید کی سفارش سے
مکہ کے چند غیرت مند افراد، خصوصاً ہشام بن عمرو، نے ظالمانہ صحیفے کے خلاف آواز اٹھا کر محاصرے کا خاتمہ کرایا۔
26ظالمانہ صحیفے کے بارے میں کیا انکشاف ہوا جس نے محاصرہ ختم کرنے میں مدد دی؟
الفاس پر جعلی دستخط پائے گئے
بدیمک نے اسے چاٹ لیا تھا سوائے اللہ کے نام کے
جوہ کبھی موجود ہی نہیں تھا
داسے مکہ کے باہر منتقل کر دیا گیا تھا
معلوم ہوا کہ دیمک نے صحیفے کا بیشتر حصہ چاٹ لیا تھا اور صرف اللہ کے نام والا حصہ محفوظ رہا۔
27درج ذیل میں سے کون سا بیان محاصرے کے خاتمے کے سبق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفظلم کے خلاف انصاف پسند آوازیں ہر معاشرے میں موجود رہتی ہیں اور بروقت مؤثر ثابت ہوتی ہیں
بمحاصرہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا تھا
جصرف مسلح مزاحمت ہی محاصرہ ختم کر سکتی تھی
دمحاصرے کا خاتمہ اتفاقی اور بے معنی واقعہ تھا
محاصرے کا خاتمہ سکھاتا ہے کہ ظلم کے خلاف انصاف پسند آوازیں ہر معاشرے میں موجود رہتی ہیں اور بروقت سامنے آئیں تو مؤثر ہوتی ہیں۔
28اس پورے دور کے واقعات سے مجموعی طور پر کیا سبق اخذ ہوتا ہے؟
الفمخالفت نے دعوت کو ختم کرنے کے بجائے اس کے اخلاقی وزن میں اضافہ کیا
بمخالفت نے دعوت کو مکمل طور پر ختم کر دیا
جصبر اور تدبیر کا کوئی کردار نہیں تھا
دمحاصرہ اور ہجرت غیر متعلق واقعات تھے
ان تمام واقعات کا مجموعی سبق یہ ہے کہ ظلم اور مخالفت نے دعوت کی اخلاقی قوت اور کشش کو مزید بڑھا دیا۔
29قریش کی مخالفت کے دوران رسول اللہ ﷺ کی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت کیا تھی؟
الفاصولوں پر ثابت قدمی اور جائز تدبیر کا امتزاج
بہر مرحلے پر سمجھوتہ کر لینا
جمکمل خاموشی اختیار کرنا
دفوری مسلح مزاحمت کرنا
نبوی حکمتِ عملی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر جائز عملی تدبیر بھی اختیار کی گئی۔
30اس دور کے واقعات آج کے مظلوم طبقات کے لیے کیا رہنمائی فراہم کرتے ہیں؟
الفعزم، اخلاقی برتری اور دانشمندانہ تدبیر مل کر ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں
بصرف صبر ہی کافی ہے، تدبیر کی ضرورت نہیں
جمظلوم کو ہمیشہ خاموش رہنا چاہیے
دمزاحمت کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی
یہ واقعات رہنمائی دیتے ہیں کہ عزم، اخلاقی برتری اور دانشمندانہ تدبیر مل کر ہی حقیقی کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔

موضوع 7۔ عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ

1اس دور کو سیرت کا نازک موڑ کیوں قرار دیا گیا ہے؟
الفکیونکہ انسانی تنہائی کی انتہا کے فوراً بعد وحی نے روحانی سہارا اور آئندہ کامیابی کی راہ ہموار کی
بکیونکہ اس میں کوئی اہم واقعہ پیش نہیں آیا
جکیونکہ یہ دور مکمل طور پر پرسکون تھا
دکیونکہ اس میں صرف جنگی واقعات پیش آئے
یہ دور اس لیے نازک موڑ ہے کہ شدید غم کے فوراً بعد وحی نے روحانی سہارا فراہم کیا اور ہجرت و ریاست سازی کی راہ ہموار کی۔
2سورۃ الإسراء کی ابتدائی آیت کس واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
الفہجرتِ مدینہ کی طرف
بمسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک رات کے سفر کی طرف
جغزوۂ بدر کی طرف
دبیعتِ عقبہ کی طرف
آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا ذکر کرتا ہے۔
3نبوت کے دسویں سال کو عام الحزن کیوں کہا جاتا ہے؟
الفاس سال قحط پڑا تھا
باس سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات تقریباً ایک ساتھ ہوئی
جاس سال ہجرتِ مدینہ واقع ہوئی
داس سال جنگِ بدر لڑی گئی
نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات قریب قریب ہوئی، جس کی وجہ سے اسے عام الحزن کہا جاتا ہے۔
4حضرت خدیجہؓ کی وفات ذاتی طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے کیوں گہرا صدمہ تھی؟
الفوہ آپ ﷺ کی اولین مصدقہ اور ہر مشکل میں سہارا تھیں
بوہ مکہ کی سب سے دولت مند خاتون تھیں
جوہ قریش کی رہنما تھیں
دوہ ہجرتِ حبشہ کی قیادت کرتی تھیں
حضرت خدیجہؓ گھر کی رفیق، ہر مشکل میں سہارا اور آغازِ وحی کی سب سے پہلی مصدقہ تھیں، اس لیے ان کی وفات گہرا صدمہ تھی۔
5ابوطالب کی وفات کے بعد قریش کی جسارت میں اضافہ کیوں ہوا؟
الفکیونکہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی تھی
بکیونکہ قبائلی تحفظ کی چھتری ختم ہو گئی تھی
جکیونکہ آپ ﷺ نے مکہ چھوڑ دیا تھا
دکیونکہ ابوطالب نے قریش سے معاہدہ کیا تھا
ابوطالب قبائلی حمیت کی بنا پر حفاظت کرتے تھے، ان کی وفات سے یہ تحفظ ختم ہوا اور قریش کی جسارت بڑھ گئی۔
6طائف کے سفر کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفثقیف کے سرداروں سے دعوت اور ممکنہ تحفظ حاصل کرنا
بتجارتی معاہدہ کرنا
جحج کی تیاری کرنا
دنجاشی سے ملاقات کرنا
رسول اللہ ﷺ نے طائف کا سفر ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوت پیش کرنے اور تحفظ حاصل کرنے کے لیے کیا۔
7طائف میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
الفسرداروں نے دعوت قبول کر لی
باوباش لڑکوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کو زخمی کر دیا
جانہیں شہر کا سردار بنا دیا گیا
دانہیں تحفے دیے گئے
ثقیف کے سرداروں نے دعوت رد کر دی اور اوباش لڑکوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے پتھراؤ کیا۔
8طائف کی اذیت کے بعد آپ ﷺ نے فرشتے کی پیشکش پر کیا جواب دیا؟
الفانتقام کی اجازت دے دی
بانتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا کی
جفوری بددعا کی
دخاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا
فرشتے کی پیشکش کے باوجود آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔
9درج ذیل میں سے کون سا بیان طائف کی دعا کے اصول کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفصبر اور آئندہ نسلوں کی ہدایت کی امید انتقام پر مقدم ہے
بفوری انتقام ہمیشہ ضروری ہے
جاذیت دینے والوں کو کبھی معاف نہیں کرنا چاہیے
ددعا کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہوتا
آپ ﷺ کی دعا نبوی رحمت اور بلند حوصلگی کی مثال ہے جس میں صبر اور امید کو انتقام پر ترجیح دی گئی۔
10طائف سے واپسی پر نخلہ کے مقام پر کون سا واقعہ پیش آیا؟
الفایک تجارتی قافلہ ملا
بجنات کی جماعت نے تلاوت سن کر ایمان قبول کیا
جبارش کا معجزہ ہوا
دمطعم بن عدی سے ملاقات ہوئی
نخلہ کے مقام پر جنات کی ایک جماعت نے آپ ﷺ کی تلاوت سنی، ایمان لے آئی اور اپنی قوم میں دعوت پہنچائی۔
11نخلہ کا واقعہ نبوی مشن کی کس خصوصیت کی علامت ہے؟
الفاس کی آفاقیت اور غیب کی دنیا تک وسعت کی
بصرف انسانوں تک محدود ہونے کی
جناکامی اور مسترد ہونے کی
دصرف عرب قبائل تک محدود ہونے کی
جس وقت انسانوں کی اکثریت نے دعوت مسترد کی، عین اسی وقت جنات نے اسے قبول کیا، جو دعوت کی آفاقیت ظاہر کرتا ہے۔
12مکہ میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے آپ ﷺ نے کس سے پناہ طلب کی؟
الفابوجہل سے
بمطعم بن عدی سے
جولید بن مغیرہ سے
دابولہب سے
مکہ میں بغیر پناہ کے داخل ہونا خطرناک تھا، اس لیے آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار طلب کی۔
13مطعم بن عدی سے پناہ لینے کے واقعے سے کیا اصول ملتا ہے؟
الفجائز سماجی تعلقات سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں
بغیر مسلموں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں
جپناہ لینا ہمیشہ کمزوری کی علامت ہے
داسبابِ ظاہری اختیار کرنا سنتِ الٰہی کے خلاف ہے
اس واقعے سے یہ اصول ملتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور تحفظ سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں بلکہ سنتِ الٰہی کا حصہ ہے۔
14اسراء کا سفر کن دو مقامات کے درمیان ہوا؟
الفمکہ اور طائف کے درمیان
بمسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے درمیان
جمدینہ اور بدر کے درمیان
دحبشہ اور مکہ کے درمیان
قرآن کریم کے مطابق اسراء کا سفر مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک ایک ہی رات میں طے کیا گیا۔
15معراج کے موقع پر ابتدا میں کتنی نمازیں فرض کی گئیں؟
الفپانچ
بدس
جپچاس
دسو
معراج کی رات ابتدا میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، جو بعد میں پانچ رہ گئیں مگر اجر پچاس کے برابر رکھا گیا۔
16معراج کی رات نمازوں کی تعداد پچاس سے پانچ ہونے کا سبب کیا بنا؟
الفحضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے پر بار بار سفارش
بنجاشی کی درخواست
جابوبکرؓ کی تجویز
دقریش کے اعتراضات
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے پر بار بار تخفیف کی سفارش کی گئی، جس کے نتیجے میں نمازیں پانچ رہ گئیں۔
17اسراء و معراج کی متعین تاریخ کے بارے میں محتاط علمی موقف کیا ہے؟
الف27 رجب کو حتمی تاریخی حقیقت مانا جاتا ہے
باصل واقعہ ثابت ہے مگر تاریخ کی قطعی تعیین میں اختلاف ہے
جیہ واقعہ کسی مستند ماخذ سے ثابت نہیں
داس کی کوئی تاریخ کبھی بیان نہیں کی گئی
اصل واقعہ ثابت ہے مگر اس کے سال، مہینے اور رات کی قطعی تعیین میں اہلِ علم کے متعدد اقوال ہیں۔
18درج ذیل میں سے کون سا بیان معراج کی اہمیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفیہ محض ایک حیرت انگیز واقعہ تھا جس کا کوئی عملی فائدہ نہیں
بنماز کی فرضیت کے ذریعے یہ عبادت اور روحانی مرکزیت کا اعلان تھا
جیہ صرف قریش کو خوفزدہ کرنے کے لیے تھا
داس کا مقصد صرف جغرافیائی سفر تھا
معراج محض حیرت انگیز واقعہ نہیں تھا بلکہ عبادت، یقین اور نبوی مرکزیت کے اعلان کا موقع تھا جس نے نماز کا تحفہ دیا۔
19یثرب میں اسلام کی قبولیت کی ایک بڑی سماجی وجہ کیا تھی؟
الفاوس و خزرج کی طویل باہمی جنگ و جدل
بیثرب کی معاشی خوشحالی
جیثرب کا مکہ سے قریب ہونا
دیثرب میں یہودیوں کی عدم موجودگی
اوس اور خزرج کے درمیان دیرینہ جنگ و جدل نے ایک متحد کرنے والی قیادت کی ضرورت پیدا کر دی، جس نے اسلام کی راہ ہموار کی۔
20یثرب کے نوجوانوں تک دعوت کیسے پہنچی؟
الفحج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت سن کر
بنجاشی کے ذریعے
جتجارتی خط و کتابت سے
دابوبکرؓ کے سفر سے
حج کے موسم میں یثرب کے چند نوجوانوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت سنی، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر دعوت دی۔
21بیعتِ عقبہ اولیٰ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفمسلح جہاد کا عہد
بشرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد
جمکہ پر حملے کا عہد
دتجارتی شراکت کا عہد
بیعتِ عقبہ اولیٰ میں یثرب کے مسلمانوں نے شرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد کیا۔
22رسول اللہ ﷺ نے یثرب میں تعلیمِ قرآن کے لیے کسے بھیجا؟
الفحضرت بلالؓ کو
بحضرت مصعب بن عمیرؓ کو
جحضرت عمار بن یاسرؓ کو
دحضرت زید بن حارثہؓ کو
آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجا، جنہوں نے اپنی حکمت سے متعدد بااثر گھرانوں میں اسلام پھیلایا۔
23حضرت مصعب بن عمیرؓ کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب کیا تھا؟
الفان کی حکمت، نرم خوئی اور مدلل گفتگو
بان کی مالی دولت
جان کا قبائلی رسوخ
دان کی مسلح قوت
حضرت مصعبؓ نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے یثرب کے بااثر گھرانوں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔
24بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کتنے افراد شریک ہوئے؟
الفبارہ افراد
بستر سے زائد افراد
جتین افراد
دایک ہزار افراد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور حفاظت و اطاعت کا عہد کیا۔
25بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفصرف تجارتی تعاون کا عہد
برسول اللہ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد
جصرف زکوٰۃ ادا کرنے کا عہد
دصرف حج ادا کرنے کا عہد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں یثرب کے نمائندوں نے آپ ﷺ کی حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا۔
26بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر کتنے نقباء مقرر کیے گئے؟
الفپانچ
ببارہ
جبیس
دستر
اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندے اور نگران تھے۔
27بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کیا اقدام کیا؟
الففوری طور پر خود ہجرت کر گئے
بمسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی
جطائف واپس چلے گئے
دنجاشی کے پاس چلے گئے
بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
28بیعتِ عقبہ ثانیہ کو ہجرتِ مدینہ کی تیاری کے لیے کیوں فیصلہ کن قرار دیا جاتا ہے؟
الفکیونکہ اس نے مدینہ میں ایک محفوظ اجتماعی مرکز کی عملی بنیاد رکھی
بکیونکہ اس میں مکہ فتح کرنے کا فیصلہ ہوا
جکیونکہ اس میں تجارتی معاہدہ طے پایا
دکیونکہ اس نے قریش کے ساتھ صلح کرائی
بیعتِ عقبہ ثانیہ کا عہد مدینہ میں ایک محفوظ اور منظم اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بنا۔
29عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کے واقعات کا مجموعی سبق کیا ہے؟
الفشدید غم کے بعد آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی کا سلسلہ سامنے آیا
بان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جیہ صرف ذاتی نوعیت کے واقعات تھے
دان سے کوئی دعوتی سبق نہیں ملتا
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ شدید انسانی غم کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے روحانی تسلی اور زمینی کامیابی، دونوں کی راہ ہموار کی۔
30اس پورے دور سے یہ بات کیسے ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کس طرح کرتا ہے؟
الفمشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو تسلی اور آئندہ کامیابی دونوں کا سامان بنتی ہیں
بنیک بندوں کو ہمیشہ ہر مشکل سے محفوظ رکھتا ہے
جصرف مالی نعمتوں کے ذریعے مدد کرتا ہے
دکامیابی ہمیشہ فوری اور بلا آزمائش ملتی ہے
عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کا سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو شدید مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا کرتا ہے جو تسلی کے ساتھ آئندہ کامیابیوں کی راہ بھی ہموار کرتی ہیں۔

