عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ
عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک پیش آنے والے اہم واقعات اور ان کی دعوتی و تربیتی اہمیت
اس موضوع کی PDF ڈاؤن لوڈ کریں (مضمون، سوالات و جوابات اور کوئز — آفلائن مطالعے کے لیے)1عام الحزن سے بیعتِ عقبہ تک کا تعارف
عام الحزن، سفرِ طائف، واقعۂ اسراء و معراج اور بیعتِ عقبہ نبوت کے دسویں اور گیارہویں سال کے وہ فیصلہ کن مراحل ہیں جن میں شدید ترین غم کے بعد آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی دونوں ایک ساتھ رونما ہوئیں۔ یہ دور سیرت کا وہ نازک موڑ ہے جہاں انسانی تنہائی کی انتہا کے فوراً بعد وحی نے نہ صرف روحانی سہارا فراہم کیا بلکہ آئندہ کی ہجرت اور ریاست سازی کی راہ بھی ہموار کر دی۔ واقعۂ اسراء کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے:
، یعنی پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو رات کے ایک حصے میں مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی۔ یہ آیت اس پورے دور کی معنویت کو نمایاں کرتی ہے: انتہائی مشکل کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو ایسا اعزاز بخشتا ہے جو انسانی تصور سے بالاتر ہے۔
2عام الحزن: حضرت خدیجہؓ و ابوطالب کی وفات
نبوت کے دسویں سال کو عام الحزم یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات قریب قریب واقع ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ نہ صرف گھر کی رفیق تھیں بلکہ آغازِ وحی کی پہلی مصدقہ اور ہر مشکل میں مالی و جذباتی سہارا بھی تھیں۔ ان کی وفات ذاتی صدمہ تھی۔ دوسری طرف ابوطالب اگرچہ مسلمان نہیں ہوئے، مگر قبائلی حمیت کی بنا پر آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے، اور ان کی وفات سے یہ سماجی چھتری ختم ہو گئی جو مکہ کے قبائلی نظام میں تحفظ کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ نتیجتاً قریش کی جسارت میں اضافہ ہوا اور آپ ﷺ کو پہلے سے زیادہ کھلی ایذا رسانی کا سامنا کرنا پڑا۔
3سفرِ طائف اور ثقیف کا سلوک
اسی پس منظر میں رسول اللہ ﷺ نے مکہ سے باہر نکل کر طائف کا رخ کیا، تاکہ ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوت پیش کریں اور ممکن ہو تو وہاں تحفظ اور تعاون حاصل کریں۔ لیکن ثقیف کے سرداروں نے نہ صرف دعوت مسترد کی بلکہ اپنے شہر کے اوباش نوجوانوں اور غلاموں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا، جنہوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے پاؤں مبارک لہولہان کر دیے۔ اس شدید ترین تکلیف کے باوجود، جب فرشتہ حاضر ہو کر طائف کی بستیوں کو تباہ کرنے کی اجازت مانگتا ہے، تو آپ ﷺ نے فوری انتقام کے بجائے یہ دعا فرمائی کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا فرمائے جو اسے پہچانیں اور اس کی عبادت کریں۔ یہ واقعہ نبوی رحمت اور بلند حوصلگی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر تاریخ میں کم ملتی ہے۔
4نخلہ میں جنات کا ایمان اور مطعم بن عدی کی پناہ
طائف سے واپسی کے سفر میں نخلہ کے مقام پر ایک اور اہم واقعہ پیش آیا: جنات کی ایک جماعت نے آپ ﷺ کی تلاوت سنی، ایمان لے آئی اور اپنی قوم میں واپس جا کر دعوت دی، جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۂ جن میں موجود ہے۔ مکہ واپسی سے پہلے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ بغیر کسی کی پناہ کے مکہ میں داخل ہونا خطرناک تھا، چنانچہ آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار یعنی پناہ طلب کی، جسے انہوں نے قبول کیا اور اپنے بیٹوں کے ساتھ مسلح ہو کر آپ ﷺ کو حرم تک پہنچایا۔ اس واقعے سے یہ اہم اصول سامنے آتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور تحفظ سے فائدہ اٹھانا توکل کے منافی نہیں بلکہ اسبابِ ظاہری اختیار کرنا سنتِ الٰہی کا حصہ ہے۔
