ہومموضوعات ‹ موضوع 2
موضوع 2 از 15

بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کے مذہبی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی حالات

بعثتِ نبوی سے قبل عرب اور اہم عالمی تہذیبوں کے مذہبی، سیاسی اور معاشرتی حالات کیسے تھے؟

اس موضوع کی PDF ڈاؤن لوڈ کریں (مضمون، سوالات و جوابات اور کوئز — آفلائن مطالعے کے لیے)

1بعثت سے قبل حالات کے مطالعے کی اہمیت اور قرآنی بیانِ فساد

بعثتِ نبوی سے قبل دنیا کن حالات سے گزر رہی تھی، یہ سوال محض تاریخی تجسس کا موضوع نہیں بلکہ اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کس پس منظر میں مبعوث ہوئی اور اس کی حکمت و ضرورت کیا تھی۔ قرآن مجید اس عمومی اخلاقی بگاڑ کو یوں بیان کرتا ہے:

﴿ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ

، یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل چکا ہے جو لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے (الروم 30:41)۔ یہ آیت محض عرب کے حالات تک محدود نہیں بلکہ اس دور کی وسیع تر انسانی صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں مذہبی انحراف، سیاسی جبر اور معاشرتی ناہمواری بیک وقت موجود تھیں۔

2چھٹی صدی عیسوی کا عالمی منظرنامہ

چھٹی صدی عیسوی میں دنیا چند بڑی سلطنتوں، متعدد مقامی بادشاہتوں اور بے شمار قبائلی اکائیوں میں بٹی ہوئی تھی۔ اگرچہ علم، تجارت اور تعمیرات کے میدان میں کچھ ترقی یافتہ آثار بھی موجود تھے، تاہم اخلاقی اور طبقاتی ناہمواری نہایت گہری تھی۔ اسی لیے اس دور کو مکمل جہالت یا مطلق تاریکی کہنا علمی اعتبار سے محتاط نہیں، بلکہ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو ایک ایسی جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی جو انسان کو اخلاقی انتشار سے نکال کر ایک متوازن اور مبنی بر انصاف نظامِ زندگی عطا کر سکے۔

3جزیرۂ عرب کے سیاسی و سماجی حالات اور خانہ کعبہ

جزیرۂ عرب کی صورتِ حال اس عمومی منظرنامے کا ایک اہم حصہ تھی۔ عرب معاشرہ کسی مرکزی حکومت کے تحت منظم نہیں تھا، بلکہ قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی بنیاد سمجھی جاتی تھی، اور جنگ و جدل قبائل کے درمیان روزمرہ کا معمول تھا۔ خانہ کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی توحیدی یادگار تھا، لیکن صدیوں کے دوران اس کے اردگرد بت پرستی کا ایسا غلبہ ہو چکا تھا کہ کعبہ کے اندر سیکڑوں بت رکھے جانے لگے تھے۔ عرب معاشرے میں شاعری، مضبوط حافظہ، مہمان نوازی اور بےمثال شجاعت جیسی خوبیاں بھی موجود تھیں، مگر ان کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم بھی عام تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاشرہ خوبیوں اور خامیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا نہ کہ محض یکطرفہ تصویر۔

4عورتوں اور کمزور طبقات کی ابتر حالت

عورتوں اور کمزور طبقات کی حالت خاص طور پر قابلِ توجہ تھی۔ بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم پائی جاتی تھی، جسے قرآن نے سختی سے مسترد کیا۔ غلام، یتیم اور مقروض افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف بنے رہتے تھے، اور وراثت و نکاح کے معاملات میں عورت کو عموماً کوئی مستقل قانونی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ یہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب معاشرے کو محض سیاسی یا معاشی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع اخلاقی اور قانونی انقلاب کی ضرورت تھی، جو بعد میں اسلامی تعلیمات کی صورت میں سامنے آیا۔

5بازنطینی روم اور ساسانی ایران کے حالات

عرب سے باہر نظر دوڑائیں تو بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرتا ہے۔ اگرچہ روم بظاہر مسیحی سلطنت تھی، مگر اس کے اندر مختلف مسیحی فرقوں کے عقائد میں شدید اختلاف پایا جاتا تھا، جو اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کا سبب بنتا رہا۔ اس کے علاوہ بھاری محصولات اور ایران کے ساتھ مسلسل جنگوں نے عام آبادی کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔ دوسری جانب ساسانی ایران میں شہنشاہی نظام، سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔ زرتشتی مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دیگر مذہبی گروہوں کے ساتھ سلوک وقت کے ساتھ بدلتا رہتا تھا۔ روم اور ایران کے مابین طویل اور صدیوں پر محیط جنگوں نے دونوں سلطنتوں کو داخلی طور پر کمزور کر دیا تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس دور کی بڑی طاقتیں بھی اندرونی خلفشار کا شکار تھیں۔