موضوع 8۔ ہجرتِ مدینہ: اسباب، منصوبہ بندی، اہم واقعات اور تاریخی اثرات

1ہجرتِ مدینہ کو محض جغرافیائی نقل مکانی کیوں نہیں کہا جا سکتا؟
الفکیونکہ یہ ایک حکیمانہ اور مربوط منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی جس میں توکل اور تدبیر دونوں شامل تھیں
بکیونکہ اس میں کسی قسم کی منصوبہ بندی نہیں تھی
جکیونکہ یہ صرف تجارتی سفر تھا
دکیونکہ اس کا کوئی تاریخی اثر نہیں تھا
ہجرت ایک ایسی حکیمانہ اور مربوط منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی جس میں توکل اور تدبیر دونوں نے مل کر نئی تاریخ رقم کی۔
2غارِ ثور کے موقع پر قرآن نے کون سی تسلی نازل فرمائی؟
الفلا تحزن ان اللہ معنا
بانا فتحنا لک فتحا مبینا
جان مع العسر یسرا
دو اصبروا ان اللہ مع الصابرین
غارِ ثور میں حضرت ابوبکرؓ کی پریشانی پر رسول اللہ ﷺ نے تسلی دی جس کا ذکر 'لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا' کے الفاظ میں آیا۔
3یہ آیت ہجرت کے پورے سفر کی روح کیوں سمجھی جاتی ہے؟
الفکیونکہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ حقیقی حفاظت اللہ کی معیت اور سکینت سے ہی ممکن ہوئی
بکیونکہ اس میں ہجرت کی تاریخ بتائی گئی ہے
جکیونکہ اس میں مدینہ کے نام کا ذکر ہے
دکیونکہ اس میں جنگی حکمتِ عملی بیان کی گئی ہے
یہ آیت بتاتی ہے کہ انسانی تدبیر اپنی جگہ، مگر حقیقی حفاظت اللہ کی معیت اور نازل کردہ سکون سے ہی ممکن ہوئی۔
4ہجرتِ مدینہ کا بنیادی سبب کیا تھا؟
الفمکہ میں مذہبی آزادی ختم ہونا اور اہلِ ایمان کی جانوں کو خطرہ
بمکہ میں معاشی خوشحالی کی کمی
جمکہ کا موسم ناموافق ہونا
دتجارتی راستوں کی بندش
مکہ میں مذہبی آزادی مکمل طور پر ختم ہو چکی تھی اور اہلِ ایمان کی جانیں مسلسل خطرے میں تھیں۔
5بیعتِ عقبہ ثانیہ نے ہجرت کے فیصلے کو کیسے ممکن بنایا؟
الفاس نے یثرب میں ایک معاون جماعت اور محفوظ ماحول فراہم کیا
باس نے قریش سے صلح کرائی
جاس نے مکہ میں امن قائم کیا
داس نے تجارتی راستے کھولے
بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد یثرب میں ایک معاون جماعت اور نسبتاً محفوظ ماحول میسر آ گیا تھا، جس نے ہجرت کو ممکن بنایا۔
6ہجرت کو فرار کے بجائے کیا سمجھنا چاہیے؟
الفایک وقتی جذباتی ردعمل
بدعوت کو آزاد معاشرتی بنیاد دینے کا منظم اقدام
جمحض مالی فائدے کی تلاش
دقریش سے صلح کی کوشش
ہجرت فرار نہیں بلکہ دعوتِ اسلام کو ایک آزاد اور منظم معاشرتی بنیاد فراہم کرنے کا شعوری اقدام تھی۔
7قریش نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو روکنے کے لیے کیا کیا؟
الفان کا مال روکا، خاندان جدا کیے اور راستے مسدود کیے
بانہیں انعامات دیے
جانہیں مکہ میں پناہ دی
دان کی مدد کے لیے قافلے بھیجے
قریش نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا مال روکنے، خاندانوں کو جبراً الگ کرنے اور راستے بند کرنے کی کوششیں کیں۔
8مسلسل رکاوٹوں کے باوجود اکثر مسلمانوں کے یثرب پہنچنے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
الفان کا عزم اور اسلام پر استقامت غیر متزلزل تھی
بقریش کی کوششیں بے اثر تھیں اسی لیے وہ خاموش ہو گئے
جہجرت کوئی مشکل کام نہیں تھا
دصحابہ کو کسی خطرے کا سامنا نہیں تھا
رکاوٹوں کے باوجود اکثر مسلمانوں کا محفوظ طریقے سے یثرب پہنچنا ان کے عزم اور ایمانی استقامت کی دلیل ہے۔
9دار الندوہ میں قریش نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف کیا منصوبہ بنایا؟
الفمختلف قبائل کے نوجوانوں سے بیک وقت قتل کرانے کا منصوبہ
بانہیں جلاوطن کرنے کا منصوبہ
جانہیں قید کرنے کا منصوبہ
دان سے مذاکرات کا منصوبہ
قریش نے دار الندوہ میں یہ منصوبہ بنایا کہ مختلف قبائل کے نوجوان بیک وقت حملہ کریں تاکہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے سے نہ لیا جا سکے۔
10یہ منصوبہ اس طرح کیوں بنایا گیا کہ ہر قبیلے کا ایک نوجوان شریک ہو؟
الفتاکہ بنو ہاشم پوری قریش سے تنہا جنگ نہ کر سکیں
بتاکہ منصوبہ زیادہ لوگوں کو معلوم ہو
جتاکہ اخراجات کم ہوں
دتاکہ نوجوانوں کو تربیت ملے
مقصد یہ تھا کہ خون کا بدلہ کسی ایک قبیلے سے نہ لیا جا سکے اور بنو ہاشم پوری قریش سے جنگ کی پوزیشن میں نہ رہیں۔
11رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کی رات اپنے بستر پر کسے لٹایا؟
الفحضرت ابوبکرؓ کو
بحضرت علیؓ کو
جحضرت عمرؓ کو
دحضرت زید بن حارثہؓ کو
رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر چادر اوڑھ کر لٹایا تاکہ حملہ آوروں کو دھوکا ہو۔
12حضرت علیؓ کو کس اضافی ذمہ داری کے لیے مکہ میں چھوڑا گیا؟
الفلوگوں کی امانتیں واپس کرنے کے لیے
بقریش سے جنگ کرنے کے لیے
جنئی مسجد بنانے کے لیے
دتجارت جاری رکھنے کے لیے
حضرت علیؓ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ لوگوں کی امانتیں، جو دیانت پر بھروسہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کے پاس رکھی گئی تھیں، واپس کریں۔
13مخالفت کے باوجود لوگ آپ ﷺ کے پاس امانتیں رکھوانے پر کیوں تیار رہے؟
الفکیونکہ آپ ﷺ کی دیانت پر مخالفین کو بھی بھروسہ تھا
بکیونکہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا
جکیونکہ حضرت علیؓ اس کے ذمہ دار تھے
دکیونکہ قریش نے یہ حکم دیا تھا
شدید مخالفت کے باوجود لوگ آپ ﷺ کی دیانت پر بھروسہ کرتے تھے، یہی وجہ ہے کہ امانتیں آپ ﷺ کے پاس رکھی جاتی تھیں۔
14رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے مکہ سے نکل کر کس سمت کا رخ کیا؟
الفشمال کی سمت مدینہ کا
بجنوب کی سمت غارِ ثور کا
جمشرق کی سمت طائف کا
دمغرب کی سمت حبشہ کا
معمول کے راستے کے برعکس، رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے جنوب کی سمت غارِ ثور کا رخ کیا تاکہ تعاقب کرنے والوں کو گمراہ کیا جا سکے۔
15غارِ ثور میں کتنی راتوں کا قیام کیا گیا اور اس کا مقصد کیا تھا؟
الفایک رات، صرف آرام کے لیے
بتین راتیں، تعاقب کی شدت کم ہونے اور حالات کا اندازہ لگانے کے لیے
جسات راتیں، خوراک جمع کرنے کے لیے
ددس راتیں، رہنما کا انتظار کرنے کے لیے
غارِ ثور میں تین راتوں کا قیام تعاقب کی شدت کم ہونے اور حالات کا صحیح اندازہ لگانے کی حکمتِ عملی تھی۔
16غار میں قیام کے دوران مکہ کی خبریں کون پہنچاتا تھا؟
الفعامر بن فہیرہ
بحضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ
جعبداللہ بن اریقط
داسماء بنت ابی بکرؓ
حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ روزانہ مکہ کی تازہ ترین خبریں غار تک پہنچاتے تھے۔
17عامر بن فہیرہ کی ذمہ داری کیا تھی؟
الفزادِ راہ تیار کرنا
ببکریوں کے ریوڑ سے نشانات مٹانا اور دودھ پہنچانا
جراستے کی رہنمائی کرنا
دخبریں پہنچانا
عامر بن فہیرہ بکریوں کا ریوڑ لے جا کر راستے کے نشانات مٹا دیتے اور غار میں دودھ کا انتظام کرتے تھے۔
18حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ کو کون سا لقب دیا گیا اور کیوں؟
الفذاتُ النطاقین، کیونکہ انہوں نے اپنا پٹکا کاٹ کر سامان باندھا
بام المومنین، کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کی زوجہ تھیں
جالصدیقہ، کیونکہ انہوں نے سب سے پہلے ایمان لایا
دالشہیدہ، کیونکہ وہ راستے میں شہید ہوئیں
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے سفر کا سامان باندھنے کے لیے اپنا پٹکا دو حصوں میں کاٹا، جس کی وجہ سے یہ لقب ملا۔
19ہجرت کے سفر میں راستے کی رہنمائی کس نے کی؟
الفحضرت زید بن حارثہؓ نے
بعبداللہ بن اریقط نامی غیر مسلم رہنما نے
جحضرت عمار بن یاسرؓ نے
دسراقہ بن مالک نے
عبداللہ بن اریقط، جو اس وقت مسلمان نہیں تھے، کو ان کی امانت داری اور صحرائی راستوں کی مہارت کی بنیاد پر رہنما مقرر کیا گیا۔
20عبداللہ بن اریقط کی خدمات حاصل کرنے سے کیا اصول ثابت ہوتا ہے؟
الفجائز مقاصد کے لیے غیر مسلم افراد کی مہارت سے فائدہ اٹھانا اسلامی اصولوں کے خلاف نہیں
بغیر مسلموں پر کبھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا
جہر رہنما لازمی مسلمان ہونا چاہیے
دمہارت سے زیادہ عقیدہ اہم نہیں
عبداللہ بن اریقط کا انتخاب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جائز مقاصد کے لیے غیر مسلم افراد کی مہارت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
21مدینہ جاتے ہوئے کون سا راستہ اختیار کیا گیا؟
الفمعمول کا صحرائی راستہ
بساحلی راستہ تاکہ تعاقب کرنے والوں کو گمراہ کیا جا سکے
جطائف کا راستہ
دشام کا راستہ
تعاقب کرنے والوں کو دھوکا دینے کے لیے معمول کے راستے کے بجائے ساحلی راستہ اختیار کیا گیا۔
22سراقہ بن مالک کے واقعے کی کیا اہمیت ہے؟
الفانہوں نے تعاقب کیا مگر ایمان لانے سے پہلے ہی مدد کا وعدہ کیا
بانہوں نے قافلے کو گرفتار کر لیا
جانہوں نے راستہ بھلا دیا
دانہوں نے قریش کو اطلاع دی
سراقہ بن مالک نے قافلے کا تعاقب کیا، مگر ایمان لانے سے پہلے ہی رسول اللہ ﷺ سے مستقبل میں مدد کا وعدہ کر لیا۔
23مسجدِ قباء کی تعمیر کی کیا اہمیت ہے؟
الفیہ اسلامی تاریخ کی پہلی مسجد شمار ہوتی ہے
بیہ صرف رہائش کے لیے بنائی گئی تھی
جیہ قریش نے تعمیر کروائی تھی
دیہ بعد میں مسمار کر دی گئی
قباء میں قیام کے دوران بنائی گئی مسجد اسلامی تاریخ کی پہلی مسجد شمار ہوتی ہے، جس سے عبادت کو اولین ترجیح ملی۔
24قباء میں مسجد کی تعمیر سے کیا اصول واضح ہوتا ہے؟
الفنئی بستی میں سب سے پہلی ترجیح عبادت اور اجتماعیت کا قیام ہونی چاہیے
برہائش ہمیشہ عبادت سے مقدم ہے
جمسجد کی تعمیر میں جلدی نہیں کرنی چاہیے
دنئی بستی میں تجارت پہلی ترجیح ہونی چاہیے
مسجدِ قباء کی جلد تعمیر اس اصول کی نشاندہی کرتی ہے کہ نئی بستی میں سب سے پہلی ترجیح عبادت اور اجتماعیت کا قیام ہونی چاہیے۔
25مدینہ کے باشندوں نے رسول اللہ ﷺ کا استقبال کیسے کیا؟
الفسرد مہری سے
بغیر معمولی جوش و خروش سے، گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر
جخوف کے ساتھ
داحتجاج کے ساتھ
مدینہ کے باشندوں نے غیر معمولی جوش و خروش سے استقبال کیا اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر خوشی کے نغمے گائے۔
26اسلامی تقویم کا آغاز کس واقعے سے کیا گیا؟
الفنبی کریم ﷺ کی پیدائش سے
بنبوت کے آغاز سے
جہجرتِ مدینہ سے
دفتحِ مکہ سے
اسلامی تقویم کا آغاز ہجرتِ مدینہ سے کیا گیا، جو اس واقعے کی غیر معمولی تہذیبی اور تاریخی اہمیت کی علامت ہے۔
27مہاجرین اور انصار کی شراکت نے کس نئی چیز کی بنیاد رکھی؟
الفقبیلے سے بالاتر ایمانی اخوت کی
بنئے تجارتی معاہدے کی
جنئے قبائلی نظام کی
دنئی جنگی حکمتِ عملی کی
مہاجرین اور انصار کی شراکت نے قبائلی حدود سے بالاتر ہو کر ایک نئی ایمانی اخوت کی بنیاد رکھی، جو مشترکہ عقیدے پر قائم تھی۔
28ہجرت سے توکل اور اسبابِ ظاہری کے بارے میں کیا اصول ملتا ہے؟
الفتوکل کا مطلب اسباب ترک کرنا ہے
بتوکل اسباب اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ کے سپرد کرنے کا نام ہے
جاسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف ہے
دتوکل صرف دعا تک محدود ہے
ہجرت سے یہ اصول ملتا ہے کہ توکل اسباب ترک کرنے کا نام نہیں بلکہ ہر جائز ذریعہ اختیار کرنے کے بعد نتیجہ اللہ پر چھوڑنے کا نام ہے۔
29رسول اللہ ﷺ کا مکہ چھوڑتے وقت اس شہر سے محبت کا اظہار کرنا کیا سکھاتا ہے؟
الفایمان انسان کی اپنے وطن سے محبت کو ختم نہیں کرتا
بوطن سے محبت ایمان کے خلاف ہے
جہجرت کا مطلب وطن سے نفرت ہے
دمحبت کا اظہار غیر ضروری تھا
یہ واقعہ سکھاتا ہے کہ ایمان وطن سے محبت کو ختم نہیں کرتا، مگر دین اور ضمیر کی آزادی کو ہر چیز پر ترجیح دینی پڑتی ہے۔
30ہجرت کے واقعات کا مجموعی سبق کیا ہے؟
الفمنصوبہ بندی، راز داری اور توکل کا امتزاج کامیابی کی بنیاد ہے
بصرف طاقت ہی کامیابی کی ضمانت ہے
جہجرت کا کوئی دیرپا اثر نہیں تھا
دتدبیر اختیار کرنا ایمان کے خلاف ہے
ہجرت کے واقعات ثابت کرتے ہیں کہ منظم منصوبہ بندی، راز داری، ذمہ داریوں کی تقسیم اور اللہ پر توکل کا امتزاج ہی کامیابی کی بنیاد بنتا ہے۔