5واقعۂ اسراء و معراج اور نمازوں کی فرضیت
اسی دورِ غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو معراج کا انوکھا اعزاز عطا فرمایا۔ اسراء وہ رات کا سفر تھا جس میں آپ ﷺ کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا، اور صحیح احادیث کے مطابق وہاں سے معراج کا آغاز ہوا جس میں آپ ﷺ نے مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام سے ملاقات کی، جنت و دوزخ کے مناظر دیکھے اور بالآخر سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اس سفر کی متعین تاریخ قطعی طور پر ثابت نہیں، اور مختلف اہلِ علم نے مختلف مہینوں اور راتوں کا ذکر کیا ہے، اس لیے 27 رجب کو یقینی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش کرنا محتاط علمی طرزِ عمل نہیں۔ اس واقعے کی سب سے بڑی عملی نعمت پانچ وقت کی نماز کی فرضیت تھی۔ ابتدا میں پچاس نمازیں فرض ہوئیں، مگر بار بار کی سفارش کے بعد یہ تعداد پانچ ہو گئی جبکہ اجر پچاس نمازوں کے برابر رکھا گیا۔ نماز اس مکی آزمائش کے دور میں براہِ راست اللہ سے تعلق جوڑنے اور روحانی توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ بن گئی۔ معراج محض ایک حیرت انگیز واقعہ نہیں تھا بلکہ عبادت، یقین اور نبوی مرکزیت کے اعلان کا موقع تھا، جس نے کمزور ترین حالات میں بھی امتِ مسلمہ کو ایک نئی روحانی قوت بخشی۔
6یثرب میں دعوت اور بیعتِ عقبہ اولیٰ
اسی دوران دعوت کا رخ یثرب کی طرف مڑنا شروع ہوا۔ حج کے موسم میں رسول اللہ ﷺ مختلف قبائل کے پاس جا کر دعوت پیش کرتے تھے، اور یثرب کے چند نوجوانوں نے یہ دعوت سنی، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر لوگوں کو دین کی طرف بلایا۔ یثرب میں اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان دیرینہ جنگ و جدل نے ایک ایسی متحد اور منصف قیادت کی طلب پیدا کر رکھی تھی جو ان کے باہمی جھگڑوں کا خاتمہ کر سکے، اور یہی سماجی ضرورت اسلام کی طرف مائل ہونے کی ایک اہم وجہ بنی۔ اگلے سال بارہ افراد نے عقبہ کے مقام پر بیعتِ عقبہ اولیٰ کی، جس میں شرک، چوری، بدکاری اور نافرمانی سے بچنے کا عہد کیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو تعلیمِ قرآن کے لیے یثرب بھیجا، جنہوں نے اپنی حکمت اور نرم خوئی سے متعدد بااثر گھرانوں میں اسلام پھیلایا۔
7بیعتِ عقبہ ثانیہ اور نقباء کا تقرر
اگلے سال ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور بیعتِ عقبہ ثانیہ کی، جس میں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی مکمل حفاظت اور اطاعت کا عہد کیا، گویا وہ آپ ﷺ کو اپنے شہر میں تحفظ دینے کے ذمہ دار بن گئے۔ اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جنہیں اپنی اپنی قوم کی نگرانی سونپی گئی، اور یہی عہد مدینہ میں ایک محفوظ اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بنا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی۔
8اس دور کا مجموعی سبق
یوں دیکھا جائے تو یہ پورا دور غم، صبر، آسمانی تسلی اور زمینی کامیابی کا مجموعہ ہے۔ عام الحزن نے نبوی صبر کی آزمائش کی، طائف کے سفر نے حکمت اور رحمت کا امتزاج دکھایا، معراج نے روحانی قوت بخشی، اور بیعتِ عقبہ نے ایک نئی امت کی سیاسی و سماجی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو انتہائی مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو نہ صرف ان کی تسلی کا سامان بنتی ہیں بلکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ بھی ہموار کرتی ہیں۔
