ہومموضوعات ‹ موضوع 7
موضوع 7 از 15

عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ

عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک پیش آنے والے اہم واقعات اور ان کی دعوتی و تربیتی اہمیت

اس موضوع کی PDF ڈاؤن لوڈ کریں (مضمون، سوالات و جوابات اور کوئز — آفلائن مطالعے کے لیے)

1عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کا تعارف

عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ نبوت کے دسویں اور گیارہویں سال کے وہ فیصلہ کن مراحل ہیں جن میں شدید ترین غم کے بعد آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی دونوں ایک ساتھ رونما ہوئیں۔ یہ دور سیرت کا وہ نازک موڑ ہے جہاں انسانی تنہائی کی انتہا کے فوراً بعد وحی نے نہ صرف روحانی سہارا فراہم کیا بلکہ آئندہ کی ہجرت اور ریاست سازی کی راہ بھی ہموار کر دی۔ واقعۂ اسراء کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے:

﴿ سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الإسراء 17:1

، یعنی پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔ یہ آیت اس پورے دور کی معنویت کو نمایاں کرتی ہے: انتہائی مشکل کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایسا اعزاز بخشتا ہے جو انسانی تصور سے بالاتر ہے۔

2عام الحزن: حضرت خدیجہؓ و ابوطالب کی وفات

نبوت کے دسویں سال کو عام الحزم یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات قریب قریب واقع ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ نہ صرف گھر کی رفیق تھیں بلکہ آغازِ وحی کی پہلی مصدقہ اور ہر مشکل میں مالی و جذباتی سہارا بھی تھیں۔ ان کی وفات ذاتی صدمہ تھی۔ دوسری طرف ابوطالب اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے، مگر قبائلی حمیت کی بنا پر آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے، اور ان کی وفات سے یہ سماجی چھتری ختم ہو گئی جو مکہ کے قبائلی نظام میں تحفظ کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ نتیجتاً قریش کی جسارت میں اضافہ ہوا اور آپ ﷺ کو پہلے سے زیادہ کھلی ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔

3سفرِ طائف اور ثقیف کا سلوک

اسی پس منظر میں رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر طائف کا رخ کیا، تاکہ ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوت پیش کریں اور ممکن ہو تو وہاں تحفظ اور تعاون حاصل کریں۔ لیکن ثقیف کے سرداروں نے نہ صرف دعوت مسترد کی بلکہ اپنے شہر کے اوباش نوجوانوں اور غلاموں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا، جنہوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے پاؤں مبارک لہولہان کر دیے۔ اس شدید ترین تکلیف کے باوجود، جب فرشتہ حاضر ہو کر طائف کی بستیوں کو تباہ کرنے کی اجازت مانگتا ہے، تو آپ ﷺ نے فوری انتقام کے بجائے یہ دعا فرمائی کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے جو اسے پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔ یہ واقعہ نبوی رحمت اور بلند حوصلگی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔

4نخلہ میں جنات کا ایمان اور مطعم بن عدی کی پناہ

طائف سے واپسی کے سفر میں نخلہ کے مقام پر ایک اور اہم واقعہ پیش آیا: جنات کی ایک جماعت نے آپ ﷺ کی تلاوت سنی، ایمان لے آئی اور اپنی قوم میں واپس جا کر دعوت دی، جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۂ جن میں موجود ہے۔ مکہ واپسی سے پہلے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ بغیر کسی کی پناہ کے مکہ میں داخل ہونا خطرناک تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار یعنی پناہ طلب کی، جسے انہوں نے قبول کیا اور اپنے بیٹوں کے ساتھ مسلح ہو کر آپ ﷺ کو حرم تک پہنچایا۔ اس واقعے سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور تحفظ سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں بلکہ اسبابِ ظاہری اختیار کرنا سنتِ الٰہی کا حصہ ہے۔