موضوع 9۔ مسجد نبوی، مواخاتِ مدینہ، میثاقِ مدینہ اور اسلامی ریاست کا قیام

1مسجد، مواخات اور میثاق کو مدنی ریاست کے تین ستون کیوں کہا گیا ہے؟
الفکیونکہ ان تینوں پر مل کر مدینہ کی نوزائیدہ مسلم ریاست کھڑی کی گئی
بکیونکہ یہ تینوں صرف مذہبی رسمیں تھیں
جکیونکہ یہ تینوں قریش نے تجویز کیے تھے
دکیونکہ ان کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا
مسجدِ نبوی، مواخات اور میثاقِ مدینہ وہ تین ستون ہیں جن پر مدینہ کی نوزائیدہ مسلم ریاست کھڑی کی گئی۔
2سورۃ الحشر کی آیت ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ...﴾ کس کی تعریف بیان کرتی ہے؟
الفانصار کے ایثار کی
بمہاجرین کی تجارت کی
جیہودی قبائل کے معاہدے کی
دقریش کی سخاوت کی
یہ آیت انصار کے اس ایثار کی تعریف کرتی ہے کہ وہ اپنی جانوں پر دوسروں کو ترجیح دیتے تھے چاہے خود تنگی میں ہوں۔
3مدینہ پہنچنے کے فوراً بعد رسول اللہ ﷺ کو کن مسائل کا سامنا تھا؟
الفمہاجرین کی بے گھری اور مختلف قبائل کے مفادات
بمدینہ کی معاشی خوشحالی
جمدینہ کی جغرافیائی وسعت
دحج کے انتظامات
مہاجرین بے گھر تھے اور مدینہ میں اوس، خزرج اور یہودی قبائل کے الگ الگ مفادات موجود تھے، جو نئی قیادت کے لیے چیلنج تھا۔
4اوس اور خزرج کے درمیان کیسی صورتحال موجود تھی؟
الفبرسوں پرانی خونریز دشمنی
بمضبوط تجارتی شراکت داری
جمشترکہ فوجی اتحاد
دکوئی تعلق نہیں تھا
اوس اور خزرج کے درمیان برسوں پرانی خونریز دشمنی موجود تھی، جس نے ایک متحد کرنے والی قیادت کی ضرورت پیدا کی۔
5مدینہ میں کون سے یہودی قبائل موجود تھے جن کا ذکر کیا گیا ہے؟
الفبنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ
ببنو ہاشم اور بنو مطلب
جبنو مخزوم اور بنو امیہ
دبنو اسد اور بنو زہرہ
مدینہ میں یہودی قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ آباد تھے، جن کے اپنے الگ سیاسی اور معاشی مفادات تھے۔
6رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچ کر سب سے پہلے کس کام کو ترجیح دی؟
الفقلعے کی تعمیر کو
بمسجد کی تعمیر کو
جبازار کے قیام کو
دمحل کی تعمیر کو
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ پہنچتے ہی مسجد کی تعمیر کو مرکزی ترجیح دی، حتیٰ کہ قباء کے مختصر قیام کے دوران بھی۔
7مسجدِ نبوی کے کیا کیا افعال تھے؟
الفصرف نماز کے لیے مخصوص تھی
بعبادت، تعلیم، مشاورت اور وفود کے استقبال کا مرکز
جصرف تجارت کے لیے استعمال ہوتی تھی
دصرف جنگی مشقوں کے لیے تھی
مسجدِ نبوی محض نماز کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، مشاورت، وفود کے استقبال اور اجتماعی فیصلوں کا مرکز بن گئی۔
8صُفّہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا تھا؟
الفتجارتی سامان رکھنے کے لیے
ببے گھر اور علم کے طالب صحابہ کی تربیت کے لیے
ججنگی ہتھیار رکھنے کے لیے
دمہمانوں کی ضیافت کے لیے
صُفّہ بے گھر اور علم کے طالب صحابہ کے لیے ایک تربیتی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا جہاں وہ قرآن اور دین کی تعلیم حاصل کرتے۔
9درج ذیل میں سے کون سا بیان مسجدِ نبوی کی تعمیر کی اہمیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفاسلامی ریاست کی بنیاد محض سیاسی اقتدار پر نہیں بلکہ عبادت اور علم پر رکھی گئی
بمسجد صرف ایک عمارت تھی جس کا سیاسی کوئی کردار نہیں
جمسجد کی تعمیر بعد میں تجارت کے لیے کی گئی
دمسجد کا مقصد صرف مہمانوں کی رہائش تھا
مسجد کو اولین ترجیح دینے سے واضح ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست کی بنیاد عبادت اور علم پر رکھی گئی تھی، نہ کہ محض سیاسی اقتدار پر۔
10مواخاتِ مدینہ سے کیا مراد ہے؟
الفمہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرنا
بصرف انصار کے درمیان اتحاد
جمہاجرین کو مکہ واپس بھیجنا
دصرف مالی امداد فراہم کرنا
مواخاتِ مدینہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کا مہاجرین اور انصار کے درمیان روحانی بھائی چارہ قائم کرنا تھا۔
11حضرت سعد بن ربیعؓ نے اپنے مہاجر بھائی کو کیا پیشکش کی؟
الفاپنی آدھی دولت اور ایک بیوی کو طلاق دے کر نکاح کی پیشکش
بصرف کھانے کی دعوت
جتجارتی شراکت داری
دصرف رہائش کی پیشکش
حضرت سعد بن ربیعؓ نے حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو اپنی آدھی دولت اور ایک بیوی کو طلاق دے کر نکاح کی پیشکش کی۔
12حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے پیشکش کے جواب میں کیا مانگا؟
الفمزید مالی امداد
بصرف بازار کا راستہ
جزمین کا ایک بڑا ٹکڑا
دنئی رہائش گاہ
حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے شکریہ ادا کرتے ہوئے صرف بازار کا راستہ پوچھا اور اپنی محنت سے دوبارہ کاروبار قائم کیا۔
13عبدالرحمن بن عوفؓ کے اس ردعمل سے کیا اصول ظاہر ہوتا ہے؟
الفمواخات نے معاشی بحالی کو خود داری اور محنت سے جوڑ دیا، نہ کہ محض خیرات پر
بمہاجرین کو ہمیشہ خیرات پر انحصار کرنا چاہیے
جانصار کی پیشکش بے سود تھی
دمحنت کی کوئی اہمیت نہیں تھی
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ مواخات نے معاشی بحالی کو محض خیرات پر منحصر نہ رکھ کر خود داری اور محنت سے جوڑ دیا۔
14میثاقِ مدینہ کن گروہوں کے درمیان طے پایا؟
الفصرف مہاجرین کے درمیان
بمہاجرین، انصار اور یہودی قبائل کے درمیان
جصرف قریش کے درمیان
دصرف انصار کے قبائل کے درمیان
میثاقِ مدینہ رسول اللہ ﷺ کی سرپرستی میں مہاجرین، انصار اور مختلف یہودی قبائل کے درمیان طے پایا۔
15میثاقِ مدینہ میں ہر گروہ کو کیا حق دیا گیا؟
الفاپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی
بصرف اسلام قبول کرنے کی اجازت
جصرف تجارت کرنے کی اجازت
دمدینہ چھوڑنے کی اجازت
میثاقِ مدینہ میں ہر گروہ کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی مکمل آزادی دی گئی، جبکہ مشترکہ دفاع کی ذمہ داری بھی سب پر عائد کی گئی۔
16تنازعات کے حتمی فیصلے کے لیے میثاقِ مدینہ میں کیا اصول طے ہوا؟
الفہر قبیلہ اپنا فیصلہ خود کرے گا
باللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کیا جائے گا
جمکہ کے سرداروں سے رجوع کیا جائے گا
دکوئی طریقہ طے نہیں ہوا
میثاقِ مدینہ میں طے ہوا کہ کسی بھی نزاعی معاملے کا حتمی فیصلہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف رجوع کر کے کیا جائے گا۔
17میثاقِ مدینہ کو قدیم ترین دساتیر میں کیوں شمار کیا جاتا ہے؟
الفکیونکہ اس نے تحریری طور پر حقوق و فرائض کو منظم کیا اور مدینہ کو ایک سیاسی اکائی بنا دیا
بکیونکہ اس میں صرف مذہبی احکام تھے
جکیونکہ یہ صرف زبانی معاہدہ تھا
دکیونکہ اس کا کوئی سیاسی کردار نہیں تھا
میثاق نے مختلف گروہوں کے حقوق و فرائض کو ایک تحریری دستاویز کی صورت میں منظم کیا، اسی لیے اسے قدیم ترین تحریری دساتیر میں شمار کیا جاتا ہے۔
18میثاقِ مدینہ نے وفاداری کا نیا معیار کیا قرار دیا؟
الفصرف خون کا رشتہ
بعہد، انصاف اور اجتماعی امن
جصرف قبائلی طاقت
دصرف مالی حیثیت
میثاقِ مدینہ کے بعد وفاداری کا معیار محض خونی رشتہ نہیں رہا بلکہ عہد، انصاف اور اجتماعی امن اس کی بنیاد بن گئے۔
19میثاق نے قبائلی وابستگیوں کے ساتھ کیا کیا؟
الفانہیں مکمل طور پر ختم کر دیا
بانہیں ایک بڑے سیاسی اور قانونی نظم کے تابع کر دیا
جانہیں مزید مضبوط کیا
دانہیں نظر انداز کر دیا
میثاقِ مدینہ نے قبائلی وابستگیوں کو ختم نہیں کیا بلکہ انہیں ایک وسیع تر سیاسی و قانونی نظم کے تابع کر دیا۔
20مدنی ریاست کا اقتدار کن بنیادوں پر قائم تھا؟
الففوجی طاقت اور جبر پر
بنبوی قیادت، رضاکارانہ بیعت اور مشاورت پر
جمعاشی اجارہ داری پر
دقبائلی سرداری پر
مدنی ریاست کا اقتدار طاقت کے زور پر نہیں بلکہ نبوی قیادت، رضاکارانہ بیعت، وحی کی رہنمائی اور باہمی مشاورت پر استوار تھا۔
21مدنی ریاست کا اصل مقصد کیا تھا؟
الفشخصی عظمت اور سلطنت کی توسیع
بدین کی آزادی، عدل اور کمزوروں کا تحفظ
جصرف تجارتی منافع
دصرف علاقائی توسیع
ریاست کا مقصد کسی شخصی عظمت یا سلطنت کی توسیع نہیں تھا بلکہ دین کی آزادی، عدل کا قیام اور کمزور طبقات کی حفاظت تھا۔
22مدنی ریاست کے قیام میں تعلیم اور تزکیۂ نفس کو کیا حیثیت حاصل رہی؟
الفانہیں نظر انداز کر دیا گیا
بقانون کے ساتھ ساتھ انہیں بھی مرکزی حیثیت حاصل رہی
جصرف امیر طبقے کے لیے مخصوص تھے
دصرف مہاجرین کے لیے مخصوص تھے
قانون سازی کے ساتھ ساتھ تعلیم، تزکیۂ نفس اور اخلاقی جواب دہی کو بھی بنیادی حیثیت حاصل رہی، جو ریاست کے اخلاقی و روحانی پہلو کو ظاہر کرتی ہے۔
23مدینہ میں معاشی اصلاحات کے تحت کیا تعلیم دی گئی؟
الفسود کو فروغ دینا
بدیانت، حلال تجارت اور سود سے اجتناب
جصرف زرعی کاموں کو ترجیح دینا
دصرف بیرونی تجارت کو فروغ دینا
بازار میں دیانت، حلال تجارت اور سود سے مکمل اجتناب کی تعلیم دی گئی، جس سے ایک منصفانہ معاشی نظام کی بنیاد پڑی۔
24زکوٰۃ اور صدقات نے مدینہ میں کیا کردار ادا کیا؟
الفمنظم سماجی کفالت کی بنیاد مضبوط کی
بصرف ٹیکس کا نظام بنایا
جصرف مسجد کی تعمیر میں استعمال ہوئے
دکوئی خاص کردار نہیں تھا
زکوٰۃ اور صدقات نے ایک منظم سماجی کفالت کا نظام قائم کیا جس نے غریبوں، یتیموں اور مسکینوں کی دیکھ بھال کو اجتماعی ذمہ داری بنایا۔
25مدینہ میں مشترکہ دفاع اور عہد شکنی سے بچاؤ کے اصول کیوں ضروری تھے؟
الفکیونکہ مدینہ چاروں طرف سے دشمنوں میں گھری ایک نوزائیدہ ریاست تھی
بکیونکہ مدینہ کو کوئی خطرہ نہیں تھا
جکیونکہ قریش نے صلح کر لی تھی
دکیونکہ یہودی قبائل مکمل طور پر غیر جانبدار تھے
مدینہ ابھی چاروں طرف سے دشمنوں میں گھری ایک نوزائیدہ ریاست تھی، اس لیے مشترکہ دفاع اور عہد شکنی سے بچاؤ کے اصول ضروری تھے۔
26میثاقِ مدینہ کو آج کیسے سمجھنا زیادہ درست ہے؟
الفجدید دستور کا لفظی متبادل سمجھ کر
باس کے تاریخی سیاق میں سمجھ کر
جاسے مکمل طور پر نظر انداز کر کے
دصرف علامتی دستاویز سمجھ کر
میثاقِ مدینہ کو جدید دستور کا لفظی متبادل بنانے کے بجائے اس کے تاریخی سیاق میں پڑھنا زیادہ مناسب اور علمی طرزِ عمل ہے۔
27میثاقِ مدینہ سے آج کے دور کے لیے کون سے اصول اخذ کیے جا سکتے ہیں؟
الفمعاہد شہریت، مذہبی آزادی اور اجتماعی دفاع کے اصول
بصرف تجارتی معاہدے کے اصول
جصرف زرعی پالیسی کے اصول
دکوئی اصول اخذ نہیں کیا جا سکتا
میثاقِ مدینہ سے معاہد شہریت، مذہبی آزادی، قانونی ذمہ داری اور اجتماعی دفاع جیسے اہم اصول اخذ ہوتے ہیں جو آج بھی رہنما حیثیت رکھتے ہیں۔
28مسجد، مواخات اور میثاق کا باہمی ربط کیا ثابت کرتا ہے؟
الفصالح معاشرہ صرف اقتدار سے قائم نہیں ہوتا
بصالح معاشرہ صرف طاقت سے قائم ہوتا ہے
جان تینوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
دصرف مسجد ہی کافی تھی
مسجد، اخوت اور قانون کا باہمی ربط بتاتا ہے کہ ایک صالح معاشرہ محض سیاسی اقتدار سے نہیں بلکہ ادارے، سماجی تعاون اور قانون کے امتزاج سے قائم ہوتا ہے۔
29اس دور کے تینوں بڑے اقدامات سے مجموعی طور پر کیا سبق ملتا ہے؟
الفمادی وسائل کی کمی کے باوجود اخلاقی برتری اور منصوبہ بندی سے مکمل ریاستی نظام تشکیل دیا جا سکتا ہے
بصرف مالی وسائل ہی ریاست سازی کی بنیاد ہیں
جبغیر منصوبہ بندی کے بھی ریاست قائم ہو سکتی ہے
دان اقدامات کا کوئی عالمگیر سبق نہیں
مسجد، مواخات اور میثاق مل کر ثابت کرتے ہیں کہ نبوی قیادت نے مادی وسائل کی کمی کے باوجود اخلاقی برتری اور دانشمندانہ منصوبہ بندی سے ایک مکمل ریاستی نظام تشکیل دیا۔
30یہ ماڈل آج کن معاشروں کے لیے سبق آموز قرار دیا گیا ہے؟
الفان تمام معاشروں کے لیے جو تنوع کے باوجود امن، انصاف اور مشترکہ ترقی کے خواہاں ہیں
بصرف مسلم اکثریتی معاشروں کے لیے
جصرف قدیم قبائلی معاشروں کے لیے
دکسی بھی معاشرے کے لیے قابلِ عمل نہیں
مدنی ریاست کا یہ ماڈل آج بھی ان تمام معاشروں کے لیے سبق آموز ہے جو تنوع کے باوجود امن، انصاف اور مشترکہ ترقی کے خواہاں ہیں۔