منتخب مصادر و مراجع
- القرآن الکریم، الإسراء 17:1؛ الجن 72:1-2
- صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب المعراج
- صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب الاسراء
- ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، الطائف وبیعۃ العقبہ
- ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ابواب الاسراء والعقبہ
- صفی الرحمن مبارکپوری، الرحیق المختوم
نبوت کے دسویں سال حضرت خدیجہؓ اور ابوطالب کی وفات تقریباً ایک ہی زمانے میں ہوئی، اسی لیے اسے عام الحزن یعنی غم کا سال کہا جاتا ہے۔ حضرت خدیجہؓ نہ صرف زوجہ بلکہ گھر کی رفیق، ہر مشکل میں مالی سہارا اور آغازِ وحی کی سب سے پہلی مصدقہ تھیں، اس لیے ان کی جدائی نجی سطح پر بہت گہرا صدمہ تھی۔ دوسری طرف ابوطالب، اگرچہ ایمان نہ لائے، مگر قبائلی حمیت کی بنا پر برسوں تک آپ ﷺ کی حفاظت کرتے رہے تھے۔ ان کی وفات سے یہ سماجی تحفظ ختم ہو گیا جو مکہ کے قبائلی نظام میں لازمی سمجھا جاتا تھا، اور نتیجتاً قریش کی جسارت اور کھلی ایذا رسانی میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ابوطالب کی وفات کے بعد رسول اللہ ﷺ نے طائف کا رخ کیا تاکہ ثقیف کے سرداروں کے سامنے دعوتِ اسلام پیش کریں اور ممکنہ طور پر نئے تحفظ اور تعاون کا ذریعہ حاصل کریں۔ لیکن ثقیف کے سرداروں نے دعوت کو حقارت سے رد کر دیا اور اس پر اکتفا نہ کیا، بلکہ شہر کے اوباش لڑکوں اور غلاموں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا جنہوں نے پتھراؤ کر کے آپ ﷺ کے مبارک قدم لہولہان کر دیے۔ یہ مکی دور کی سب سے اذیت ناک گھڑیوں میں سے ایک تھی، مگر آپ ﷺ نے فرشتے کی طرف سے سزا دینے کی پیشکش کے باوجود انتقام کے بجائے آئندہ نسلوں کی ہدایت کے لیے دعا کو ترجیح دی۔
طائف سے مکہ واپسی کے راستے میں نخلہ کے مقام پر آپ ﷺ نماز میں قرآن کی تلاوت فرما رہے تھے کہ جنات کی ایک جماعت وہاں سے گزری اور تلاوت سن کر رک گئی۔ انہوں نے پیغام کو غور سے سنا، ایمان قبول کیا اور اپنی قوم کے پاس واپس جا کر انہیں دعوتِ حق دی، جس کا ذکر قرآن کریم کی سورۂ جن میں تفصیل سے آیا ہے۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ جس وقت انسانوں کی اکثریت نے دعوت کو مسترد کر رکھا تھا، عین اسی وقت غیب کی دنیا میں اس دعوت کو قبولیت مل رہی تھی، جو نبوی مشن کی وسعت اور اس کی آفاقیت کی علامت ہے۔
طائف سے واپسی پر مکہ میں بغیر کسی سردار کی پناہ کے داخل ہونا خطرناک تھا، کیونکہ قبائلی رواج کے مطابق ہر اجنبی کو کسی نہ کسی کی حمایت درکار ہوتی تھی۔ چنانچہ آپ ﷺ نے مطعم بن عدی سے جوار یعنی پناہ کی درخواست کی، جسے انہوں نے فوراً قبول کیا اور اپنے بیٹوں سمیت مسلح ہو کر آپ ﷺ کو حرم تک پہنچایا۔ یہ واقعہ اس اہم اصول کی نشاندہی کرتا ہے کہ جائز سماجی تعلقات اور دستیاب تحفظ سے فائدہ اٹھانا اللہ پر توکل کے خلاف نہیں بلکہ اسباب اختیار کرنا خود سنتِ الٰہی کا حصہ ہے، جسے نبوی سیرت نے اپنے عمل سے بارہا ثابت کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک واضح رہنما اصول چھوڑا۔
اسراء وہ رات کا سفر تھا جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک پہنچایا، اور صحیح احادیث کے مطابق وہاں سے معراج کا سلسلہ شروع ہوا جس میں آپ ﷺ نے مختلف آسمانوں پر انبیائے کرام سے ملاقات کی اور غیبی حقائق کا مشاہدہ کیا۔ اصل واقعہ قرآن اور صحیح احادیث سے حتمی طور پر ثابت ہے، لیکن اس کے سال، مہینے اور رات کی قطعی تعیین میں اہلِ علم کے متعدد اقوال پائے جاتے ہیں۔ اس لیے 27 رجب کو یقینی تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا مضبوط دلیل کے بغیر درست نہیں، اور طالب علم کو واقعے کی صحت اور اس کی متعین تاریخ کے درجۂ ثبوت میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔
معراج کی رات ابتدا میں پچاس نمازیں فرض کی گئیں، مگر جب آپ ﷺ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اپنی امت کے تجربے کی بنیاد پر بار بار تخفیف کی درخواست کرنے کا مشورہ دیا۔ نتیجتاً بار بار سفارش کے بعد نمازوں کی تعداد پانچ رہ گئی، جبکہ ثواب پچاس نمازوں کے برابر مقرر کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اللہ کی رحمت اور آسانی کی علامت ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نماز محض ایک رسمی عبادت نہیں بلکہ بندے اور رب کے درمیان براہِ راست رابطے کا ذریعہ ہے، جس نے مکی آزمائشوں کے دور میں مسلمانوں کو روحانی سہارا اور استقامت بخشی۔
رسول اللہ ﷺ ہر سالانہ حج کے موسم میں مختلف قبائل کے سامنے دعوتِ توحید پیش کرتے تھے، اسی طریقے سے یثرب کے چند نوجوانوں نے آپ ﷺ کی بات سنی، متاثر ہوئے، اسلام قبول کیا اور اپنے شہر واپس جا کر لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا۔ یثرب میں اسلام کی قبولیت کی ایک بڑی سماجی وجہ اوس اور خزرج قبیلوں کے درمیان طویل عرصے سے جاری خونریز جنگ و جدل تھی، جس نے ایک ایسی غیر جانبدار اور منصف قیادت کی ضرورت پیدا کر دی تھی جو ان کے باہمی اختلافات ختم کر سکے۔ یوں دینی دعوت اور سماجی ضرورت دونوں مل کر اسلام کی قبولیت کی راہ ہموار کرنے لگیں۔
اگلے سال بارہ افراد کے وفد نے عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد کیا کہ وہ شرک، چوری، بدکاری اور کسی بھی قسم کی نافرمانی سے بچیں گے، جسے بیعتِ عقبہ اولیٰ کہا جاتا ہے۔ اس بیعت کے بعد آپ ﷺ نے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو یثرب بھیجا تاکہ وہ لوگوں کو قرآن اور دین کی تعلیم دیں۔ حضرت مصعبؓ نے اپنی حکمت، نرم خوئی اور مدلل گفتگو سے یثرب کے متعدد بااثر گھرانوں کو اسلام کی طرف مائل کیا، حتیٰ کہ اوس و خزرج کے کئی نمایاں سردار بھی مسلمان ہو گئے، جس سے اسلام کی جڑیں یثرب کے تقریباً ہر محلے میں مضبوط ہونے لگیں اور اگلے حج کے موسم کی راہ ہموار ہوئی۔
اگلے سال ستر سے زائد افراد پر مشتمل ایک بڑا وفد مکہ آیا اور رات کی تاریکی میں عقبہ کے مقام پر رسول اللہ ﷺ سے یہ عہد کیا کہ وہ آپ ﷺ کی اسی طرح حفاظت کریں گے جیسے اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کی کرتے ہیں، اور آپ ﷺ کے ہر جائز حکم کی اطاعت کریں گے۔ اس موقع پر بارہ نقباء مقرر کیے گئے جو اپنی اپنی قوم کے نمائندے تھے۔ یہ عہد دراصل مدینہ میں ایک محفوظ اور منظم اجتماعی مرکز کے قیام کی عملی بنیاد بن گیا، اور اسی کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو بتدریج یثرب کی طرف ہجرت کی اجازت دی، جس نے ہجرتِ مدینہ کی راہ ہموار کر دی۔
یہ واقعات مل کر ایک مکمل داستان بناتے ہیں جس میں شدید ترین انسانی غم کے بعد آسمانی تسلی اور پھر زمینی کامیابی یکے بعد دیگرے سامنے آتی ہے۔ عام الحزن نے نبوی صبر کی سب سے کڑی آزمائش پیش کی، طائف کے سفر نے رحمت اور حکمت کا امتزاج دکھایا، معراج نے روحانی توانائی اور نماز کا تحفہ عطا کیا، اور بیعتِ عقبہ نے ایک نئی امت کی سیاسی و سماجی بنیاد رکھی۔ یہ سلسلہ سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو مشکل کے فوراً بعد ایسی نعمتیں عطا فرماتا ہے جو نہ صرف تسلی کا سامان بنتی ہیں بلکہ آئندہ کی کامیابیوں کی راہ بھی متعین کرتی ہیں، اور یہی وہ سبق ہے جو ہر دور کے داعی کے لیے حوصلہ افزا ہے۔