5واقعۂ اسراء و معراج اور نمازوں کی فرضیت

اسی دورِ غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو معراج کا انوکھا اعزاز عطا فرمایا۔ اسراء وہ رات کا سفر تھا جس میں آپ ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا، اور صحیح احادیث کے مطابق وہاں سے معراج کا آغاز ہوا جس میں آپ ﷺ نے مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام سے ملاقات کی، جنت و دوزخ کے مناظر دیکھے اور بالآخر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اس سفر کی متعین تاریخ قطعی طور پر ثابت نہیں، اور مختلف اہلِ علم نے مختلف مہینوں اور راتوں کا ذکر کیا ہے، اس لیے 27 رجب کو یقینی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا محتاط علمی طرزِ عمل نہیں۔ اس واقعے کی سب سے بڑی عملی نعمت پانچ وقت کی نماز کی فرضیت تھی۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں، مگر بار بار کی سفارش کے بعد یہ تعداد پانچ ہو گئی جبکہ اجر پچاس نمازوں کے برابر رکھا گیا۔ نماز اس مکی آزمائش کے دور میں براہِ راست اللہ سے تعلق جوڑنے اور روحانی توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ معراج محض ایک حیرت انگیز واقعہ نہیں تھا بلکہ عبادت، یقین اور نبوی مرکزیت کے اعلان کا موقع تھا، جس نے کمزور ترین حالات میں بھی امتِ مسلمہ کو ایک نئی روحانی قوت بخشی۔

6یثرب میں دعوت اور بیعتِ عقبہ اولیٰ

اسی دوران دعوت کا رخ یثرب کی طرف مڑنا شروع ہوا۔ حج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ مختلف قبائل کے پاس جا کر دعوت پیش کرتے تھے، اور یثرب کے چند نوجوانوں نے یہ دعوت سنی، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر لوگوں کو دین کی طرف بلایا۔ یثرب میں اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان دیرینہ جنگ و جدل نے ایک ایسی متحد اور منصف قیادت کی طلب پیدا کر رکھی تھی جو ان کے باہمی جھگڑوں کا خاتمہ کر سکے، اور یہی سماجی ضرورت اسلام کی طرف مائل ہونے کی ایک اہم وجہ بنی۔ اگلے سال بارہ افراد نے عقبہ کے مقام پر بیعتِ عقبہ اولیٰ کی، جس میں شرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو تعلیمِ قرآن کے لیے یثرب بھیجا، جنہوں نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے متعدد بااثر گھرانوں میں اسلام پھیلایا۔

7بیعتِ عقبہ ثانیہ اور نقباء کا تقرر

اگلے سال ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور بیعتِ عقبہ ثانیہ کی، جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا، گویا وہ آپ ﷺ کو اپنے شہر میں تحفظ دینے کے ذمہ دار بن گئے۔ اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جنہیں اپنی اپنی قوم کی نگرانی سونپی گئی، اور یہی عہد مدینہ میں ایک محفوظ اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بنا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔

8اس دور کا مجموعی سبق

یوں دیکھا جائے تو یہ پورا دور غم، صبر، آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی کا مجموعہ ہے۔ عام الحزن نے نبوی صبر کی آزمائش کی، طائف کے سفر نے حکمت اور رحمت کا امتزاج دکھایا، معراج نے روحانی قوت بخشی، اور بیعتِ عقبہ نے ایک نئی امت کی سیاسی و سماجی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو انتہائی مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو نہ صرف ان کی تسلی کا سامان بنتی ہیں بلکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ بھی ہموار کرتی ہیں۔

منتخب مصادر و مراجع

  1. القرآن الکریم، الإسراء 17:1؛ الجن 72:1-2
  2. صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب المعراج
  3. صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء
  4. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، الطائف وبیعۃ العقبہ
  5. ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ابواب الاسراء والعقبہ
  6. صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم

نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات تقریباً ایک ہی زمانے میں ہوئی، اسی لیے اسے عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نہ صرف زوجہ بلکہ گھر کی رفیق، ہر مشکل میں مالی سہارا اور آغازِ وحی کی سب سے پہلی مصدقہ تھیں، اس لیے ان کی جدائی نجی سطح پر بہت گہرا صدمہ تھی۔ دوسری طرف ابوطالب، اگرچہ ایمان نہ لائے، مگر قبائلی حمیت کی بنا پر برسوں تک آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے تھے۔ ان کی وفات سے یہ سماجی تحفظ ختم ہو گیا جو مکہ کے قبائلی نظام میں لازمی سمجھا جاتا تھا، اور نتیجتاً قریش کی جسارت اور کھلی ایذا رسانی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ابوطالب کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے طائف کا رخ کیا تاکہ ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوتِ اسلام پیش کریں اور ممکنہ طور پر نئے تحفظ اور تعاون کا ذریعہ حاصل کریں۔ لیکن ثقیف کے سرداروں نے دعوت کو حقارت سے رد کر دیا اور اس پر اکتفا نہ کیا، بلکہ شہر کے اوباش لڑکوں اور غلاموں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے مبارک قدم لہولہان کر دیے۔ یہ مکی دور کی سب سے اذیت ناک گھڑیوں میں سے ایک تھی، مگر آپ ﷺ نے فرشتے کی طرف سے سزا دینے کی پیشکش کے باوجود انتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا کو ترجیح دی۔

طائف سے مکہ واپسی کے راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ ﷺ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزری اور تلاوت سن کر رک گئی۔ انہوں نے پیغام کو غور سے سنا، ایمان قبول کیا اور اپنی قوم کے پاس واپس جا کر انہیں دعوتِ حق دی، جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۂ جن میں تفصیل سے آیا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جس وقت انسانوں کی اکثریت نے دعوت کو مسترد کر رکھا تھا، عین اسی وقت غیب کی دنیا میں اس دعوت کو قبولیت مل رہی تھی، جو نبوی مشن کی وسعت اور اس کی آفاقیت کی علامت ہے۔

طائف سے واپسی پر مکہ میں بغیر کسی سردار کی پناہ کے داخل ہونا خطرناک تھا، کیونکہ قبائلی رواج کے مطابق ہر اجنبی کو کسی نہ کسی کی حمایت درکار ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار یعنی پناہ کی درخواست کی، جسے انہوں نے فوراً قبول کیا اور اپنے بیٹوں سمیت مسلح ہو کر آپ ﷺ کو حرم تک پہنچایا۔ یہ واقعہ اس اہم اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور دستیاب تحفظ سے فائدہ اٹھانا اللہ پر توکل کے خلاف نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنا خود سنتِ الٰہی کا حصہ ہے، جسے نبوی سیرت نے اپنے عمل سے بارہا ثابت کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح رہنما اصول چھوڑا۔

اسراء وہ رات کا سفر تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک پہنچایا، اور صحیح احادیث کے مطابق وہاں سے معراج کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آپ ﷺ نے مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام سے ملاقات کی اور غیبی حقائق کا مشاہدہ کیا۔ اصل واقعہ قرآن اور صحیح احادیث سے حتمی طور پر ثابت ہے، لیکن اس کے سال، مہینے اور رات کی قطعی تعیین میں اہلِ علم کے متعدد اقوال پائے جاتے ہیں۔ اس لیے 27 رجب کو یقینی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا مضبوط دلیل کے بغیر درست نہیں، اور طالب علم کو واقعے کی صحت اور اس کی متعین تاریخ کے درجۂ ثبوت میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

معراج کی رات ابتدا میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، مگر جب آپ ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنی امت کے تجربے کی بنیاد پر بار بار تخفیف کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا۔ نتیجتاً بار بار سفارش کے بعد نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی، جبکہ ثواب پچاس نمازوں کے برابر مقرر کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اللہ کی رحمت اور آسانی کی علامت ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نماز محض ایک رسمی عبادت نہیں بلکہ بندے اور رب کے درمیان براہِ راست رابطے کا ذریعہ ہے، جس نے مکی آزمائشوں کے دور میں مسلمانوں کو روحانی سہارا اور استقامت بخشی۔