موضوع 10۔ غزوۂ بدر اور غزوۂ اُحد: اسباب، واقعات، نتائج اور اسباق

1بدر اور اُحد کو ایک ہی سبق کے دو رخ کیوں کہا گیا ہے؟
الفبدر نے توکل و تیاری کا سبق دیا جبکہ اُحد نے نظم و اطاعت کی اہمیت واضح کی
بدونوں معرکوں کے نتائج بالکل ایک جیسے تھے
جدونوں معرکوں میں مسلمانوں کو شکست ہوئی
دان کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تھا
بدر نے فتح کے ذریعے توکل اور تیاری کا سبق دیا، جبکہ اُحد نے وقتی نقصان کے ذریعے نظم و اطاعت کی اہمیت واضح کی۔
2سورۃ آل عمران کی آیت ﴿وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ...﴾ کیا واضح کرتی ہے؟
الففتح کا اصل سرچشمہ افرادی قوت نہیں بلکہ اللہ کی نصرت تھی
بمسلمان عددی طور پر برتر تھے
جبدر کی جنگ ایک معمولی واقعہ تھا
دقریش کمزور تھے اس لیے ہارے
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ نے بدر میں مدد کی جبکہ مسلمان کمزور تھے، یعنی فتح کا سرچشمہ تقویٰ اور توکل سے وابستہ اللہ کی نصرت تھی۔
3غزوۂ بدر کا فوری سبب کیا بنا؟
الفایک تجارتی قافلے کا معاملہ
بحج کے انتظامات پر تنازع
جمدینہ کے اندرونی جھگڑے
دیہودی قبائل کی بغاوت
دو ہجری میں ابوسفیان کی قیادت میں شام سے واپس آنے والے تجارتی قافلے کے معاملے نے کھلے تصادم کی صورت اختیار کر لی۔
4مسلمانوں کے بدر کی طرف نکلنے کا اصل محرک کیا تھا؟
الفقریش کی طرف سے ضبط شدہ اموال کا معاملہ اور مسلسل خطرہ
بنیا علاقہ فتح کرنے کی خواہش
جتجارتی منافع کمانا
دحبشہ سے واپسی کا سفر
قریش نے مہاجرین کے اموال ضبط کر لیے تھے اور مدینہ کے خلاف مسلسل خطرہ برقرار رکھا ہوا تھا، جس نے کشیدگی بڑھائی۔
5انصار نے بدر کے موقع پر بیعتِ عقبہ کی تعبیر کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟
الفصرف مدینہ کے اندر دفاع تک محدود رہنے کا
بمحدود تعبیر کے بجائے مکمل تعاون کا اعلان کیا
ججنگ میں شرکت سے انکار کیا
دغیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا
انصار نے بیعتِ عقبہ کی محدود تعبیر پر اکتفا کرنے کے بجائے مکمل تعاون کا اعلان کیا۔
6حضرت سعد بن معاذؓ نے بدر کے موقع پر کیا مشہور بات کہی؟
الفاگر سمندر میں کودنے کا حکم دیں تو ہم ساتھ کودیں گے
بہم مدینہ سے باہر نہیں جائیں گے
جہمیں مہلت درکار ہے
دہم صرف دعا کریں گے
حضرت سعد بن معاذؓ نے یہ مشہور الفاظ کہے کہ اگر رسول اللہ ﷺ سمندر میں کودنے کا حکم دیں تو انصار ان کے ساتھ کودنے کو تیار ہیں۔
7حباب بن منذرؓ کے مشورے کی بنیاد پر کیا اقدام کیا گیا؟
الفلشکر کو پانی کے قریب ترین کنویں کے پاس منتقل کیا گیا
بلشکر کو مدینہ واپس بلا لیا گیا
ججنگ ملتوی کر دی گئی
دصف بندی تبدیل نہیں کی گئی
حباب بن منذرؓ کے مفید مشورے پر لشکر کو پانی کے قریب ترین کنویں کے پاس منتقل کیا گیا، جو ایک اہم حکمتِ عملی ثابت ہوئی۔
8بدر کے میدان میں فریقین کی تخمینی تعداد کیا تھی؟
الفمسلمان تین سو سے زائد، قریش قریب ایک ہزار
بمسلمان ایک ہزار، قریش تین سو
جدونوں فریق برابر تعداد میں تھے
دمسلمان پانچ سو، قریش دو سو
بدر کے میدان میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین سو سے کچھ زائد تھی جبکہ قریش کا لشکر قریب ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل تھا۔
9عددی برتری نہ ہونے کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے میدانِ بدر میں کیا کیا؟
الفعاجزی سے طویل دعا مانگی اور صفوں کو منظم کیا
بفوری پسپائی اختیار کی
جلڑائی سے گریز کیا
دقریش سے صلح کی پیشکش کی
نمایاں عددی برتری کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے عاجزی سے دعا مانگی اور صفوں کو منظم انداز میں ترتیب دیا۔
10بدر میں قریش کے کون سے سردار مارے گئے؟
الفابوسفیان اور خالد بن ولید
بعتبہ، شیبہ اور ابوجہل
جعمرو بن العاص اور ولید بن مغیرہ
دابولہب اور عکرمہ
اللہ کی نصرت سے قریش کے نمایاں سردار عتبہ، شیبہ اور ابوجہل جیسے سخت ترین مخالفین بدر کے میدان میں مارے گئے۔
11بدر کی فتح نے مسلمانوں کی حیثیت پر کیا اثر ڈالا؟
الفپورے عرب میں ان کی سیاسی اور فوجی حیثیت یکسر بدل دی
بکوئی خاص اثر نہیں ہوا
جمسلمانوں کی حیثیت کمزور ہو گئی
دصرف مدینہ کے اندر اثر رہا
یہ فیصلہ کن اور غیر متوقع فتح تھی جس نے پورے عرب میں مسلمانوں کی سیاسی اور فوجی حیثیت کو یکسر بدل دیا۔
12بدر کے جنگی قیدیوں کی رہائی کن صورتوں میں طے ہوئی؟
الفصرف فدیہ لے کر
بفدیہ، تعلیم دلانے اور بلامعاوضہ آزادی کی مختلف صورتوں میں
جصرف قتل کر کے
دصرف غلام بنا کر
قیدیوں کی رہائی مختلف صورتوں میں طے ہوئی: کچھ کو فدیہ لے کر، کچھ کو بچوں کو تعلیم دلانے کے عوض اور کچھ کو بلامعاوضہ آزاد کیا گیا۔
13قرآن کریم نے بدر کی فتح کو کس چیز سے جوڑا؟
الفانسانی غرور اور تفاخر سے
باللہ کی نصرت اور تقویٰ سے
جصرف عددی برتری سے
دصرف جنگی مہارت سے
قرآن کریم نے فتح کو انسانی غرور کے بجائے اللہ کی نصرت اور تقویٰ سے جوڑا تاکہ مسلمان یہ سبق سیکھیں۔
14غزوۂ اُحد کس سال پیش آیا؟
الفایک ہجری میں
بدو ہجری میں
جتین ہجری میں
دپانچ ہجری میں
قریش نے بدر کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تین ہجری میں ایک بڑا لشکر تیار کیا، جس سے غزوۂ اُحد پیش آیا۔
15مدینہ میں اُحد سے پہلے کس حکمتِ عملی پر مشاورت ہوئی؟
الفشہر کے اندر دفاع یا باہر نکل کر مقابلہ
بصلح کرنے یا نہ کرنے
جنجاشی سے مدد مانگنے یا نہ مانگنے
دمدینہ چھوڑنے یا نہ چھوڑنے
مدینہ میں یہ مشاورت ہوئی کہ آیا شہر کے اندر رہ کر دفاعی حکمتِ عملی اپنائی جائے یا باہر نکل کر کھلے میدان میں مقابلہ کیا جائے۔
16رسول اللہ ﷺ کا ذاتی رجحان کس حکمتِ عملی کی طرف تھا اور آخر میں کیا فیصلہ ہوا؟
الفدفاعی حکمتِ عملی، مگر نوجوان صحابہ کی اکثریت کی رائے پر کھلے میدان میں مقابلہ طے ہوا
بجارحانہ حملہ، اور یہی فیصلہ ہوا
جصلح، مگر انصار نے انکار کیا
دمکہ پر حملہ، مگر مؤخر کر دیا گیا
آپ ﷺ کا رجحان دفاعی حکمتِ عملی کی طرف تھا، مگر نوجوان صحابہ کی اکثریت کی رائے پر احد کے قریب کھلے میدان میں مقابلے کا فیصلہ ہوا۔
17اُحد کے میدان میں تیر اندازوں کو کیا حکم دیا گیا تھا؟
الففتح یا شکست کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں
بصرف فتح کی صورت میں جگہ چھوڑیں
جدشمن کے قریب جا کر حملہ کریں
دمالِ غنیمت جمع کرنا شروع کر دیں
رسول اللہ ﷺ نے تیر اندازوں کو سختی سے حکم دیا کہ چاہے فتح ہو یا شکست، وہ اپنی مقررہ جگہ ہرگز نہ چھوڑیں۔
18تیر اندازوں نے اپنی جگہ کیوں چھوڑی؟
الفدشمن کے حملے کے خوف سے
بمالِ غنیمت سمیٹنے کی خواہش میں
جپانی کی کمی کی وجہ سے
درسول اللہ ﷺ کے نئے حکم پر
ابتدائی برتری کے بعد بیشتر تیر اندازوں نے سمجھا کہ جنگ ختم ہو چکی ہے اور مالِ غنیمت سمیٹنے کی خواہش میں اپنی جگہ چھوڑ دی۔
19خالد بن ولید نے اُحد میں کیا کردار ادا کیا؟
الفوہ مسلمانوں کی صفوں میں لڑے
بانہوں نے خالی درے سے گھوم کر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کیا
جانہوں نے صلح کرائی
دوہ میدان سے غائب ہو گئے
خالد بن ولید، جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، نے خالی درے سے گھوم کر مسلمانوں کے پیچھے سے اچانک حملہ کیا۔
20درج ذیل میں سے کون سا بیان تیر اندازوں کے واقعے کے سبق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفقیادت کی ہدایت پر عمل کامیابی کی بنیادی شرط ہے
بمالِ غنیمت جمع کرنا سب سے اہم تھا
جابتدائی فتح کا مطلب حتمی کامیابی ہے
دتیر اندازوں کا کردار غیر اہم تھا
تیر اندازوں کے مقررہ جگہ چھوڑنے سے حاصل ہونے والا نقصان یہ سکھاتا ہے کہ فوجی نظم اور قیادت کی ہدایت پر عمل ناگزیر ہے۔
21اُحد کی جنگ میں کون سے جلیل القدر صحابی شہید ہوئے؟
الفحضرت عمر بن خطابؓ
بحضرت حمزہؓ
جحضرت ابوبکرؓ
دحضرت عثمانؓ
اُحد کی جنگ میں حضرت حمزہؓ سمیت ستر کے قریب صحابہ کرام شہید ہوئے۔
22اُحد میں رسول اللہ ﷺ کو کیا زخم آئے؟
الفکوئی زخم نہیں آیا
بچہرہ مبارک زخمی ہوا اور ایک دانت مبارک شہید ہوا
جصرف ہاتھ زخمی ہوا
دصرف پاؤں زخمی ہوا
اُحد کی جنگ میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور ایک دانت مبارک بھی شہید ہوا۔
23اُحد میں کس غلط خبر نے مسلمانوں میں اضطراب پیدا کیا؟
الفشکست کی خبر
برسول اللہ ﷺ کی شہادت کی غلط خبر
جقریش کی پسپائی کی خبر
دمدینہ پر حملے کی خبر
رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی غلط خبر پھیل گئی، جس سے مسلمانوں میں شدید اضطراب اور مایوسی پیدا ہوئی۔
24اس نازک لمحے میں کس صحابی نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو زندہ دیکھ کر خوشخبری سنائی؟
الفحضرت کعب بن مالکؓ
بحضرت طلحہؓ
جحضرت سعد بن معاذؓ
دحضرت بلالؓ
حضرت کعب بن مالکؓ نے سب سے پہلے آپ ﷺ کو زندہ دیکھ کر بلند آواز میں خوشخبری سنائی، جس سے حوصلہ بحال ہوا۔
25رسول اللہ ﷺ کے گرد دفاع میں کون سے صحابی نمایاں تھے جن کا ہاتھ زخمی ہوا؟
الفحضرت طلحہؓ
بحضرت بلالؓ
جحضرت زید بن حارثہؓ
دحضرت سعد بن معاذؓ
حضرت طلحہؓ نے رسول اللہ ﷺ کے گرد دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا اور اس دوران ان کا ہاتھ شدید زخمی ہوا۔
26اُحد کے آخری مرحلے میں منتشر لشکر نے کیا کیا؟
الفدوبارہ منظم ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی
بمکمل طور پر میدان چھوڑ دیا
جقریش کے ساتھ صلح کر لی
دمدینہ واپس بھاگ گئے
رفتہ رفتہ منتشر ہونے والا لشکر دوبارہ منظم ہوا اور پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لے کر دشمن کے مزید حملے کو ناکام بنایا۔
27بدر اور اُحد کے نتائج میں بنیادی فرق کیا تھا؟
الفبدر میں فیصلہ کن فتح اور اُحد میں نظم کی خلاف ورزی سے نقصان
بدونوں میں فتح ہوئی
جدونوں میں شکست ہوئی
ددونوں کے نتائج یکساں تھے
بدر میں نظم اور مشاورت سے فیصلہ کن فتح ملی، جبکہ اُحد میں تیر اندازوں کے مقررہ جگہ چھوڑنے سے نقصان پہنچا۔
28دونوں غزوات سے مجموعی طور پر کیا سبق ملتا ہے؟
الففتح ایمان کی مستقل ضمانت نہیں اور شکست حق کی نفی نہیں
بفتح ہمیشہ یقینی ہوتی ہے
جشکست کا مطلب ہمیشہ ناکامی ہے
دنظم و ضبط کی کوئی اہمیت نہیں
بدر اور اُحد سے یہ آفاقی سبق ملتا ہے کہ فتح ایمان کی مستقل ضمانت نہیں اور کسی وقتی شکست کا مطلب حق کی نفی یا ناکامی نہیں ہوتا۔
29قرآن نے اُحد کی جنگ کے بعد امت کو کیا رہنمائی دی؟
الفانتقام اور مایوسی کی رہنمائی دی
بغلطیوں کی اصلاح، رحمت اور اجتماعی احتساب کی رہنمائی دی
جخاموشی اختیار کرنے کی رہنمائی دی
دجنگ ترک کرنے کی رہنمائی دی
قرآن کریم نے اُحد کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے غلطیوں کی نشاندہی و اصلاح، قیادت کی رحمت اور اجتماعی احتساب کو انتقام اور مایوسی پر ترجیح دی۔
30دونوں غزوات مل کر کس مکمل تعلیمی نمونے کی نمائندگی کرتے ہیں؟
الفکامیابی کے لیے مشاورت، نظم اور ثابت قدمی، اور ناکامی کے بعد احتساب و دوبارہ عزم ناگزیر ہیں
بصرف فتح ہی قابلِ توجہ ہے، شکست سے کچھ نہیں سیکھا جا سکتا
ججنگ سے مکمل اجتناب ہی بہترین حکمتِ عملی ہے
دنظم و ضبط کا کوئی کردار نہیں
بدر اور اُحد مل کر سکھاتے ہیں کہ کامیابی کے لیے مشاورت، نظم اور ثابت قدمی ناگزیر ہیں، جبکہ ناکامی کے بعد مایوسی کے بجائے احتساب اور دوبارہ عزم اصل امتحان ہے۔

موضوع 11۔ غزوۂ خندق، صلحِ حدیبیہ اور خیبر: سیاسی اور دعوتی اہمیت

1سیرت کے کس عرصے کو خندق، حدیبیہ اور خیبر کے لیے فیصلہ کن موڑ قرار دیا گیا ہے؟
الفپانچویں سے ساتویں سالِ ہجرت
بپہلے سے تیسرے سالِ ہجرت
جنویں سے دسویں سالِ ہجرت
دمکی دور کے ابتدائی سال
مضمون کے مطابق پانچویں سے ساتویں سالِ ہجرت کا عرصہ ان تینوں واقعات کے لیے فیصلہ کن موڑ ہے۔
2مضمون کے مطابق ان تینوں واقعات کو سمجھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
الفصرف واقعات کی تاریخ رٹنا
باسباب، فیصلوں اور نتائج کے باہمی ربط کو سمجھنا
جصرف تاریخیں یاد رکھنا
دصرف صحابہ کے نام یاد رکھنا
مضمون واضح کرتا ہے کہ محض تاریخ بیان کرنے کے بجائے اسباب، نبوی فیصلوں اور نتائج کے ربط کو سمجھنا ضروری ہے۔
3درج ذیل میں سے کون سا بیان خندق، حدیبیہ اور خیبر کے باہمی تعلق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفتینوں غیر متعلق اور الگ الگ واقعات تھے
بتینوں ایک ہی سیاسی و دعوتی تسلسل کی کڑیاں ہیں
جصرف خیبر اہم واقعہ تھا
دتینوں ایک ہی دن پیش آئے
مضمون کے آغاز میں ہی بتایا گیا ہے کہ یہ تینوں ایک ہی سیاسی و دعوتی تسلسل کی کڑیاں ہیں۔
4پانچ ہجری میں مدینہ کے خلاف قریش کی زیرِ قیادت بننے والے وسیع قبائلی اتحاد کو کیا نام دیا جاتا ہے؟
الفاحزاب
بحلف الفضول
جبیعتِ عقبہ
دمیثاقِ مدینہ
قریش نے غطفان، بنو اسد اور دیگر قبائل کے ساتھ مل کر جو اتحاد بنایا اسے احزاب یعنی لشکروں کا اتحاد کہا جاتا ہے۔
5اس بڑے قبائلی اتحاد کو ہوا دینے میں کس گروہ کا کردار نمایاں تھا؟
الفبنو خزاعہ کے سردار
بجلاوطن بنو نضیر کے یہودی سردار
جطائف کے تاجر
دحبشہ کے نمائندے
پہلے مدینہ سے جلاوطن کیے گئے بنو نضیر کے یہودی سردار انتقام کی تلاش میں قبائل کو اکسا رہے تھے۔
6خندق کھودنے کی تجویز کس صحابی نے دی، اور یہ حکمتِ عملی عرب جنگی روایت میں کیسی تھی؟
الفحضرت سلمان فارسیؓ نے دی، جو نسبتاً نئی تھی
بحضرت عمرؓ نے دی، جو پرانی روایت تھی
جحضرت ابوبکرؓ نے دی، جو مکی روایت تھی
دکسی صحابی نے تجویز نہیں دی
حضرت سلمان فارسیؓ نے، جو ایرانی جنگی طریقوں سے واقف تھے، خندق کھودنے کی تجویز دی جو عرب روایت میں نسبتاً نئی تھی۔
7خندق کی کھدائی کے دوران رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل کیا تھا؟
الفآپ ﷺ نے خود مٹی اٹھائی اور کھدائی میں شرکت کی
بآپ ﷺ نے صرف نگرانی کی
جآپ ﷺ خیمے میں مقیم رہے
دآپ ﷺ نے کام صحابہ کے سپرد کر دیا
رسول اللہ ﷺ نے خود مٹی اٹھانے اور کھدائی کے کام میں شرکت فرمائی، جس سے صحابہ کا حوصلہ بلند ہوا۔
8محاصرۂ خندق کے دوران مسلمانوں کو کن مشکلات کا سامنا رہا؟
الفسردی، بھوک اور مسلسل خوف
بشدید گرمی اور قحط
جپانی کی کوئی کمی نہیں تھی
دصرف مالی نقصان
طویل اور سخت محاصرے میں سردی، بھوک اور مسلسل خوف نے اہلِ ایمان کو کڑی آزمائش میں ڈالا۔
9مدینہ کے اندر موجود منافقین نے محاصرۂ خندق کے دوران کیا کیا؟
الفبددلی پھیلانے کی کوشش کی
بخندق کھودنے میں سب سے زیادہ حصہ لیا
جدشمن کے خلاف جاسوسی کی
دقریش سے مذاکرات کیے
سخت آزمائش کے دوران منافقین اور بعض بدعہد عناصر نے بددلی پھیلانے کی کوشش کی۔
10محاصرۂ خندق بغیر کسی فیصلہ کن معرکے کے کیوں ختم ہوا؟
الفاللہ نے تیز آندھی بھیجی اور اتحادی لشکر میں باہمی بداعتمادی بڑھی
بمسلمانوں نے کھلی جنگ میں فتح حاصل کی
جقریش نے خود صلح کی درخواست کی
دخیبر کے یہودیوں نے دشمن کا ساتھ چھوڑا
اللہ تعالیٰ نے تیز آندھی بھیجی جس سے اتحادی لشکر کے دھڑوں میں بداعتمادی بڑھی اور وہ بغیر معرکے کے منتشر ہو گئے۔
11قرآن نے خندق کے واقعے کو کس سورت میں تفصیل سے بیان کیا؟
الفسورۃ الاحزاب
بسورۃ الفتح
جسورۃ التوبہ
دسورۃ آل عمران
قرآن نے اس واقعے کو سورۃ الاحزاب میں تفصیل سے بیان کیا اور اسے ثبات اور اللہ کی مدد پر بھروسے کا سبق قرار دیا۔
12خندق کی سب سے بڑی تعلیمی اہمیت کیا بتائی گئی ہے؟
الفنبوی قیادت نے اصولی ثابت قدمی کے ساتھ عملی تدبیر میں لچک کو یکجا کیا
بجنگ ہی ہر مسئلے کا حل ہے
جنئی تدبیر اپنانا نبوی منہج کے خلاف ہے
دمشاورت غیر ضروری تھی
خندق کا سبق یہ ہے کہ نبوی قیادت نے اصولی پختگی کے ساتھ نئی مشاورت اور تجربے سے استفادہ کو اپنے منہج کا حصہ بنایا۔
13چھ ہجری میں رسول اللہ ﷺ ایک ہزار سے زائد صحابہ کے ساتھ کس مقصد سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے؟
الفعمرے کی نیت سے
بقریش سے جنگ کے لیے
جخیبر کی مہم کے لیے
دطائف کے محاصرے کے لیے
رسول اللہ ﷺ عمرہ ادا کرنے کی نیت سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے، ساتھ قربانی کے جانور اور احرام اس کی دلیل تھے۔
14قریش نے پرامن سفر کے باوجود مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے کیوں روکا؟
الفخوف اور انا کے زیرِ اثر
بمالی نقصان کے خدشے سے
جبارش کی وجہ سے راستہ بند تھا
دقریش خود مسلمان ہو چکے تھے
قربانی کے جانور اور احرام کے باوجود قریش نے خوف اور اپنی انا کے باعث مسلمانوں کو داخلے سے روک دیا۔
15بیعتِ رضوان کس بنیاد پر لی گئی؟
الفحضرت عثمانؓ کی شہادت کی جھوٹی افواہ پر
بقریش کے حملے کی اطلاع پر
جرسول اللہ ﷺ کی بیماری کی خبر پر
دخیبر کی شکست کی خبر پر
حضرت عثمانؓ کی شہادت کی جھوٹی افواہ پھیلنے پر صحابہ نے ایک درخت کے نیچے جان کی بازی لگا دینے کی بیعت کی۔
16حدیبیہ کے معاہدے کی بعض شرائط کے بارے میں صحابہ کا عمومی ردعمل کیا تھا؟
الفانہیں یہ شرائط سخت اور غیر متوازن محسوس ہوئیں
بتمام صحابہ نے فوراً خوشی سے قبول کیں
جصحابہ نے شرائط مسترد کر دیں
دکسی نے کوئی تحفظ ظاہر نہ کیا
اس سال واپس چلے جانے جیسی شرائط بہت سے صحابہ کو سخت اور غیر متوازن محسوس ہوئیں۔
17رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کی بظاہر سخت شرائط قبول کر کے کیا ترجیح دی؟
الفدور رس امن کو وقتی جذباتی اطمینان پر ترجیح دی
بقریش کی طاقت کے سامنے ہار مان لی
جصحابہ کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے مجبور ہوئے
دشرائط دراصل مسلمانوں کے حق میں تھیں
رسول اللہ ﷺ کی نظر فوری اطمینان کے بجائے طویل المدتی نتائج پر تھی، اسی لیے دور رس امن کو ترجیح دی۔
18صلحِ حدیبیہ کے نتیجے میں دس سالہ جنگ بندی کا سب سے اہم دعوتی اثر کیا نکلا؟
الفقبائل کو قریب سے اسلام کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا اور مسلمانوں کی تعداد کئی گنا بڑھی
بدعوت کا کام مکمل طور پر رک گیا
جقریش نے فوری طور پر اسلام قبول کر لیا
دمدینہ کی معیشت تباہ ہو گئی
جنگ بندی نے قبائل کو اسلام قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جس سے دو سال میں مسلمانوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی۔
19قرآن نے صلحِ حدیبیہ کو کس اصطلاح سے یاد کیا اور کیوں؟
الففتحِ مبین، کیونکہ اس کے دور رس دعوتی و سیاسی فوائد تھے
بغزوۂ کبریٰ، کیونکہ بڑی جنگ ہوئی
جیومِ فرقان، کیونکہ حق و باطل میں فیصلہ ہوا
دنصرِ عظیم، کیونکہ فوری فوجی فتح ملی
سورۃ الفتح میں اس معاہدے کو کھلی فتح یعنی فتحِ مبین قرار دیا گیا کیونکہ اس کے نتائج دور رس اور دعوتی طور پر عظیم تھے۔
20صلحِ حدیبیہ کے واقعے سے طالب علم کو بنیادی طور پر کیا سبق ملتا ہے؟
الفکامیابی کو ہمیشہ فوری اور ظاہری شکل میں نہیں پرکھا جا سکتا
بہر معاہدہ فوری فائدہ دیتا ہے
جصلح ہمیشہ کمزوری کی علامت ہے
دقریش کبھی معاہدے کے پابند نہیں رہے
بسا اوقات وقتی نقصان دیرپا فائدے کا پیش خیمہ بنتا ہے، یہی حدیبیہ کا بنیادی سبق ہے۔
21خیبر کے قلعے کہاں واقع تھے اور وہاں کے یہودی قبائل مدینہ کے لیے کیوں خطرہ تھے؟
الفمدینہ کے شمال میں، اور وہ سازشوں اور قبائل کو اکسانے میں سرگرم تھے
بمدینہ کے جنوب میں، اور وہ تجارت میں مصروف تھے
جمکہ کے قریب، اور وہ قریش کے حلیف تھے
دطائف کے قریب، اور وہ زراعت میں مصروف تھے
خیبر کے مضبوط قلعے مدینہ کے شمال میں واقع تھے اور وہاں کے، بالخصوص جلاوطن، یہودی قبائل سازشوں میں سرگرم تھے۔
22خیبر کے قلعے کس سالِ ہجری میں فتح ہوئے؟
الفسات ہجری میں
بپانچ ہجری میں
جچھ ہجری میں
دنو ہجری میں
سات ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے ایک منظم مہم کے ذریعے خیبر کے قلعے یکے بعد دیگرے فتح کیے۔
23خیبر کی فتح کے بعد زمین کے انتظام کے لیے کیا معاہدہ کیا گیا؟
الفباشندے کاشت کاری جاری رکھیں گے اور پیداوار میں سے مقررہ حصہ ریاست کو دیں گے
بتمام باشندے جلاوطن کر دیے گئے
جزمین مکمل طور پر بنجر چھوڑ دی گئی
دزمین نیلام کر دی گئی
خیبر کے باشندوں سے معاہدہ ہوا کہ وہ کاشت کاری جاری رکھیں گے اور پیداوار میں سے ایک متعین حصہ ریاست کو دیں گے۔
24خیبر کے بعد کیا گیا زرعی و انتظامی معاہدہ کس بنیادی مقصد کی عکاسی کرتا ہے؟
الفپیداواری صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے سیاسی خطرے کا خاتمہ
بمحض فوجی فتح کا اعلان
جدشمن کو مکمل معاشی تباہی سے دوچار کرنا
دزمین کو ریاست کی ذاتی ملکیت بنانا
یہ انتظام دانش مندانہ معاشی و انتظامی تدبیر تھی جس نے پیداواری صلاحیت برقرار رکھتے ہوئے سیاسی خطرہ ختم کیا۔
25خیبر کا نمونہ بعد میں کس کام کے لیے رہنما اصول بنا؟
الفدیگر مفتوحہ علاقوں کے انتظام کے لیے
بصرف خیبر کے لیے مخصوص رہا
جقریش کے ساتھ تجارت کے لیے
دحج کے انتظامات کے لیے
خیبر کا زرعی و انتظامی نمونہ بعد میں دیگر مفتوحہ علاقوں کے انتظام کے لیے بھی رہنما اصول بنا۔
26خندق، حدیبیہ اور خیبر کے مجموعی تسلسل کو کیسے بیان کیا جا سکتا ہے؟
الفخندق نے دفاع، حدیبیہ نے سیاسی تسلیم اور خیبر نے اقتصادی استحکام دیا
بتینوں واقعات کا کوئی باہمی تعلق نہیں تھا
جصرف خیبر اہمیت رکھتا تھا
دتینوں واقعات ایک ہی دن پیش آئے
خندق نے بیرونی اتحاد توڑا، حدیبیہ نے سیاسی تسلیم اور دعوتی آزادی دی، اور خیبر نے شمالی خطرہ ختم کر کے استحکام بخشا۔
27درج ذیل میں سے کون سا بیان نبوی سیاست کی اس خصوصیت کو بہتر بیان کرتا ہے جو ان تینوں واقعات سے نمایاں ہوتی ہے؟
الفاصولی مقصد کے ساتھ حالات کے مطابق جائز عملی تدبیر اختیار کرنا
بہر مسئلے کا حل صرف جنگ میں تلاش کرنا
جمذاکرات سے مکمل اجتناب کرنا
ددشمن کے ساتھ کبھی معاہدہ نہ کرنا
تینوں واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ عقیدے کی پختگی اور حالات کے مطابق جائز تدبیر ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔
28مضمون کے مطابق کن چیزوں کو دائمی قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا؟
الفخندق کی گہرائی یا خیبر کی پیداوار کے تناسب جیسی جزئیات
بعدل اور وفائے عہد جیسے مستقل اصول
جصبر اور مشاورت کی اہمیت
دقرآن و سنت کے بنیادی اصول
قرآن و سنت سے ثابت مستقل اصول ہر دور میں رہنمائی دیتے ہیں، جبکہ مخصوص جزئیات کو دائمی قاعدہ نہیں بنایا جا سکتا۔
29ان تینوں واقعات سے آج کے قاری کے لیے سب سے بڑا سبق کیا اخذ کیا گیا ہے؟
الفصبر، مشاورت، حکمت اور دور اندیشی عارضی نقصان کے باوجود دیرپا کامیابی دے سکتے ہیں
بطاقت ہی کامیابی کا واحد ذریعہ ہے
جمذاکرات ہمیشہ کمزوری کی علامت ہیں
دتاریخی واقعات کا آج کے حالات سے کوئی تعلق نہیں
مضمون کا اختتامی سبق یہ ہے کہ صبر، مشاورت، حکمت اور دور اندیشی وقتی نقصان کے باوجود دیرپا کامیابی کی طرف لے جاتے ہیں۔
30خندق، حدیبیہ اور خیبر کے مطالعے سے قیادت کے کس اصول کی تصدیق ہوتی ہے؟
الفدفاع، مذاکرات اور انتظامی مفاہمت مختلف ذرائع ہیں مگر ایک ہی مقصد کی خدمت کرتے ہیں
بہر قیادت کو صرف ایک ہی طریقہ اپنانا چاہیے
جمذاکرات دفاع سے زیادہ اہم نہیں
دانتظامی مفاہمت کی کوئی حیثیت نہیں
مضمون کے مطابق ہر مرحلے میں الگ ذریعہ اختیار کیا گیا مگر تینوں ایک ہی اصولی مقصد یعنی امت کے تحفظ کی خدمت کرتے رہے۔