6مصر، حبشہ، ہندوستان اور چین کی صورتحال

مصر اس دور میں سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی اختلافات کا شکار رہتا تھا۔ اس کے مقابلے میں حبشہ ایک مستحکم عیسائی بادشاہت تھی جس کی بحیرۂ احمر کی تجارت میں نمایاں اہمیت تھی۔ نجاشی کے عادلانہ نظام نے بعد میں مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو جب انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی، ایک محفوظ پناہ گاہ فراہم کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں بھی عدل کی روایت مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئی تھی۔ ہندوستان میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم موجود تھی، جبکہ چین میں ایک منظم سلطنتی نظام، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارت اور مضبوط علمی روایت نے ایک مستحکم تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دیا تھا۔ یہ دونوں خطے اپنے اپنے دائرے میں ترقی یافتہ عناصر رکھتے تھے، لیکن ان میں بھی عالمگیر اخلاقی مساوات کا تصور نہایت محدود تھا۔

7بعثتِ نبوی کی عالمی معنویت اور مساوات کا پیغام

اس پورے عالمی پس منظر کو سامنے رکھیں تو بعثتِ نبوی کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ نبوی دعوت نے کسی ایک قوم یا نسل کی سیاسی برتری کے بجائے خالص توحید اور ہر انسان کی انفرادی جواب دہی کا تصور پیش کیا۔ اسلام نے نسل، طبقے اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم شدہ انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد تقویٰ اور کردار پر تھی، نہ کہ خون یا رنگ پر۔ یوں اس عالمی پس منظر سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی وسعت اور معنویت سامنے آتی ہے، جو محض عرب کی مقامی اصلاح تک محدود نہیں رہی بلکہ رفتہ رفتہ روم، ایران اور دیگر تہذیبوں تک پھیل گئی۔

8بعثت سے قبل دنیا کا متوازن اور جامع جائزہ

اس تجزیے سے یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں کہ بعثت سے قبل پوری دنیا یکساں طور پر تاریک تھی، کیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاست، علم، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو موجود تھے۔ البتہ ان تمام تہذیبوں میں مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ، استحصال اور اخلاقی بحران بھی نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے موزوں تعبیر یہی ہے کہ انسانیت کو ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی، جو نہ کسی مقامی اصلاح تک محدود ہو اور نہ کسی مخصوص طبقے یا نسل کے مفاد کی نگہبان بنے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت اسی خلا کو پر کرنے کے لیے ایک ایسی الہامی، اخلاقی اور عالمگیر تحریک ثابت ہوئی جس نے انسانی تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

منتخب مصادر و مراجع

  1. القرآن الکریم، سورۃ الروم 30:1-6، 30:41؛ سورۃ التکویر 81:8-9
  2. صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی
  3. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ذکر حال العرب قبل الاسلام
  4. جواد علی، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام
  5. سید سلیمان ندوی، خطبات مدراس

چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں بلکہ چند بڑی سلطنتوں، متعدد مقامی بادشاہتوں اور ان گنت قبائلی اکائیوں میں تقسیم تھی۔ اس دور میں علم، تعمیرات اور تجارت کے کچھ ترقی یافتہ آثار ضرور موجود تھے، لیکن اخلاقی اور طبقاتی ناہمواری بہت گہری تھی، اور طاقتور طبقے کمزوروں پر اپنا اثر و رسوخ بلا روک ٹوک استعمال کرتے تھے۔ اسی لیے اس دور کو مطلق تاریکی کہنا مبالغہ ہو گا، کیونکہ کئی خطوں میں ریاستی نظم اور علمی سرگرمی جاری تھی۔ تاہم یہ بات بہرحال واضح تھی کہ انسانیت کو ایک ایسی جامع اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے جو مذہبی، سیاسی اور معاشرتی بگاڑ کو بیک وقت درست کر سکے۔