رسول اللہ ﷺ ہر سالانہ حج کے موسم میں مختلف قبائل کے سامنے دعوتِ توحید پیش کرتے تھے، اسی طریقے سے یثرب کے چند نوجوانوں نے آپ ﷺ کی بات سنی، متاثر ہوئے، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا۔ یثرب میں اسلام کی قبولیت کی ایک بڑی سماجی وجہ اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری خونریز جنگ و جدل تھی، جس نے ایک ایسی غیر جانبدار اور منصف قیادت کی ضرورت پیدا کر دی تھی جو ان کے باہمی اختلافات ختم کر سکے۔ یوں دینی دعوت اور سماجی ضرورت دونوں مل کر اسلام کی قبولیت کی راہ ہموار کرنے لگیں۔

اگلے سال بارہ افراد کے وفد نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد کیا کہ وہ شرک، چوری، بدکاری اور کسی بھی قسم کی نافرمانی سے بچیں گے، جسے بیعتِ عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے بعد آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی تعلیم دیں۔ حضرت مصعبؓ نے اپنی حکمت، نرم خوئی اور مدلل گفتگو سے یثرب کے متعدد بااثر گھرانوں کو اسلام کی طرف مائل کیا، حتیٰ کہ اوس و خزرج کے کئی نمایاں سردار بھی مسلمان ہو گئے، جس سے اسلام کی جڑیں یثرب کے تقریباً ہر محلے میں مضبوط ہونے لگیں اور اگلے حج کے موسم کی راہ ہموار ہوئی۔

اگلے سال ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور رات کی تاریکی میں عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد کیا کہ وہ آپ ﷺ کی اسی طرح حفاظت کریں گے جیسے اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کی کرتے ہیں، اور آپ ﷺ کے ہر جائز حکم کی اطاعت کریں گے۔ اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندے تھے۔ یہ عہد دراصل مدینہ میں ایک محفوظ اور منظم اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بن گیا، اور اسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی، جس نے ہجرتِ مدینہ کی راہ ہموار کر دی۔