موضوع 12۔ فتح مکہ، غزوۂ حنین، محاصرۂ طائف اور غزوۂ تبوک

1آٹھ سے نو ہجری کا عرصہ سیرتِ نبوی ﷺ میں کس بنیادی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے؟
الفایک محصور جماعت کا جزیرہ نما عرب کی مرکزی سیاسی و دعوتی قوت بننا
بمسلمانوں کا مکمل طور پر پسپا ہونا
جمکہ کا مکمل طور پر ویران ہونا
دقبائل کا اسلام سے مکمل دستبردار ہونا
یہ عرصہ اس تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہے جس میں مسلمان ایک محصور جماعت سے پورے جزیرہ نما عرب کی مرکزی قوت بن گئے۔
2فتح مکہ، حنین، طائف اور تبوک کو مضمون میں کس طرح بیان کیا گیا ہے؟
الفایک ہی تاریخی عمل کے مختلف مراحل جن میں حکمتِ عملی، رحمت اور دور اندیشی جھلکتی ہے
بچار بالکل غیر متعلق فوجی مہمات
جصرف دفاعی جنگیں
دصرف علامتی واقعات جن کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں
اگرچہ یہ بظاہر الگ مہمات معلوم ہوتے ہیں، درحقیقت یہ ایک ہی تاریخی عمل کے مختلف مراحل ہیں۔
3فتح مکہ کا فوری سبب کیا بنا؟
الفبنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر حملہ کر کے حدیبیہ کا عہد توڑا
بقریش نے مدینہ پر براہِ راست حملہ کیا
جثقیف نے مسلمانوں پر حملہ کیا
دروم نے شام کی سرحد پر لشکر جمع کیا
بنو بکر نے قریش کی مدد سے بنو خزاعہ پر حملہ کر کے حدیبیہ کے معاہدے کی خلاف ورزی کی، جو فتح مکہ کا فوری سبب بنی۔
4رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کی تیاری خفیہ کیوں رکھی؟
الفتاکہ غیر ضروری خونریزی سے بچا جا سکے
بتاکہ قریش کو انعام دیا جا سکے
جتاکہ خیبر کے یہود کو اطلاع نہ ہو
دتاکہ طائف کے لوگ بے خبر رہیں
تیاری خفیہ رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ اچانک اور فیصلہ کن پیش قدمی سے غیر ضروری خونریزی سے بچا جا سکے۔
5مکہ میں داخلے کے وقت مسلمان دستوں کو کیا ہدایت دی گئی، جس کے باعث شہر تقریباً بلا مزاحمت فتح ہوا؟
الفعمومی مزاحمت سے حتی الامکان گریز کیا جائے
بہر مزاحمت کرنے والے کو سزا دی جائے
جشہر کو نذرِ آتش کیا جائے
دصرف رات کے وقت داخل ہوا جائے
دستوں کو واضح ہدایت دی گئی کہ عمومی مزاحمت سے گریز کیا جائے، جس سے چند مقامات کے سوا شہر بلا تصادم فتح ہوا۔
6فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا انداز کیسا تھا؟
الففاتحانہ غرور کے بجائے عاجزی اور سر جھکائے ہوئے داخل ہوئے
بشاہانہ جشن کا اہتمام کیا
جانتقامی جذبات نمایاں تھے
دشہر پر مکمل کرفیو نافذ کیا
رسول اللہ ﷺ اس عظیم فتح پر فاتحانہ غرور کے بجائے عاجزی کی حالت میں مکہ میں داخل ہوئے۔
7کعبے سے کتنے بت ہٹائے گئے اور اس کا کیا مقصد تھا؟
الفتین سو ساٹھ بت، تاکہ بیت اللہ توحید کا مرکز بحال ہو
بصرف دس بت، تاکہ کچھ روایات باقی رہیں
جکوئی بت نہیں ہٹایا گیا
دپچاس بت، صرف علامتی طور پر
کعبہ سے تین سو ساٹھ بت ہٹائے گئے اور بیت اللہ کو دوبارہ توحید کے مرکز کی حیثیت بحال کی گئی۔
8فتح مکہ کے موقع پر عام معافی کے اعلان کے باوجود کیا استثنا رکھا گیا؟
الفچند مخصوص مجرمانہ افراد کے معاملات الگ رکھے گئے
بکسی کو بھی استثنا نہیں دیا گیا
جصرف عورتوں کو معاف کیا گیا
دصرف غلاموں کو معاف کیا گیا
بعض مخصوص افراد کے معاملات الگ رکھے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عام معافی مطلق بے قانونی نہیں تھی۔
9درج ذیل میں سے کون سا بیان فتح مکہ میں طاقت اور رحمت کے امتزاج کو بہتر بیان کرتا ہے؟
الففیصلہ کن قوت کے ساتھ عمومی خونریزی سے گریز کر کے وسیع معافی دی گئی
بمکمل انتقام لیا گیا
جشہر کو مکمل طور پر تباہ کیا گیا
دکوئی فوجی کارروائی نہیں کی گئی
مسلمان فیصلہ کن قوت کے ساتھ داخل ہوئے مگر خونریزی سے گریز کرتے ہوئے بیشتر سابق دشمنوں کو معاف کر دیا گیا۔
10فتح مکہ کے فوراً بعد کن قبائل نے مسلمانوں کے خلاف بڑا لشکر جمع کیا؟
الفہوازن اور ثقیف
ببنو قریظہ اور بنو نضیر
جغطفان اور بنو اسد
دروم اور فارس
فتح مکہ کے بعد ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے مسلمانوں کے مقابلے کے لیے بڑا لشکر جمع کیا۔
11ہوازن اور ثقیف نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کیوں جمع کیا؟
الفشاید یہ سمجھتے ہوئے کہ عرب کی سب سے بڑی مزاحمتی طاقت اب انہی کے پاس ہے
بکیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ آسانی سے شکست دیں گے
جکیونکہ رومیوں نے انہیں اکسایا تھا
دکیونکہ قریش نے انہیں مجبور کیا
ممکنہ طور پر ان قبائل نے یہ سمجھا کہ فتح مکہ کے بعد عرب کی سب سے بڑی مزاحمتی قوت اب انہی کے ہاتھ میں ہے۔
12وادئ حنین میں ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کی صفوں میں انتشار کیوں پیدا ہوا؟
الفدشمن کی پہلے سے تاک لگائی گئی اچانک حملے کے باعث
برسول اللہ ﷺ کی عدم موجودگی کے باعث
جہتھیاروں کی کمی کے باعث
دقریش کی غداری کے باعث
دشمن نے پہلے سے تاک لگا رکھی تھی اور ابتدائی اچانک حملے سے اسلامی صفوں میں وقتی اضطراب پیدا ہوا۔
13حنین کی صورتحال کیسے سنبھلی اور فتح کیسے حاصل ہوئی؟
الفرسول اللہ ﷺ ثابت قدم رہے اور آپ ﷺ کی للکار پر منتشر افراد دوبارہ منظم ہوئے
بمسلمان مکمل طور پر پسپا ہو گئے
جدشمن نے خود ہتھیار ڈال دیے
دروم نے مداخلت کر کے فتح دلائی
رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ ثابت قدم رہے اور آپ ﷺ کی للکار پر بکھرے ہوئے لوگ دوبارہ منظم ہو کر واپس آئے۔
14حنین کے واقعے سے قرآن نے سورۃ التوبہ میں کیا سبق دیا؟
الفکثرتِ تعداد نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا، فتح نظم اور اللہ کی مدد سے آتی ہے
بجنگ میں تعداد ہی سب کچھ ہے
جدشمن کبھی شکست نہیں کھاتا
دکمزوروں کو ہمیشہ ہار ملتی ہے
قرآن نے واضح کیا کہ حنین کے دن کثرتِ تعداد نے ابتدا میں کوئی فائدہ نہ دیا اور فتح نظم، ثبات اور اللہ کی مدد سے آتی ہے۔
15حنین کا سبق فتح مکہ کے فوراً بعد کیوں آیا؟
الفگویا یہ جماعت کو غرور اور خود اعتمادی کی زیادتی سے بچانے کا تربیتی موقع تھا
بکیونکہ اس کا فتح مکہ سے کوئی تعلق نہیں تھا
جکیونکہ مسلمانوں کے پاس اور کوئی مصروفیت نہ تھی
دکیونکہ رومیوں نے حملہ کر دیا تھا
یہ سبق فتح مکہ کی عظیم کامیابی کے فوراً بعد آیا، گویا اسے غرور اور خود اعتمادی کی زیادتی سے بچانے کے لیے تربیتی موقع بنایا گیا۔
16طائف کا محاصرہ کیوں اٹھایا گیا؟
الففوری فتح ممکن نہ ہونے پر غیر ضروری جانی نقصان سے بچنے کے لیے
بدشمن نے صلح کی درخواست کی تھی
جخوراک ختم ہو گئی تھی
دموسم سرما شروع ہو گیا تھا
جب طویل محاصرے کے باوجود فوری فتح ممکن نظر نہ آئی تو غیر ضروری جانی نقصان سے بچتے ہوئے محاصرہ اٹھا لیا گیا۔
17طائف کے محاصرے کے اٹھائے جانے کا نتیجہ کیا نکلا؟
الفکچھ عرصے بعد ثقیف نے خود وفد بھیج کر رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا
بثقیف نے دوبارہ حملہ کر دیا
جثقیف نے رومی سلطنت سے مدد مانگی
دثقیف نے مستقل طور پر دشمنی جاری رکھی
محاصرہ اٹھائے جانے کے کچھ عرصے بعد ثقیف نے خود وفد بھیج کر رضاکارانہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔
18درج ذیل میں سے کون سا بیان طائف کے واقعے سے حاصل ہونے والے سبق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفہر مسئلے کا حل فوری فوجی کارروائی نہیں بلکہ بسا اوقات صبر اور وقت ہی بہترین حکمتِ عملی ہوتی ہے
بمحاصرہ اٹھانا ہمیشہ شکست کی علامت ہے
جطائف کا اسلام قبول کرنا محض اتفاق تھا
دصبر کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتا
طائف کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ بعض اوقات صبر اور وقت فوری فوجی کارروائی سے بہتر نتائج دیتے ہیں۔
19غزوۂ تبوک کس خطرے کی اطلاع پر پیش آیا؟
الفشمالی سرحد سے رومی سلطنت کے ممکنہ حملے کی اطلاع پر
بمکہ سے قریش کے حملے کی اطلاع پر
جخیبر کے یہود کی بغاوت کی اطلاع پر
دطائف کے دوبارہ حملے کی اطلاع پر
نو ہجری میں شمالی سرحد سے رومی سلطنت کے ممکنہ حملے کی اطلاعات پر تبوک کی تیاری کی گئی۔
20تبوک کی روانگی کن مشکل حالات میں ہوئی؟
الفسخت گرمی کے موسم اور فصل کی کٹائی کے نازک وقت میں
بشدید سردی اور برفباری میں
جطویل قحط اور خشک سالی میں
دزلزلے اور سیلاب کے دوران
رسول اللہ ﷺ نے سخت گرمی کے موسم اور فصل کی کٹائی کے وقت کے باوجود لشکر کو تبوک کی طرف روانہ کیا۔
21تبوک کے طویل اور دشوار سفر نے کس چیز کو نمایاں کیا؟
الفمخلص مومنوں اور منافقین کے درمیان واضح فرق کو
بخیبر کی زرعی پیداوار کو
جقریش کی عسکری طاقت کو
دروم کی مکمل شکست کو
اس مشقت کو صرف مضبوط ایمان والے برداشت کر سکے، جس سے مخلصین اور منافقین کے درمیان خط کھینچ گیا۔
22غزوۂ تبوک میں بڑا معرکہ پیش نہ آنے کے باوجود اس کی کیا اہمیت رہی؟
الفاس نے اسلامی ریاست کی دفاعی رسائی اور سیاسی وقار کو نمایاں کیا
بیہ ایک بے فائدہ مہم ثابت ہوئی
جاس نے مسلمانوں کی طاقت کو کمزور دکھایا
داس کا کوئی سیاسی اثر نہیں پڑا
اگرچہ کوئی بڑا معرکہ پیش نہ آیا، تاہم اس مہم نے اسلامی ریاست کی دفاعی رسائی اور سیاسی وقار کو نمایاں کیا۔
23حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم میں تالیفِ قلوب کا کیا مطلب تھا؟
الفنئے مسلمانوں اور دلوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت رکھنے والوں کو بڑا حصہ دینا
بصرف انصار کو حصہ دینا
جمالِ غنیمت کو مکمل طور پر خزانے میں جمع کرنا
دمالِ غنیمت مہاجرین میں تقسیم کرنا
تالیفِ قلوب کے تحت نئے مسلمانوں یا دل مضبوط کرنے کی ضرورت رکھنے والوں کو خاص طور پر بڑا حصہ دیا گیا۔
24انصار کی رنجش پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں کیا سمجھایا؟
الفدنیا کا مال نئے لوگوں کے لیے ہے جبکہ انصار کو ایمان اور رفاقتِ رسول ﷺ جیسی دائمی نعمت ملی ہے
بانصار کو بھی زیادہ مال دے دیا گیا
جانصار کی رنجش کو نظرانداز کر دیا گیا
دانصار کو مدینہ چھوڑنے کا کہا گیا
رسول اللہ ﷺ نے انصار کو جمع کر کے سمجھایا کہ نئے آنے والوں کو مال دیا جا رہا ہے جبکہ انصار کو ایمان اور رفاقت کی دائمی نعمت حاصل ہے۔
25مالِ غنیمتِ حنین کی تقسیم کا واقعہ قیادت کی کس صفت کو ظاہر کرتا ہے؟
الففراخدلی، حکمت اور سچائی کے ساتھ لوگوں کے دل جیتنے کا فن
بمالی وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنا
جکمزور فیصلہ سازی
دقبائلی تعصب
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ قیادت میں فراخدلی، حکمت اور سچائی کے ساتھ دل جیتنے کا فن کس قدر اہم تھا۔
26فتح مکہ کا سب سے بڑا سیاسی نتیجہ کیا نکلا؟
الفقریش کی صدیوں پرانی مزاحمت ختم ہوئی اور حرم توحیدی مرکز بنا
بخیبر کے یہود نے اسلام قبول کیا
جروم نے صلح کی درخواست کی
دطائف نے فوری اسلام قبول کیا
فتح مکہ نے قریش کی صدیوں پرانی مزاحمت کا خاتمہ کیا اور حرم کو دوبارہ توحیدی مرکز بنا دیا۔
27تبوک کے بعد جزیرہ نما عرب میں جو نمایاں تبدیلی آئی اسے سیرت کی اصطلاح میں کیا کہا جاتا ہے؟
الفعام الوفود
بعام الحزن
جفتح مبین
دیوم الفرقان
تبوک کے بعد وفود کی آمد میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسے سیرت کی اصطلاح میں عام الوفود یعنی وفود کا سال کہا جاتا ہے۔
28درج ذیل میں سے کون سا بیان فتح مکہ سے تبوک تک کے پورے سفر کے مجموعی سبق کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفنبوی کامیابی طاقت کے استعمال سے زیادہ صبر، حکمت اور عفو کا نتیجہ تھی
بکامیابی صرف عددی برتری سے حاصل ہوتی ہے
ججنگ ہی ہر مسئلے کا واحد حل ہے
ددور اندیشی کی کوئی اہمیت نہیں
یہ پورا سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ نبوی کامیابی عقیدے کی پختگی، صبر، حکمت اور بروقت عفو کا ثمر تھی، محض طاقت کا نتیجہ نہیں۔
29فتح مکہ، حنین، طائف اور تبوک کا مشترک پہلو کیا تھا جو مضمون میں بیان کیا گیا؟
الفہر ایک میں طاقت، صبر اور رحمت کا امتزاج مختلف تناسب سے کارفرما رہا
بچاروں واقعات میں صرف طاقت کا استعمال ہوا
جچاروں واقعات کا کوئی مشترک پہلو نہیں تھا
دچاروں میں صرف مذاکرات ہوئے، کوئی جنگ نہیں ہوئی
مضمون کے مطابق فتح مکہ میں طاقت کے ساتھ عفو، حنین میں ثبات، طائف میں صبر، اور تبوک میں استقامت نمایاں تھی۔
30حنین، طائف اور تبوک نے مجموعی طور پر مسلمان جماعت کی تربیت میں کیا کردار ادا کیا؟
الفہر ایک نے غرور، جلد بازی اور کمزور عزم جیسی کمزوریوں سے پاک کر کے ایک بالغ سیاسی و دینی قوت میں ڈھالا
بتینوں مہمات کا کوئی تربیتی پہلو نہیں تھا
جصرف طائف نے تربیتی کردار ادا کیا
دان مہمات نے جماعت کو کمزور کر دیا
حنین نے غرور کی اصلاح کی، طائف نے صبر سکھایا، اور تبوک نے استقامت کا امتحان لیا، یوں تینوں مل کر جماعت کو بالغ قوت میں ڈھالتے ہیں۔