عرب میں کوئی مرکزی حکومت موجود نہیں تھی بلکہ قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی اصل بنیاد سمجھی جاتی تھی، جس کے باعث قبائل کے درمیان جنگ و جدل معمول کی بات تھی۔ خانہ کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا، مگر اس کے گرد صدیوں میں بت پرستی اس قدر پھیل چکی تھی کہ کعبہ کے اندر سیکڑوں بت رکھے جا چکے تھے۔ عرب معاشرہ شاعری، حافظے کی مضبوطی، مہمان نوازی اور شجاعت جیسی نمایاں خوبیوں کا حامل تھا، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم بھی عام تھا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ معاشرہ خوبیوں اور خامیوں کا ایک پیچیدہ امتزاج تھا۔

بعض عرب قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم رائج تھی، جسے بعد میں قرآن مجید نے سختی سے مسترد کیا اور اسے قابلِ مواخذہ جرم قرار دیا۔ غلام، یتیم اور مقروض افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان نشانہ بنتے رہتے تھے، اور ان کے حقوق کا کوئی مؤثر تحفظ موجود نہیں تھا۔ وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت کو عموماً کوئی مستقل قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، اور وہ اکثر خاندانی سرپرستوں کی مرضی کی محتاج رہتی تھی۔ یہ تمام حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عرب معاشرے کو سیاسی اصلاح سے کہیں زیادہ ایک جامع اخلاقی اور قانونی انقلاب کی ضرورت تھی۔

بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر موجود تھا اور بظاہر ایک مسیحی سلطنت کہلاتا تھا۔ تاہم اس کے اندر مختلف مسیحی فرقوں کے درمیان عقائد کے شدید اختلافات پائے جاتے تھے، جو اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کی صورت اختیار کر لیتے تھے۔ اس کے علاوہ عوام پر عائد بھاری محصولات اور ایران کے ساتھ طویل جنگوں نے عام آبادی کو مسلسل معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک بڑی اور بظاہر مستحکم سلطنت بھی اندرونی مذہبی و معاشی خلفشار سے محفوظ نہیں تھی، جو اس دور کے عمومی بحران کی ایک اور مثال ہے۔

ساسانی ایران میں شہنشاہی نظام رائج تھا جس میں سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا مکمل غلبہ تھا، اور عام آبادی کو سیاسی فیصلوں میں کوئی مؤثر آواز حاصل نہیں تھی۔ زرتشتی مذہب کو ریاستی سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ رویہ حالات اور بادشاہ کی پالیسی کے مطابق بدلتا رہتا تھا۔ روم اور ایران کے درمیان صدیوں پر پھیلی ہوئی مسلسل جنگوں نے دونوں سلطنتوں کے وسائل اور طاقت کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا تھا۔ اس تجزیے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اس دور کی بڑی طاقتیں بھی اندرونی جبر اور مسلسل تصادم کے باعث ایک مستحکم اور منصفانہ نظام دینے سے قاصر تھیں۔

مصر اس دور میں سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی فرقہ وارانہ اختلافات کا شکار تھا، جس نے اس کی داخلی یکجہتی کو کمزور کیا۔ اس کے برعکس حبشہ ایک مستحکم عیسائی بادشاہت کے طور پر قائم تھا اور بحیرۂ احمر کی تجارتی راہداری میں اس کی نمایاں اہمیت تھی۔ حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی عدل پسندی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، کیونکہ بعد میں جب مکہ کے مظلوم مسلمانوں نے ہجرت کی تو نجاشی نے انہیں ایک محفوظ اور باعزت پناہ فراہم کی۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس دور میں بھی عدل اور رواداری کی روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔

ہندوستان میں اس دور میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم بھی رائج تھی، جس نے سماجی نقل و حرکت کو تقریباً ناممکن بنا دیا تھا۔ چین میں اس کے برعکس ایک منظم سلطنتی نظام، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارتی روابط اور مضبوط علمی روایت نے ایک مستحکم تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دے رکھا تھا۔ یہ دونوں خطے اپنے اپنے دائرے میں کئی ترقی یافتہ عناصر رکھتے تھے، مگر ان میں بھی عالمگیر اخلاقی مساوات اور انسانی وقار کا وہ تصور موجود نہیں تھا جو بعد میں اسلام نے پیش کیا۔ اس موازنے سے بعثتِ نبوی کے پیغام کی عالمگیر نوعیت مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

بعثتِ نبوی کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ اس نے کسی ایک قوم یا نسل کی سیاسی برتری کے بجائے خالص توحید اور ہر انسان کی انفرادی جواب دہی کا تصور پیش کیا۔ اسلام نے نسل، رنگ، طبقے اور قبیلے کی بنیاد پر تقسیم شدہ انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد صرف تقویٰ اور عمل پر رکھی گئی، نہ کہ خون یا سماجی حیثیت پر۔ یہی وجہ ہے کہ اس عالمی پس منظر کو سامنے رکھنے سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی وسعت کھل کر سامنے آتی ہے، جو محض عرب کے مقامی حالات کی اصلاح تک محدود نہ رہی بلکہ رفتہ رفتہ روم، ایران اور دیگر دور دراز تہذیبوں تک پھیل گئی۔