یہ واقعات مل کر ایک مکمل داستان بناتے ہیں جس میں شدید ترین انسانی غم کے بعد آسمانی تسلی اور پھر زمینی کامیابی یکے بعد دیگرے سامنے آتی ہے۔ عام الحزن نے نبوی صبر کی سب سے کڑی آزمائش پیش کی، طائف کے سفر نے رحمت اور حکمت کا امتزاج دکھایا، معراج نے روحانی توانائی اور نماز کا تحفہ عطا کیا، اور بیعتِ عقبہ نے ایک نئی امت کی سیاسی و سماجی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو نہ صرف تسلی کا سامان بنتی ہیں بلکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ بھی متعین کرتی ہیں، اور یہی وہ سبق ہے جو ہر دور کے داعی کے لیے حوصلہ افزا ہے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 30 سوالات)
1اس دور کو سیرت کا نازک موڑ کیوں قرار دیا گیا ہے؟
الفکیونکہ انسانی تنہائی کی انتہا کے فوراً بعد وحی نے روحانی سہارا اور آئندہ کامیابی کی راہ ہموار کی
بکیونکہ اس میں کوئی اہم واقعہ پیش نہیں آیا
جکیونکہ یہ دور مکمل طور پر پرسکون تھا
دکیونکہ اس میں صرف جنگی واقعات پیش آئے
یہ دور اس لیے نازک موڑ ہے کہ شدید غم کے فوراً بعد وحی نے روحانی سہارا فراہم کیا اور ہجرت و ریاست سازی کی راہ ہموار کی۔
2سورۃ الإسراء کی ابتدائی آیت کس واقعے کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
الفہجرتِ مدینہ کی طرف
بمسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک رات کے سفر کی طرف
جغزوۂ بدر کی طرف
دبیعتِ عقبہ کی طرف
آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے جانے کا ذکر کرتا ہے۔
3نبوت کے دسویں سال کو عام الحزن کیوں کہا جاتا ہے؟
الفاس سال قحط پڑا تھا
باس سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات تقریباً ایک ساتھ ہوئی
جاس سال ہجرتِ مدینہ واقع ہوئی
داس سال جنگِ بدر لڑی گئی
نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات قریب قریب ہوئی، جس کی وجہ سے اسے عام الحزن کہا جاتا ہے۔
4حضرت خدیجہؓ کی وفات ذاتی طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے کیوں گہرا صدمہ تھی؟
الفوہ آپ ﷺ کی اولین مصدقہ اور ہر مشکل میں سہارا تھیں
بوہ مکہ کی سب سے دولت مند خاتون تھیں
جوہ قریش کی رہنما تھیں
دوہ ہجرتِ حبشہ کی قیادت کرتی تھیں
حضرت خدیجہؓ گھر کی رفیق، ہر مشکل میں سہارا اور آغازِ وحی کی سب سے پہلی مصدقہ تھیں، اس لیے ان کی وفات گہرا صدمہ تھی۔
5ابوطالب کی وفات کے بعد قریش کی جسارت میں اضافہ کیوں ہوا؟
الفکیونکہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو گئی تھی
بکیونکہ قبائلی تحفظ کی چھتری ختم ہو گئی تھی
جکیونکہ آپ ﷺ نے مکہ چھوڑ دیا تھا
دکیونکہ ابوطالب نے قریش سے معاہدہ کیا تھا
ابوطالب قبائلی حمیت کی بنا پر حفاظت کرتے تھے، ان کی وفات سے یہ تحفظ ختم ہوا اور قریش کی جسارت بڑھ گئی۔
6طائف کے سفر کا بنیادی مقصد کیا تھا؟
الفثقیف کے سرداروں سے دعوت اور ممکنہ تحفظ حاصل کرنا
بتجارتی معاہدہ کرنا
جحج کی تیاری کرنا
دنجاشی سے ملاقات کرنا
رسول اللہ ﷺ نے طائف کا سفر ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوت پیش کرنے اور تحفظ حاصل کرنے کے لیے کیا۔
7طائف میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟
الفسرداروں نے دعوت قبول کر لی
باوباش لڑکوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کو زخمی کر دیا
جانہیں شہر کا سردار بنا دیا گیا
دانہیں تحفے دیے گئے
ثقیف کے سرداروں نے دعوت رد کر دی اور اوباش لڑکوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے پتھراؤ کیا۔
8طائف کی اذیت کے بعد آپ ﷺ نے فرشتے کی پیشکش پر کیا جواب دیا؟
الفانتقام کی اجازت دے دی
بانتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا کی
جفوری بددعا کی
دخاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا
فرشتے کی پیشکش کے باوجود آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا فرمائی۔
9درج ذیل میں سے کون سا بیان طائف کی دعا کے اصول کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفصبر اور آئندہ نسلوں کی ہدایت کی امید انتقام پر مقدم ہے