موضوع 13۔ یہود، مشرکین، قبائلِ عرب اور غیر مسلم حکمرانوں کے ساتھ تعلقات و سفارت کاری

1مضمون کے مطابق نبوی تعلقات کا مطالعہ بنیادی طور پر کس چیز کی وضاحت ہے؟
الفایک سفارتی اور اخلاقی نظام جس میں عدل، وفائے عہد اور دعوت مرکزی حیثیت رکھتے ہیں
بمحض جنگی واقعات کی فہرست
جصرف قبائلی جنگوں کی تاریخ
دصرف معاشی معاہدوں کا ریکارڈ
یہ مطالعہ محض جنگی واقعات کی فہرست نہیں بلکہ ایک سفارتی و اخلاقی نظام کی وضاحت ہے جس میں عدل اور دعوت مرکزی ہیں۔
2قرآن کا کون سا اصول نبوی سفارتی نظام کی روح قرار دیا گیا ہے؟
الف﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ﴾
ب﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
ج﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾
د﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾
اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی مائل ہو جاؤ کا اصول اس پورے سفارتی نظام کی روح قرار دیا گیا ہے۔
3نبوی تعلقات کا سب سے نمایاں بنیادی اصول کیا تھا؟
الفکسی گروہ کی محض مذہبی شناخت جنگ کا سبب نہیں بنائی گئی
بہر غیر مسلم قبیلے سے جنگ لازمی تھی
جصرف اہلِ کتاب سے صلح کی جاتی تھی
دمذہبی اختلاف ہی جنگ کی بنیادی وجہ تھی
نبوی تعلقات میں کسی گروہ کی مذہبی شناخت کو کبھی جنگ کا جواز نہیں بنایا گیا، بلکہ عمل ہی معیار رہا۔
4یہ بنیادی اصول کہ عمل معیار ہے مذہبی شناخت نہیں، کن گروہوں پر یکساں طور پر لاگو ہوا؟
الفمشرکین اور اہلِ کتاب دونوں پر
بصرف مشرکین پر
جصرف اہلِ کتاب پر
دصرف عرب قبائل پر
یہ اصول مشرکین اور اہلِ کتاب دونوں کے ساتھ تعلقات میں یکساں طور پر کارفرما رہا۔
5میثاقِ مدینہ نے یہودی قبائل کو کیا حقوق دیے؟
الفمذہبی آزادی، مشترک دفاع کی ذمہ داری اور شہری حقوق
بمکمل سیاسی خودمختاری اور علیحدہ ریاست
جصرف تجارتی مراعات
دکوئی حقوق نہیں دیے گئے
میثاقِ مدینہ کے ذریعے یہودی قبائل کو مذہبی آزادی، مشترک دفاع کی ذمہ داری اور شہری حقوق عطا کیے گئے۔
6یہودی قبائل کے ساتھ ابتدائی تعلق کی بنیاد کیا تھی؟
الفایک باقاعدہ شہری معاہدہ، نہ کہ جبری تبدیلیِ مذہب
بجبری تبدیلیِ مذہب کی شرط
جمکمل جلاوطنی کا معاہدہ
دصرف وقتی جنگ بندی
یہ تعلق زبردستی تبدیلیِ مذہب پر نہیں بلکہ ایک باقاعدہ شہری معاہدے پر مبنی تھا۔
7بنو قینقاع، بنو نضیر اور بنو قریظہ کے تنازعات کو سمجھنے کا درست علمی طریقہ کیا ہے؟
الفہر قبیلے کے مخصوص اسباب اور سیاق کو الگ الگ سمجھنا چاہیے
بتمام یہود کے خلاف عمومی مذہبی دشمنی کا نتیجہ نکالنا چاہیے
جان واقعات کو محض افسانہ سمجھ کر رد کر دینا چاہیے
دصرف ایک ہی سبب پر انحصار کرنا چاہیے
یہ تنازعات مختلف اوقات اور اسباب سے پیش آئے، اس لیے انہیں ان کے مخصوص سیاق میں سمجھنا ضروری ہے، ایک ہی سانچے میں نہیں۔
8مضمون کے مطابق تمام یہود کے خلاف عمومی مذہبی دشمنی کا نتیجہ اخذ کرنا کیوں غلط ہے؟
الفیہ نہ تاریخی حقائق سے ثابت ہے اور نہ قرآنی عدل کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے
بکیونکہ یہود کبھی مدینہ میں آباد نہیں تھے
جکیونکہ کوئی تنازعہ پیش ہی نہیں آیا
دکیونکہ قرآن نے اس کی صراحتاً اجازت دی ہے
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ مخصوص واقعات سے عمومی مذہبی دشمنی کا نتیجہ نہ نکالا جائے، کیونکہ یہ تاریخی و قرآنی عدل کے منافی ہے۔
9مکی دور میں شدید ظلم کے مقابلے میں مسلمانوں کو کیا ہدایت دی گئی؟
الفصبر اور پرامن دعوت کی ہدایت
بجوابی حملے کی اجازت
جہجرت سے مکمل انکار کی ہدایت
دخفیہ مسلح مزاحمت کی ہدایت
مکی دور میں شدید ترین ظلم کے باوجود مسلمانوں کو صبر، برداشت اور پرامن دعوت کی ہدایت دی گئی تھی۔
10مدنی دور میں قریش کی کھلی جنگی جارحیت کے مراحل کون سے دفاعی معرکے تھے؟
الفبدر، احد اور خندق
بحدیبیہ اور خیبر
جطائف اور تبوک
دحنین اور تبوک
مدنی دور میں جب قریش نے کھلی جنگی جارحیت اختیار کی تو بدر، احد اور خندق جیسے دفاعی معرکے پیش آئے۔
11درج ذیل میں سے کون سا بیان مشرکینِ مکہ کے ساتھ نبوی رویے کے تدریجی سفر کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفمکی دور کے صبر سے مدنی دفاع، پھر حدیبیہ اور فتح مکہ کے عفو تک کا سفر
بابتدا سے آخر تک صرف جنگ کا راستہ اپنایا گیا
جکبھی کوئی معاہدہ نہیں کیا گیا
دعفو صرف مدنی دور کے آغاز میں دیا گیا
یہ سفر صبر سے دفاع اور بالآخر حدیبیہ و فتح مکہ کے عفو تک پھیلا ہوا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ امن و عفو ہی اصل مرکزی وسائل تھے۔
12مشرکینِ مکہ کے حوالے سے حدیبیہ اور فتح مکہ نے کیا ثابت کیا؟
الفامن، معاہدہ اور عفو ہی نبوی پالیسی کے حقیقی مرکزی وسائل تھے، جنگ آخری راستہ تھی
بجنگ ہی واحد ترجیحی حکمتِ عملی تھی
جمعاہدے کبھی نہیں کیے گئے
دعفو کبھی نہیں دیا گیا
حدیبیہ اور فتح مکہ کا عام معافی کا اعلان اس بات کی روشن مثال ہیں کہ امن اور عفو نبوی پالیسی کے مرکزی وسائل تھے۔
13رسول اللہ ﷺ نے عرب قبائل کے ساتھ کس نوعیت کے معاہدے کیے؟
الفبیعت، امن، تعاون اور عدم جارحیت کے متنوع معاہدے
بصرف جنگ بندی کے وقتی معاہدے
جصرف تجارتی معاہدے
دکوئی معاہدہ نہیں کیا گیا
رسول اللہ ﷺ نے مختلف قبائل کے ساتھ بیعت، امن، باہمی تعاون اور عدم جارحیت کے متنوع معاہدے کیے۔
14قبائل سے آنے والے وفود کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جاتا اور مقامی نظم کیسے قائم کیا جاتا؟
الفوفود کو عزت دی جاتی اور مقامی حالات کے مطابق معلم و عامل بھیجے جاتے
بوفود کو واپس بھیج دیا جاتا
جوفود سے جبری بیعت لی جاتی
دوفود کو نظرانداز کر دیا جاتا
آنے والے وفود کو عزت و احترام دیا جاتا اور مقامی حالات کے مطابق معلم اور عامل بھیجے جاتے تاکہ نظم قائم رہے۔
15قبائلی خودمختاری کو نئے اسلامی نظم میں کیسے شامل کیا گیا، جو ایک پختہ سیاسی حکمتِ عملی سمجھی جاتی ہے؟
الفیکدم ختم کرنے کے بجائے بتدریج ایک وسیع تر عدل پر مبنی نظام میں شامل کیا گیا
بفوری اور جبری طور پر مکمل خاتمہ کیا گیا
جبالکل نظرانداز کیا گیا
دصرف طاقت کے زور پر ضم کیا گیا
قبائلی خودمختاری کو تدریج کے ساتھ ایک وسیع تر عدل پر مبنی سیاسی نظام میں شامل کیا گیا، جو ایک پختہ حکمتِ عملی تھی۔
16حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کن حکمرانوں کو دعوتی خطوط بھیجے؟
الفہرقل، کسریٰ، مقوقس اور نجاشی سمیت متعدد حکمرانوں کو
بصرف عرب کے قبائلی سرداروں کو
جصرف مدینہ کے یہودیوں کو
دصرف قریش کے سرداروں کو
حدیبیہ کے بعد امن کا ماحول ملنے پر روم کے ہرقل، ایران کے کسریٰ، مصر کے مقوقس اور حبشہ کے نجاشی کو خطوط بھیجے گئے۔
17رسول اللہ ﷺ نے بین الاقوامی سفارتی رواج کے مطابق کیا اقدام کیا اور کیوں؟
الفمہر بنوائی، کیونکہ بغیر مہر کے خط کو تحریری سند نہیں سمجھا جاتا تھا
بپرچم بنوایا تاکہ لشکر کی شناخت ہو
جسفارت خانہ قائم کیا
دالگ کرنسی جاری کی
چونکہ بغیر مہر کے خط کو تحریری سند نہیں سمجھا جاتا تھا، اس لیے آپ ﷺ نے بین الاقوامی رواج کے مطابق ایک مہر بنوائی۔
18نبوی خطوط کی اسناد کے بارے میں کیا علمی احتیاط ضروری ہے؟
الفہرقل کے خط کی روایت مضبوط سند سے ثابت ہے، جبکہ دیگر خطوط کی اسناد یکساں درجے کی نہیں
بتمام خطوط ایک ہی مضبوط سند سے ثابت ہیں
جکسی خط کی کوئی سند موجود نہیں
دتمام خطوط بلا استثنا ضعیف ہیں
صحیح بخاری میں ہرقل کے نام پیغام کی روایت مضبوط سند سے ثابت ہے، جبکہ دیگر خطوط کی اسناد اسی درجے کی نہیں، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
19نبوی سفارتی نظام میں سفیروں اور وفود کے حوالے سے کیا اصول اپنائے گئے؟
الفسفیروں کے تحفظ کی ضمانت، وفود کی معزز میزبانی اور واضح تحریری ابلاغ
بسفیروں کو گرفتار کرنے کا اصول
جوفود کو داخلے کی اجازت نہ دینا
دخطوط میں مبہم پیغامات بھیجنا
سفیروں کے تحفظ، وفود کی معزز میزبانی اور واضح تحریری ابلاغ نے ابتدائی اسلامی سفارت کاری کو منظم صورت دی۔
20حبشہ کے حکمران نجاشی نے مکی دور میں مہاجر مسلمانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
الفپناہ دی اور قریش کے دباؤ کے باوجود انصاف کے ساتھ فیصلہ دیا
بانہیں واپس مکہ بھیج دیا
جانہیں جیل میں ڈال دیا
دقریش کے دباؤ پر انہیں بے دخل کر دیا
نجاشی نے مہاجرین کو پناہ دی اور قریش کے نمائندوں کے دباؤ کے باوجود انصاف کے ساتھ ان کا مقدمہ سن کر ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
21نجاشی کے واقعے سے کیا سبق ملتا ہے؟
الفغیر مسلم حکمران کے ساتھ تعلق سیاسی مصلحت کے علاوہ باہمی احترام اور انصاف پر بھی استوار ہو سکتا ہے
بغیر مسلم حکمرانوں سے کوئی تعلق نہیں رکھا جا سکتا
جنجاشی کا کردار غیر اہم تھا
دقریش کے دباؤ نے ہمیشہ کامیابی حاصل کی
نجاشی کا واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کسی غیر مسلم حکمران کے ساتھ تعلق باہمی احترام، انصاف اور دعوت کے اصولوں پر بھی استوار ہو سکتا ہے۔
22روایات کے مطابق نجاشی کے ساتھ نبوی رابطے کا کیا نتیجہ نکلا؟
الفرسول اللہ ﷺ کے دعوتی خط کے بعد نجاشی نے اسلام قبول کر لیا
بنجاشی نے دعوت مسترد کر دی
جنجاشی نے قریش کا ساتھ دیا
دنجاشی نے کوئی جواب نہیں دیا
رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کو دعوتی خط ارسال کیا، اور روایات کے مطابق نجاشی نے اسلام قبول کر لیا تھا۔
23نبوی نمونہ عصرِ حاضر کے کثیر المذاہب معاشروں کے لیے کیا رہنمائی فراہم کرتا ہے؟
الفمذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی عادلانہ بقائے باہمی ممکن ہے
بکثیر المذاہب معاشرہ ناقابلِ عمل ہے
جسفارت کاری صرف کمزوروں کا ہتھیار ہے
دمعاہدے کی پابندی غیر ضروری ہے
نبوی نمونہ ثابت کرتا ہے کہ مذہبی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بھی عادلانہ بقائے باہمی قائم رکھی جا سکتی ہے۔
24معاہدے کی پابندی کو نبوی نمونے میں کیسا سمجھا گیا؟
الفقوت و کمزوری دونوں حالات میں ایک اخلاقی ذمہ داری
بصرف کمزوری کی حالت میں لازم
جصرف قوت کی حالت میں لازم
دغیر ضروری اور قابلِ نظرانداز
معاہدے کی پابندی، خواہ قوت کی حالت ہو یا کمزوری کی، ایک مستقل اخلاقی ذمہ داری کے طور پر پیش کی گئی۔
25درج ذیل میں سے کون سا بیان نبوی سفارت کاری کے اصل مقصد کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفاصول فروشی نہیں بلکہ خونریزی روکنے اور حق کو حکمت سے واضح کرنے کا ذریعہ
بکمزوری چھپانے کا طریقہ
جوقتی مفاد حاصل کرنے کا ذریعہ
ددشمن کو دھوکا دینے کا حربہ
سفارت کاری کو اصول فروشی نہیں بلکہ خونریزی روکنے اور حق کو حکمت کے ساتھ واضح کرنے کی ایک حکیمانہ صورت کے طور پر اپنایا گیا۔
26مضمون کے مطابق نبوی سفارتی اصول آج کے دور میں کیوں متعلقہ ہیں؟
الفیہ اصول کثیر المذاہب اور بین الاقوامی تعلقات کے لیے اتنے ہی متعلق ہیں جتنے ساتویں صدی میں تھے
بیہ اصول صرف ساتویں صدی کے عرب تک محدود تھے
جان اصولوں کا آج کوئی اطلاق ممکن نہیں
دیہ اصول صرف مسلم ممالک کے لیے تھے
یہ اصول آج کے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی معاشروں میں بھی اتنے ہی متعلقہ ہیں جتنے ساتویں صدی عیسوی کے عرب میں تھے۔
27مضمون کا حاصلِ کلام کیا ہے کہ عدل اور دعوت کا امتزاج کیا کر سکتا ہے؟
الفیہ کسی بھی دور میں پرامن بقائے باہمی کی ٹھوس بنیاد بن سکتا ہے
بیہ صرف تاریخی حیثیت رکھتا ہے، عملی نہیں
جیہ صرف مذہبی رسم ہے
دیہ سیاسی معاملات سے غیر متعلق ہے
نتیجے میں بتایا گیا ہے کہ عدل اور دعوت کا امتزاج کسی بھی دور میں پرامن بقائے باہمی کی ٹھوس بنیاد بن سکتا ہے۔
28رسول اللہ ﷺ کا مجموعی طرزِ عمل کس بات کی دلیل ہے؟
الفمذہبی رواداری اور اصولی مؤقف ایک ساتھ قائم رہ سکتے ہیں
برواداری اور اصولی مؤقف ایک ساتھ ممکن نہیں
جاصولی مؤقف رواداری کو ختم کر دیتا ہے
درواداری ہمیشہ اصول کی قربانی مانگتی ہے
رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل ثابت کرتا ہے کہ مذہبی رواداری اور اصولی مؤقف ایک ساتھ قائم رہ سکتے ہیں، بشرطیکہ بنیاد عدل پر ہو۔
29سفارتی آداب میں سفیر کے لیے کیا بنیادی صلاحیت ضروری سمجھی جاتی تھی؟
الفپیغام کی درست تفہیم اور متعلقہ زبان و حالات سے واقفیت
بصرف جسمانی طاقت
جصرف مالی وسائل کی فراوانی
دصرف قبائلی تعلقات کی مضبوطی
سفیر کو پیغام کی درست تفہیم، متعلقہ زبان اور مقامی حالات سے مکمل واقفیت کا حامل ہونا ضروری سمجھا جاتا تھا۔
30مضمون میں دعوتی خطوط کے بنیادی مضمون کے طور پر کیا بیان کیا گیا؟
الفتوحید، آپ ﷺ کی رسالت اور دعوتِ حق قبول کرنے کی ذمہ داری
بسیاسی اتحاد کی محض درخواست
جتجارتی معاہدے کی پیشکش
دعلاقائی تنازعات کا حل
دعوتی خطوط میں توحید، رسالت اور ذمہ دار طریقے سے حق قبول کرنے کی دعوت بیان کی گئی تھی۔

موضوع 14۔ عہدِ نبوی کا معاشرتی، معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام

1عہدِ نبوی کا معاشرتی، معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام کس صورت میں سامنے آیا؟
الفایک اصولی اور مسلسل ارتقا پذیر ڈھانچے کی صورت میں
بایک جامد اور غیر متغیر دفتری خاکے کی صورت میں
جمحض ایک عارضی جنگی انتظام کی صورت میں
دقبائلی رسم و رواج کے تسلسل کی صورت میں
یہ نظام کسی جامد دفتری خاکے کے بجائے ایک اصولی اور مسلسل ارتقا پذیر ڈھانچے کی صورت میں سامنے آیا۔
2قرآن کا کون سا حکم اس پورے نظام کی روح قرار دیا گیا ہے؟
الف﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ﴾
ب﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾
ج﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ﴾
د﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾
اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے، یہ آیت اس پورے نظام کی روح ہے جس میں قانون کو اخلاق سے جدا نہیں کیا گیا۔
3مہاجرین و انصار کی مواخات کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفقبائلی فاصلے کم کرنا اور ایمانی اخوت کو معاشرتی نظم کی بنیاد بنانا
بجاگیرداری نظام قائم کرنا
جقبائلی عصبیت کو مضبوط کرنا
دصرف مالی وسائل کی تقسیم کرنا
مواخات نے قبائلی فاصلے اور جاہلی عصبیت کے بجائے ایمانی رشتے کو معاشرتی نظم کی بنیاد بنایا۔
4عہدِ نبوی میں کن کمزور طبقات کے حقوق پر خصوصی تعلیم دی گئی؟
الفعورت، یتیم، مسکین، غلام اور پڑوسی
بصرف امرا اور سردار
جصرف تاجر طبقہ
دصرف عسکری قیادت
عورت، یتیم، مسکین، غلام اور پڑوسی کے حقوق پر مسلسل تعلیم دی گئی اور تقویٰ کو فضیلت کا معیار بنایا گیا۔
5خاندان کے نظام میں نکاح کو کیا حیثیت دی گئی؟
الفایک ذمہ دار معاہدہ جس میں دونوں فریقوں کے حقوق و فرائض واضح تھے
بمحض ایک رسمی تقریب
جخالصتاً ذاتی معاملہ جس میں کوئی حدود نہیں
دایک غیر ضروری سماجی رسم
نکاح کو ایک ذمہ دار معاہدہ قرار دیا گیا جس میں مہر، وراثت، نفقہ اور حسنِ معاشرت کے حقوق واضح بیان کیے گئے۔
6طلاق کے معاملے میں کیا حدود مقرر کی گئیں؟
الفعدت، مصالحت کی کوشش اور ظلم سے بچاؤ کی واضح حدود
بکوئی حد مقرر نہیں کی گئی
جطلاق کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا
دصرف مرد کی مرضی کو معیار بنایا گیا
اگرچہ طلاق کی اجازت دی گئی، تاہم عدت، مصالحت کی کوششوں اور ظلم سے بچاؤ کی واضح حدود مقرر کی گئیں۔
7درج ذیل میں سے کون سا بیان معاشرتی اصلاحات کے عمل کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفعرب معاشرے کی جڑوں میں پیوست ناانصافیوں کا خاتمہ بتدریج اور مرحلہ وار کیا گیا
بتمام اصلاحات ایک ہی دن نافذ کر دی گئیں
جکوئی اصلاح جاہلی رسوم میں نہیں کی گئی
داصلاحات صرف امرا کے لیے مخصوص تھیں
مضمون کے مطابق یہ اصلاحات عرب معاشرے کی جڑوں میں پیوست ناانصافیوں کا خاتمہ بتدریج اور مرحلہ وار کرتی گئیں۔
8معاشی میدان میں کن استحصالی طریقوں سے سختی سے روکا گیا؟
الفسود، دھوکا، ذخیرہ اندوزی، جھوٹی قسم اور ناپ تول میں کمی
بتجارت اور ذاتی ملکیت
جزراعت اور دستکاری
دزکوٰۃ اور صدقات
سود، دھوکا دہی، ذخیرہ اندوزی، جھوٹی قسم اور ناپ تول میں کمی جیسے استحصالی طریقوں سے سختی سے روکا گیا۔
9زکوٰۃ اور صدقات کا معاشرتی کردار کیا تھا؟
الفدولت کے ساتھ ایک واضح سماجی ذمہ داری جوڑنا تاکہ مالی توازن قائم رہے
بدولت کو مکمل طور پر ضبط کرنا
جصرف امرا کو فائدہ پہنچانا
دتجارت کو محدود کرنا
زکوٰۃ، صدقات اور انفاق کے ذریعے دولت کے ساتھ سماجی ذمہ داری جوڑی گئی تاکہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہو۔
10مدینہ کے بازار کے نظم کی بنیادی خصوصیت کیا تھی؟
الفآزاد بازار مگر اخلاقی نگرانی، قیمتوں میں مصنوعی مداخلت نہیں
بقیمتوں کا مکمل سرکاری تعین
جبازار پر مکمل پابندی
دصرف مخصوص طبقے کو تجارت کی اجازت
مدینہ کا بازار آزاد مگر اخلاقی نگرانی کے تحت چلنے والا ادارہ تھا، جہاں ظلم اور دھوکے کی روک تھام پر توجہ رہی۔
11جب صحابہ نے قیمتیں مقرر کرنے کی درخواست کی تو رسول اللہ ﷺ نے کیا جواب دیا؟
الفانکار فرمایا اور کہا کہ قیمتیں مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے
بفوراً قیمتیں مقرر کر دیں
جتاجروں کو سزا دینے کا حکم دیا
دبازار بند کرنے کا حکم دیا
رسول اللہ ﷺ نے قیمتیں مقرر کرنے سے انکار فرمایا اور کہا کہ قیمتیں مقرر کرنے والا اللہ ہی ہے۔
12عہدِ نبوی کے عدالتی نظام میں دعویٰ اور انکار کا بنیادی اصول کیا تھا؟
الفمدعی پر دلیل لانا اور منکر پر قسم اٹھانا لازم تھا
بدونوں پر قسم لازم تھی
جصرف طاقتور کا دعویٰ قبول ہوتا تھا
دکوئی اصول موجود نہیں تھا
دعویٰ کرنے والے پر دلیل لانا اور انکار کرنے والے پر قسم اٹھانا لازم تھا، جو ذمہ داری کی منصفانہ تقسیم ظاہر کرتا ہے۔
13قانونی مساوات کا کیا معیار قائم کیا گیا تھا؟
الفبااثر شخص بھی جرم ثابت ہونے پر خصوصی رعایت کا مستحق نہیں تھا
ببااثر افراد کو استثنا حاصل تھا
جقانون صرف عام لوگوں پر لاگو ہوتا تھا
دقانون کا اطلاق قبیلے کی بنیاد پر ہوتا تھا
قانونی مساوات اس حد تک تھی کہ کوئی بااثر شخص بھی جرم پر خصوصی رعایت کا حق دار نہ تھا۔
14مخزومی عورت کے واقعے میں رسول اللہ ﷺ نے سفارش مسترد کرتے ہوئے کیا اصول واضح فرمایا؟
الفاگلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں پر حد نافذ کرتی تھیں اور بااثر افراد کو چھوڑ دیتی تھیں
بخاندانی سفارش قابلِ قبول ہے
جعورتوں پر حدود لاگو نہیں ہوتیں
دصرف غریبوں پر قانون لاگو ہوتا ہے
آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگلی امتیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں کہ وہ کمزوروں پر حد نافذ کرتی تھیں اور بااثر افراد کو چھوڑ دیتی تھیں۔
15رسول اللہ ﷺ نے اسی موقع پر اپنی بیٹی فاطمہؓ کے بارے میں کیا فرمایا؟
الفاگر وہ بھی چوری کرتیں تو ان کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا
بانہیں مکمل استثنا حاصل ہوتا
جان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا
داس معاملے کا خاندان سے کوئی تعلق نہیں
آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا، جو مکمل قانونی مساوات کی علامت ہے۔
16انتظامی امور کے لیے کن عہدوں پر افراد مقرر کیے جاتے تھے؟
الفوالی، عامل، کاتب، سفیر، امیرِ لشکر اور زکوٰۃ وصول کرنے والے
بصرف قاضی اور امام
جصرف امیرِ لشکر
دصرف کاتب
ریاست کے مختلف امور کے لیے والی، عامل، کاتب، سفیر، امیرِ لشکر اور زکوٰۃ وصول کرنے والے کارکن مقرر کیے گئے۔
17انتظامی تقرریوں کا بنیادی معیار کیا تھا؟
الفاہلیت، امانت اور جواب دہی
بنسلی برتری
جمالی حیثیت
دقبائلی تعلقات
اہلیت، امانت اور جواب دہی تقرری کا بنیادی معیار تھے، نہ کہ نسب یا دولت۔
18وحی کے دائرے سے باہر اجتماعی معاملات میں رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے؟
الفصحابہ سے باقاعدگی سے مشاورت فرماتے تھے
بتنہا فیصلہ کرتے تھے
جقرعہ اندازی کرتے تھے
دمعاملہ ہمیشہ ملتوی کر دیتے تھے
خندق کی حکمتِ عملی اور بدر کے قیدیوں جیسے معاملات میں رسول اللہ ﷺ صحابہ سے باقاعدگی سے مشاورت فرماتے تھے۔
19نبوی مشاورتی روایت بعد کے ادوار میں کیا بنی؟
الفخلافتِ راشدہ کے دور میں مزید مستحکم ہو کر اسلامی طرزِ حکمرانی کی بنیادی خصوصیت بن گئی
ببعد کے ادوار میں مکمل طور پر ترک کر دی گئی
جصرف عہدِ نبوی تک محدود رہی
داس کا کوئی اثر باقی نہ رہا
یہ مشاورتی روایت خلافتِ راشدہ کے دور میں مزید مستحکم ہوئی اور اسلامی طرزِ حکمرانی کی بنیادی خصوصیت بن گئی۔
20مسجدِ نبوی کس نوعیت کا مرکز تھی؟
الفعبادت کے ساتھ تعلیم، مشاورت اور سماجی بہبود کا مرکز
بصرف عبادت کے لیے مخصوص جگہ
جصرف عسکری منصوبہ بندی کا مرکز
دصرف تجارتی سرگرمیوں کا مرکز
مسجدِ نبوی محض عبادت کی جگہ نہیں بلکہ تعلیم، مشاورت اور سماجی بہبود کا مرکز بھی تھی۔
21اہلِ صفہ کون تھے اور ان کی کفالت کس کی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی؟
الفغریب و بے گھر صحابہ جو علم دین حاصل کرتے تھے، جن کی کفالت پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری تھی
بامیر تاجر جو مسجد میں تجارت کرتے تھے
جغیر مسلم مہمان جو مسجد میں قیام پذیر تھے
دقیدی جو مسجد میں رکھے جاتے تھے
اہلِ صفہ غریب اور بے گھر صحابہ تھے جو مسجد کے ایک حصے میں علم دین حاصل کرتے تھے، اور ان کی کفالت امت کی اجتماعی ذمہ داری تھی۔
22وقف کے ذریعے کن وسائل کو عوامی مفاد کے لیے مختص کیا گیا، جس کی مثال حضرت عثمانؓ کا کنواں ہے؟
الفپانی، زمین اور دیگر وسائل
بصرف مویشی
جصرف ہتھیار
دصرف تجارتی سامان
وقف کے ذریعے پانی، زمین اور دیگر وسائل کو عوامی مفاد کے لیے مختص کیا گیا، جیسا کہ حضرت عثمانؓ کے کنویں کا واقعہ اس کی مثال ہے۔
23مریضوں، غریبوں اور مسافروں کے حوالے سے کیا اصول اپنایا گیا؟
الفعیادت، کفالت اور مہمان نوازی کو دینی فرض کا درجہ دیا گیا
بان معاملات کو نجی مسئلہ سمجھا گیا
جصرف اہلِ ثروت کی مدد کی جاتی تھی
دان امور کو ریاست کے دائرے سے خارج رکھا گیا
بیماروں کی عیادت، غریبوں کی کفالت اور مسافروں کی مہمان نوازی کو دینی فرض کا درجہ دیا گیا۔
24درج ذیل میں سے کون سا بیان عہدِ نبوی کی ریاست کی نوعیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفیہ محض قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ بہبودی ریاست کا ابتدائی نمونہ بھی تھی
بیہ صرف عسکری ادارہ تھی
جیہ صرف مذہبی رسومات تک محدود تھی
داس کا سماجی بہبود سے کوئی تعلق نہ تھا
اہلِ صفہ کی کفالت، وقف اور خدمتِ خلق جیسے ادارے ثابت کرتے ہیں کہ یہ ریاست ایک بہبودی ریاست کا ابتدائی نمونہ بھی تھی۔
25عبادت گاہ، خاندان، بازار، عدالت اور حکومت کا آپس میں کیا تعلق تھا؟
الفیہ سب ایک مشترک اخلاقی مقصد سے مربوط تھے
بیہ سب ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ تھے
جصرف عبادت گاہ کی اہمیت تھی
دحکومت کا کسی اور شعبے سے تعلق نہیں تھا
عبادت گاہ، خاندان، بازار، عدالت اور حکومت ایک مشترک اخلاقی مقصد سے مربوط تھے، کوئی ایک شعبہ دوسرے سے الگ نہیں تھا۔
26عصرِ حاضر میں عہدِ نبوی کے نظام سے کیا رہنمائی لی جا سکتی ہے؟
الفعدل، شوریٰ، امانت اور بنیادی انسانی حقوق کی پابندی مستقل اہمیت رکھتی ہے
بصرف ظاہری انتظامی شکلوں کی نقل کی جائے
جیہ نظام آج غیر متعلقہ ہو چکا ہے
دصرف عسکری پہلو ہی قابلِ تقلید ہے
انتظامی صورتیں بدل چکی ہیں مگر عدل، شوریٰ، امانت اور حقوق کی پابندی جیسی اقدار آج بھی معنویت رکھتی ہیں۔
27مضمون کے مطابق کوئی بھی معاشرتی، معاشی یا سیاسی ڈھانچہ کب مستحکم اور منصفانہ رہ سکتا ہے؟
الفجب اس کی بنیاد اخلاقی جواب دہی اور خدا خوفی پر رکھی جائے، نہ کہ صرف قانون کی پابندی پر
بجب صرف سخت قوانین نافذ کیے جائیں
ججب معیشت مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں ہو
دجب صرف طاقتور طبقے کے مفادات کا خیال رکھا جائے
مضمون کا حاصلِ کلام یہ ہے کہ استحکام اور انصاف کی بنیاد محض قانون کی پابندی نہیں بلکہ اخلاقی جواب دہی اور خدا خوفی ہے۔
28عہدِ نبوی کے نظام کی معاشرتی، معاشی اور عدالتی جہتوں کا مشترک محور کیا بتایا گیا ہے؟
الفتوحید، رسالت، آخرت اور انسانی جواب دہی پر مبنی اخلاقی ذمہ داری
بصرف قبائلی رسم و رواج کا تحفظ
جصرف معاشی منافع کا حصول
دصرف عسکری توسیع کا مقصد
پورا نظام توحید، رسالت، آخرت اور انسانی جواب دہی کی بنیاد پر ایک مشترک اخلاقی مقصد سے جڑا ہوا تھا۔
29رسول اللہ ﷺ عدالتی معاملات میں فیصلے کن بنیادوں پر فرماتے تھے؟
الفوحی، گواہی اور ظاہری دلائل کی روشنی میں
بصرف ذاتی رائے پر
جصرف قبائلی رواج پر
دصرف مالی حیثیت پر
رسول اللہ ﷺ خود آخری قاضی کی حیثیت رکھتے تھے اور وحی، گواہی اور ظاہری دلائل کی روشنی میں فیصلے فرماتے تھے۔
30درج ذیل میں سے کون سا بیان معاشی آزادی اور سماجی انصاف کے امتزاج کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفحلال تجارت اور ملکیت کو تحفظ دیا گیا جبکہ زکوٰۃ کے ذریعے دولت میں سماجی ذمہ داری بھی شامل کی گئی
بمعیشت مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں تھی
جذاتی ملکیت کا کوئی تصور نہیں تھا
دزکوٰۃ کا نظام معاشی آزادی سے متصادم تھا
حلال کمائی، تجارت اور ملکیت کو تسلیم کیا گیا، جبکہ زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے دولت پر سماجی ذمہ داری بھی عائد کی گئی۔