بفوری انتقام ہمیشہ ضروری ہے
جاذیت دینے والوں کو کبھی معاف نہیں کرنا چاہیے
ددعا کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہوتا
آپ ﷺ کی دعا نبوی رحمت اور بلند حوصلگی کی مثال ہے جس میں صبر اور امید کو انتقام پر ترجیح دی گئی۔
10طائف سے واپسی پر نخلہ کے مقام پر کون سا واقعہ پیش آیا؟
الفایک تجارتی قافلہ ملا
بجنات کی جماعت نے تلاوت سن کر ایمان قبول کیا
جبارش کا معجزہ ہوا
دمطعم بن عدی سے ملاقات ہوئی
نخلہ کے مقام پر جنات کی ایک جماعت نے آپ ﷺ کی تلاوت سنی، ایمان لے آئی اور اپنی قوم میں دعوت پہنچائی۔
11نخلہ کا واقعہ نبوی مشن کی کس خصوصیت کی علامت ہے؟
الفاس کی آفاقیت اور غیب کی دنیا تک وسعت کی
بصرف انسانوں تک محدود ہونے کی
جناکامی اور مسترد ہونے کی
دصرف عرب قبائل تک محدود ہونے کی
جس وقت انسانوں کی اکثریت نے دعوت مسترد کی، عین اسی وقت جنات نے اسے قبول کیا، جو دعوت کی آفاقیت ظاہر کرتا ہے۔
12مکہ میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے آپ ﷺ نے کس سے پناہ طلب کی؟
الفابوجہل سے
بمطعم بن عدی سے
جولید بن مغیرہ سے
دابولہب سے
مکہ میں بغیر پناہ کے داخل ہونا خطرناک تھا، اس لیے آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار طلب کی۔
13مطعم بن عدی سے پناہ لینے کے واقعے سے کیا اصول ملتا ہے؟
الفجائز سماجی تعلقات سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں
بغیر مسلموں سے کسی قسم کا تعلق رکھنا جائز نہیں
جپناہ لینا ہمیشہ کمزوری کی علامت ہے
داسبابِ ظاہری اختیار کرنا سنتِ الٰہی کے خلاف ہے
اس واقعے سے یہ اصول ملتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور تحفظ سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں بلکہ سنتِ الٰہی کا حصہ ہے۔
14اسراء کا سفر کن دو مقامات کے درمیان ہوا؟
الفمکہ اور طائف کے درمیان
بمسجدِ حرام اور مسجدِ اقصیٰ کے درمیان
جمدینہ اور بدر کے درمیان
دحبشہ اور مکہ کے درمیان
قرآن کریم کے مطابق اسراء کا سفر مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک ایک ہی رات میں طے کیا گیا۔
15معراج کے موقع پر ابتدا میں کتنی نمازیں فرض کی گئیں؟
الفپانچ
بدس
جپچاس
دسو
معراج کی رات ابتدا میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، جو بعد میں پانچ رہ گئیں مگر اجر پچاس کے برابر رکھا گیا۔
16معراج کی رات نمازوں کی تعداد پچاس سے پانچ ہونے کا سبب کیا بنا؟
الفحضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے پر بار بار سفارش
بنجاشی کی درخواست
جابوبکرؓ کی تجویز
دقریش کے اعتراضات
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورے پر بار بار تخفیف کی سفارش کی گئی، جس کے نتیجے میں نمازیں پانچ رہ گئیں۔
17اسراء و معراج کی متعین تاریخ کے بارے میں محتاط علمی موقف کیا ہے؟
الف27 رجب کو حتمی تاریخی حقیقت مانا جاتا ہے
باصل واقعہ ثابت ہے مگر تاریخ کی قطعی تعیین میں اختلاف ہے
جیہ واقعہ کسی مستند ماخذ سے ثابت نہیں
داس کی کوئی تاریخ کبھی بیان نہیں کی گئی
اصل واقعہ ثابت ہے مگر اس کے سال، مہینے اور رات کی قطعی تعیین میں اہلِ علم کے متعدد اقوال ہیں۔
18درج ذیل میں سے کون سا بیان معراج کی اہمیت کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفیہ محض ایک حیرت انگیز واقعہ تھا جس کا کوئی عملی فائدہ نہیں
بنماز کی فرضیت کے ذریعے یہ عبادت اور روحانی مرکزیت کا اعلان تھا
جیہ صرف قریش کو خوفزدہ کرنے کے لیے تھا
داس کا مقصد صرف جغرافیائی سفر تھا
معراج محض حیرت انگیز واقعہ نہیں تھا بلکہ عبادت، یقین اور نبوی مرکزیت کے اعلان کا موقع تھا جس نے نماز کا تحفہ دیا۔
19یثرب میں اسلام کی قبولیت کی ایک بڑی سماجی وجہ کیا تھی؟
الفاوس و خزرج کی طویل باہمی جنگ و جدل
بیثرب کی معاشی خوشحالی
جیثرب کا مکہ سے قریب ہونا
دیثرب میں یہودیوں کی عدم موجودگی
اوس اور خزرج کے درمیان دیرینہ جنگ و جدل نے ایک متحد کرنے والی قیادت کی ضرورت پیدا کر دی، جس نے اسلام کی راہ ہموار کی۔
20یثرب کے نوجوانوں تک دعوت کیسے پہنچی؟
الفحج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت سن کر
بنجاشی کے ذریعے
جتجارتی خط و کتابت سے
دابوبکرؓ کے سفر سے
حج کے موسم میں یثرب کے چند نوجوانوں نے رسول اللہ ﷺ کی دعوت سنی، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر دعوت دی۔
21بیعتِ عقبہ اولیٰ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفمسلح جہاد کا عہد
بشرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد
جمکہ پر حملے کا عہد
دتجارتی شراکت کا عہد
بیعتِ عقبہ اولیٰ میں یثرب کے مسلمانوں نے شرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد کیا۔
22رسول اللہ ﷺ نے یثرب میں تعلیمِ قرآن کے لیے کسے بھیجا؟
الفحضرت بلالؓ کو
بحضرت مصعب بن عمیرؓ کو
جحضرت عمار بن یاسرؓ کو
دحضرت زید بن حارثہؓ کو
آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجا، جنہوں نے اپنی حکمت سے متعدد بااثر گھرانوں میں اسلام پھیلایا۔
23حضرت مصعب بن عمیرؓ کی کامیابی کا سب سے بڑا سبب کیا تھا؟
الفان کی حکمت، نرم خوئی اور مدلل گفتگو
بان کی مالی دولت
جان کا قبائلی رسوخ
دان کی مسلح قوت
حضرت مصعبؓ نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے یثرب کے بااثر گھرانوں کو اسلام کی طرف مائل کیا۔
24بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کتنے افراد شریک ہوئے؟
الفبارہ افراد
بستر سے زائد افراد
جتین افراد
دایک ہزار افراد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور حفاظت و اطاعت کا عہد کیا۔
25بیعتِ عقبہ ثانیہ میں کیا عہد کیا گیا؟
الفصرف تجارتی تعاون کا عہد
برسول اللہ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد
جصرف زکوٰۃ ادا کرنے کا عہد
دصرف حج ادا کرنے کا عہد
بیعتِ عقبہ ثانیہ میں یثرب کے نمائندوں نے آپ ﷺ کی حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا۔
26بیعتِ عقبہ ثانیہ کے موقع پر کتنے نقباء مقرر کیے گئے؟
الفپانچ
ببارہ
جبیس
دستر
اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندے اور نگران تھے۔
27بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے کیا اقدام کیا؟
الففوری طور پر خود ہجرت کر گئے
بمسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی
جطائف واپس چلے گئے
دنجاشی کے پاس چلے گئے
بیعتِ عقبہ ثانیہ کے بعد آپ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
28بیعتِ عقبہ ثانیہ کو ہجرتِ مدینہ کی تیاری کے لیے کیوں فیصلہ کن قرار دیا جاتا ہے؟
الفکیونکہ اس نے مدینہ میں ایک محفوظ اجتماعی مرکز کی عملی بنیاد رکھی
بکیونکہ اس میں مکہ فتح کرنے کا فیصلہ ہوا
جکیونکہ اس میں تجارتی معاہدہ طے پایا
دکیونکہ اس نے قریش کے ساتھ صلح کرائی
بیعتِ عقبہ ثانیہ کا عہد مدینہ میں ایک محفوظ اور منظم اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بنا۔
29عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کے واقعات کا مجموعی سبق کیا ہے؟
الفشدید غم کے بعد آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی کا سلسلہ سامنے آیا
بان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق نہیں
جیہ صرف ذاتی نوعیت کے واقعات تھے
دان سے کوئی دعوتی سبق نہیں ملتا
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ شدید انسانی غم کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ نے روحانی تسلی اور زمینی کامیابی، دونوں کی راہ ہموار کی۔
30اس پورے دور سے یہ بات کیسے ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مدد کس طرح کرتا ہے؟
الفمشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو تسلی اور آئندہ کامیابی دونوں کا سامان بنتی ہیں
بنیک بندوں کو ہمیشہ ہر مشکل سے محفوظ رکھتا ہے
جصرف مالی نعمتوں کے ذریعے مدد کرتا ہے
دکامیابی ہمیشہ فوری اور بلا آزمائش ملتی ہے
عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کا سلسلہ ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو شدید مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا کرتا ہے جو تسلی کے ساتھ آئندہ کامیابیوں کی راہ بھی ہموار کرتی ہیں۔