موضوع 15۔ حجۃ الوداع، خطبۂ حجۃ الوداع، وصالِ نبوی ﷺ اور سیرت کا عالمگیر پیغام

1حجۃ الوداع اور اس کا خطبہ سیرتِ نبوی ﷺ کے کس عمل کی تکمیل قرار دیے گئے ہیں؟
الفدعوت، تربیت اور ریاست سازی کے طویل سفر کی تکمیل
بصرف عبادات کی ادائیگی کی تکمیل
جصرف قبائلی معاہدوں کی تکمیل
دصرف عسکری فتوحات کی تکمیل
حجۃ الوداع سیرت کے اس دور کی تکمیل ہے جس میں دعوت، تربیت اور ریاست سازی کا طویل سفر اپنے منتہائے کمال کو پہنچا۔
2حجۃ الوداع کے دوران اللہ تعالیٰ نے دین کی تکمیل کا اعلان کس آیت میں فرمایا؟
الف﴿الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي﴾
ب﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا﴾
ج﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ﴾
د﴿وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا﴾
سورۃ المائدہ کی اس آیت میں اعلان کیا گیا کہ آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔
3حجۃ الوداع کس سالِ ہجری میں ادا کیا گیا اور کتنے صحابہ نے شرکت کی؟
الفدس ہجری میں، ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے ساتھ
بآٹھ ہجری میں، دس ہزار صحابہ کے ساتھ
جنو ہجری میں، پچاس ہزار صحابہ کے ساتھ
دگیارہ ہجری میں، بیس ہزار صحابہ کے ساتھ
دس ہجری میں رسول اللہ ﷺ نے ایک لاکھ سے زائد صحابہ کے ہمراہ اپنا آخری حج ادا کیا۔
4رسول اللہ ﷺ نے حج کے مناسک کے بارے میں کیا ہدایت دی؟
الفمجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو
بحج ہر سال ادا کرنا لازم ہے
جحج کے مناسک ہر علاقے میں مختلف ہو سکتے ہیں
دحج صرف امیروں پر فرض ہے
آپ ﷺ نے مناسک عملی طور پر خود ادا کر کے سکھائے اور فرمایا کہ مجھ سے اپنے حج کے طریقے سیکھ لو۔
5حجۃ الوداع کے عظیم اجتماع نے کن تین چیزوں کو ایک ہی منظر میں یکجا کر دیا؟
الفعبادت، امتِ مسلمہ کی وحدت اور نبوی تعلیم کی تکمیل
بصرف تجارتی معاملات
جصرف قبائلی معاہدات
دصرف عسکری تیاری
اس عظیم اجتماع نے عبادت، امت کی وحدت اور نبوی تعلیم کی تکمیل کو ایک ہی منظر میں جمع کر دیا۔
6خطبۂ حجۃ الوداع کی روایت کے مطالعے میں علمی دیانت کا کیا تقاضا ہے؟
الفثابت اجزا کو اعتماد سے پیش کیا جائے اور غیر ثابت اضافوں کو منسوب نہ کیا جائے
بپورا خطبہ ایک ہی سند سے ثابت ہے
جخطبے کی کوئی سند موجود نہیں
دخطبے کو مکمل طور پر رد کر دینا چاہیے
علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ثابت اجزا پیش کیے جائیں جبکہ غیر ثابت اضافوں کو یقینی طور پر خطبے کی طرف منسوب نہ کیا جائے۔
7مشہور زبان زدِ عام مسلسل خطبے کا متن دراصل کیسے مرتب کیا گیا ہے؟
الفمختلف صحیح احادیث کے مجموعے سے مرتب کیا گیا ہے، کسی ایک سند میں یکجا نہیں
بایک ہی راوی کی مسلسل روایت سے
جصرف قرآنی آیات کے ترجمے سے
دبعد کی صدیوں کی تصنیف سے
خطبے کا ہر جملہ کسی ایک سند میں یکجا نہیں بلکہ متعدد صحیح احادیث کے مجموعے سے مرتب کیا گیا ہے۔
8درج ذیل میں سے کون سا بیان خطبے کی سندی احتیاط کی اہمیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفسیرت نگاری میں سند اور احتیاط کا التزام ہی اس علم کی وقعت برقرار رکھتا ہے
بسند کی کوئی اہمیت نہیں
جاحتیاط سے خطبے کی اہمیت کم ہو جاتی ہے
دغیر ثابت روایات کو بھی یقینی سمجھنا چاہیے
مضمون واضح کرتا ہے کہ سیرت نگاری میں سند اور احتیاط کا التزام ہی اس علم کی علمی وقعت اور معتبریت برقرار رکھتا ہے۔
9خطبے کا سب سے بنیادی اعلان کیا تھا؟
الفجان، مال اور آبرو کی حرمت اسی طرح مقدس ہے جیسے اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت
بصرف زمین کی ملکیت کا تحفظ
جصرف تجارتی معاہدوں کا تحفظ
دصرف قبائلی سرداری کا تحفظ
خطبے کا سب سے بنیادی اعلان یہ تھا کہ جان، مال اور آبرو کی حرمت اس دن، مہینے اور شہر کی حرمت جیسی مقدس ہے۔
10خطبے میں جاہلیت کے کن دعووں کو کالعدم قرار دیا گیا؟
الفجاہلی خون اور سود کے دعوے
بزمین کی ملکیت کے دعوے
جتجارتی معاہدوں کے دعوے
دقبائلی سرداری کے دعوے
اسی موقع پر جاہلیت کے تمام خون اور سود کے دعوے کالعدم قرار دیے گئے۔
11رسول اللہ ﷺ نے جاہلی دعووں کو منسوخ کرنے میں سب سے پہلے کیا عملی نمونہ پیش فرمایا؟
الفسب سے پہلے اپنے خاندان کے دعووں کو خود منسوخ کیا
بصرف دوسروں کے دعوے منسوخ کیے
جاپنے خاندان کو استثنا دیا
دصرف مالی دعوے منسوخ کیے
رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے اپنے خاندان کے دعووں کو منسوخ کر کے اس اصول پر عملی نمونہ پیش فرمایا۔
12جان، مال اور عزت کی حرمت کے اس اعلان کا کیا دیرپا اثر بتایا گیا ہے؟
الفذاتی انتقام اور معاشی استحصال کے مقابلے میں مستقل قانونی و اخلاقی تحفظ کی بنیاد رکھی گئی
بقبائلی جنگیں مزید بڑھ گئیں
جسود کا نظام مضبوط ہوا
دخون کے پرانے دعوے بحال ہو گئے
اس اعلان نے ذاتی انتقام اور معاشی استحصال کے مقابلے میں ایک مستقل قانونی و اخلاقی تحفظ کی بنیاد رکھی، جو انسانی حقوق سے متعلق ہے۔
13خطبے میں عورتوں کے بارے میں مردوں کو کیا تاکید کی گئی؟
الفاللہ سے ڈریں اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ رکھیں
بعورتوں کے حقوق کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا
جعورتوں کو معاشرتی معاملات سے الگ رکھنے کی ہدایت دی گئی
دصرف مردوں کے حقوق کا ذکر کیا گیا
خطبے میں مردوں کو تاکید کی گئی کہ وہ اللہ سے ڈریں اور عورتوں کے ساتھ بھلائی کا معاملہ رکھیں۔
14عورتوں پر بھی کس ذمہ داری کی تلقین کی گئی؟
الفازدواجی ذمہ داریوں کی پاسداری کی
بمکمل طور پر گھر تک محدود رہنے کی
جکسی حق کے مطالبے سے گریز کی
دامانت سے مکمل استثنا کی
مردوں کی تاکید کے ساتھ عورتوں پر بھی ازدواجی ذمہ داریوں کی پاسداری کی تلقین کی گئی۔
15امانت، اخوت اور ظلم سے اجتناب کو خطبے میں کس کی ذمہ داری قرار دیا گیا؟
الفپوری امت کی اجتماعی ذمہ داری
بصرف حکمرانوں کی ذمہ داری
جصرف قاضیوں کی ذمہ داری
دصرف تاجروں کی ذمہ داری
امانت، اخوت اور ظلم سے اجتناب کو پوری امت کی اجتماعی ذمہ داری قرار دیا گیا۔
16مضمون کے مطابق قرآن و سنت سے وابستگی کا حقیقی مطلب کیا بتایا گیا؟
الفمحض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ حقوق کی عملی حفاظت
بصرف الفاظ کی تکرار
جصرف رسمی تقریبات میں شرکت
دصرف علمی مباحثہ
خطبے میں واضح کیا گیا کہ قرآن و سنت سے وابستگی محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ حقوق کی عملی حفاظت کا نام ہے۔
17حج سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کی صحت میں کیا تبدیلی آئی؟
الفرفتہ رفتہ کمزور ہونے لگی اور آخری بیماری کا آغاز ہوا
بصحت مکمل طور پر بحال ہو گئی
جکوئی تبدیلی نہیں آئی
داچانک صحت یاب ہو گئے
حج سے واپسی کے بعد رسول اللہ ﷺ کی صحت رفتہ رفتہ کمزور ہونے لگی اور آخری بیماری کا آغاز ہوا۔
18رسول اللہ ﷺ کی آخری بیماری کے دوران نماز کی امامت کس کو سونپی گئی؟
الفحضرت ابوبکرؓ کو
بحضرت عمرؓ کو
جحضرت علیؓ کو
دحضرت عثمانؓ کو
آپ ﷺ نے آخری بیماری کے دوران نماز باجماعت کی امامت کے لیے حضرت ابوبکرؓ کو مقرر فرمایا۔
19درج ذیل میں سے کون سا بیان حضرت ابوبکرؓ کی امامت کی تقرری کی اہمیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفیہ بعد میں امت کی سیاسی قیادت کے تعین کے سلسلے میں ایک اہم اشارہ ثابت ہوا
باس کی کوئی سیاسی اہمیت نہیں تھی
جیہ صرف ایک اتفاقی فیصلہ تھا
داس سے کسی کو کوئی سبق نہیں ملا
حضرت ابوبکرؓ کی نماز کی امامت کی تقرری بعد میں امت کی سیاسی قیادت کے تعین کے سلسلے میں بھی ایک اہم اشارہ ثابت ہوئی۔
20رسول اللہ ﷺ کا وصال کس سالِ ہجری اور کہاں ہوا؟
الفگیارہ ہجری میں مدینہ میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں
بدس ہجری میں مکہ میں
جبارہ ہجری میں طائف میں
دنو ہجری میں تبوک میں
گیارہ ہجری میں مدینہ منورہ میں حضرت عائشہؓ کے حجرے میں رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا۔
21وصالِ نبوی ﷺ کی خبر پر صحابہ کا ردعمل کیسا تھا؟
الفصدمہ اس قدر شدید تھا کہ بعض حواس کھو بیٹھے
بصحابہ نے پرسکون انداز میں خبر قبول کر لی
جصحابہ نے خبر کو نظرانداز کیا
دصحابہ فوری طور پر ہجرت کر گئے
صحابہ پر یہ صدمہ اس قدر شدید تھا کہ بعض حواس کھو بیٹھے اور خبر کو تسلیم کرنے سے قاصر رہے۔
22وصالِ نبوی ﷺ کی خبر پر حضرت ابوبکرؓ نے کیا کیا؟
الفآلِ عمران کی آیت پڑھ کر رسالت کے خاتمے اور اللہ کی ابدی حاکمیت کو واضح کیا
بخاموش رہے اور کچھ نہ کہا
جمدینہ چھوڑ دیا
دخبر کو جھٹلایا
حضرت ابوبکرؓ نے سورۃ آلِ عمران کی آیت ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ﴾ پڑھ کر امت کو یاد دلایا کہ اللہ کی حاکمیت ہمیشہ باقی ہے۔
23رسول اللہ ﷺ کو کہاں سپردِ خاک کیا گیا؟
الفاسی حجرے میں جہاں وصال ہوا
بجنت البقیع میں
جمکہ میں
دخیبر میں
آپ ﷺ کو اسی حجرے میں دفن کیا گیا جہاں آپ کا وصال ہوا تھا۔
24خطبے کے اختتام پر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے بار بار کیا سوال پوچھا؟
الفکیا میں نے پیغام پہنچا دیا
بکیا تم مجھ سے راضی ہو
جکیا تم نے حج مکمل کر لیا
دکیا تم دین چھوڑ دو گے
خطبے کے اختتام پر آپ ﷺ نے بار بار پوچھا کہ کیا میں نے پیغام پہنچا دیا، اور صحابہ کی تصدیق پر اللہ کو گواہ بنایا۔
25رسول اللہ ﷺ نے کون سی تاریخی ہدایت دی جس نے علمِ حدیث کے تسلسل کی بنیاد رکھی؟
الفحاضر لوگ یہ پیغام غائب لوگوں تک پہنچائیں
بصرف حاضرین ہی پیغام کے مکلف ہیں
جپیغام صرف اگلی نسل تک محدود رہے
دپیغام کو تحریر میں لانا ممنوع ہے
آپ ﷺ نے ہدایت دی کہ حاضر لوگ یہ پیغام غائب لوگوں تک پہنچائیں، کیونکہ بعد میں سننے والا بہتر یاد رکھ سکتا ہے۔
26وصالِ نبوی ﷺ کے ساتھ وحی اور نبوت کے سلسلے کا کیا ہوا، اور کیا باقی رہا؟
الفوحی و نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا مگر قرآن، سنت اور تربیت یافتہ امت باقی رہی
بوحی کا سلسلہ جاری رہا
جنبوت کسی اور کو منتقل ہوئی
دقرآن کا نزول جاری رہا
وصال سے وحی اور نبوت کا سلسلہ مکمل ہوا مگر قرآن، سنت اور ایک تربیت یافتہ امت باقی رہ گئی جس نے دعوت آگے بڑھائی۔
27نبوی مشن کی بنیاد کس چیز پر تھی، جس کی وجہ سے وصال کے بعد بھی دعوت رکنے کے بجائے پھیلتی گئی؟
الفاللہ کی عبادت اور اصولی اطاعت پر، نہ کہ شخصیت پرستی پر
بشخصیت پرستی پر
جقبائلی وفاداری پر
دذاتی اقتدار پر
نبوی مشن کبھی شخصیت پرستی پر قائم نہیں تھا بلکہ اللہ کی عبادت اور اصولی اطاعت پر استوار تھا۔
28درج ذیل میں سے کون سا بیان سیرتِ نبوی ﷺ کے تمام مراحل کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفمکی صبر، مدنی تنظیم، معاہدات، دفاع اور عفو ایک ہی اخلاقی مشن کے مختلف مراحل تھے
بیہ تمام مراحل بالکل الگ اور غیر متعلق واقعات تھے
جصرف عفو کا مرحلہ اہم تھا
دیہ مراحل صرف سیاسی حکمتِ عملی تھے، اخلاقی نہیں
مکی دور کا صبر، مدنی تنظیم، معاہدات کی حکمت، دفاع اور عفو، یہ سب ایک ہی اخلاقی مشن کے مختلف مراحل تھے۔
29سیرتِ نبوی ﷺ کا عالمگیر پیغام کن بنیادی اقدار پر مشتمل ہے؟
الفتوحید، رحمت، عدل، علم، تزکیہ اور انسانی کرامت
بصرف عسکری کامیابی
جصرف قبائلی اتحاد
دصرف مالی خوشحالی
سیرت توحید، رحمت، عدل، علم، تزکیۂ نفس اور انسانی کرامت کا ایک مربوط اور آفاقی پیغام ہے۔
30رسول اللہ ﷺ کی حقیقی پیروی کا تقاضا کیا بتایا گیا ہے؟
الفعبادت کے ساتھ سچائی، حقوق کی پاسداری، خدمتِ خلق اور ذمہ دار اجتماعی کردار
بصرف رسمی عبادات کی ادائیگی
جصرف زبانی محبت کا اظہار
دصرف تاریخی واقعات کا مطالعہ
رسول اللہ ﷺ کی حقیقی پیروی کا تقاضا محض عبادات نہیں بلکہ سچائی، حقوق کی پاسداری، خدمتِ خلق اور ذمہ دار کردار ہے۔