یہ تعبیر علمی اعتبار سے محتاط اور مکمل طور پر درست نہیں سمجھی جاتی، کیونکہ اس دور میں روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاستی نظم، علمی سرگرمی، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو بلاشبہ موجود تھے، اور بعض علاقوں میں علم و ادب کی روایات بھی فروغ پا رہی تھیں۔ تاہم اسی کے ساتھ ساتھ مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، مسلسل جنگیں، کمزوروں کا استحصال اور گہرا اخلاقی بحران بھی ان تمام تہذیبوں میں یکساں طور پر نمایاں طور پر پایا جاتا تھا، جو کسی ایک خطے تک محدود نہیں تھا۔ اسی لیے زیادہ متوازن اور علمی طور پر درست تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو کسی مقامی یا وقتی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید اور ہمہ گیر ضرورت درپیش تھی۔

بعثت سے قبل دنیا سیاسی سلطنتوں، مذہبی فرقوں اور قبائلی یا طبقاتی تقسیم میں بری طرح بٹی ہوئی تھی، اور ہر بڑی طاقت اپنی اپنی حدود میں محدود مفادات کا تحفظ کر رہی تھی۔ اس کے برعکس نبوی دعوت نے کسی مخصوص قوم کی نسلی برتری کے بجائے توحید، اخلاقی جواب دہی، عدل اور انسانی مساوات کا ایسا آفاقی پیغام پیش کیا جو ہر انسان کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ پیغام عرب کی مقامی اصلاح تک محدود نہیں رہا، بلکہ مختلف تہذیبوں اور طبقات کے درمیان ایک مشترکہ اور پائیدار اخلاقی بنیاد بن گیا، جس نے آگے چل کر انسانی تاریخ کے دھارے کو یکسر بدل دیا۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 30 سوالات)
1سورۃ الروم کی آیت ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ﴾ کس بات کی نشاندہی کرتی ہے؟
الفبعثت سے قبل انسانوں کے اپنے ہاتھوں سے پھیلائے گئے وسیع تر اخلاقی فساد کی
بصرف عرب کی موسمی خرابی کی
جصرف تجارتی نقصان کی
دصرف قبائلی جنگ کے خاتمے کی
یہ آیت خشکی اور تری میں انسانوں کے اپنے اعمال سے پھیلنے والے فساد کی نشاندہی کرتی ہے، جو بعثت سے قبل کی وسیع تر اخلاقی خرابی کو ظاہر کرتی ہے۔
2بعثت سے قبل عالمی حالات کا مطالعہ کیوں محض تاریخی تجسس کا موضوع نہیں سمجھا جاتا؟
الفاس سے نبوی رسالت کے پس منظر، حکمت اور ضرورت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے
باس کا نبوت سے کوئی تعلق نہیں
جیہ صرف جغرافیہ کا موضوع ہے
داس سے صرف تجارتی راستے معلوم ہوتے ہیں
یہ مطالعہ اس لیے اہم ہے کہ اس سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کس پس منظر میں مبعوث ہوئی اور اس کی حکمت و ضرورت کیا تھی۔
3چھٹی صدی عیسوی میں دنیا کی سیاسی ساخت کیسی تھی؟
الفایک ہی مرکزی حکومت کے تحت متحد
ببڑی سلطنتوں، بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم
جمکمل طور پر جمہوری نظاموں پر مبنی
دصرف قبائلی جنگوں سے خالی اور پرامن
چھٹی صدی عیسوی میں دنیا بڑی سلطنتوں، مقامی بادشاہتوں اور قبائلی اکائیوں میں منقسم تھی، کسی ایک مرکزی نظام کے تحت نہیں۔
4اس دور کو مکمل تاریکی کہنے سے متعلق درست علمی موقف کیا ہے؟
الفیہ تعبیر بالکل درست اور حتمی ہے
بیہ تعبیر محتاط نہیں، کیونکہ ترقی یافتہ پہلو بھی موجود تھے
جاس دور میں کوئی بھی تہذیب موجود نہیں تھی
داس دور میں کوئی مذہبی سرگرمی نہیں تھی
اس دور کو مکمل تاریکی کہنا درست نہیں، کیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں علم و تمدن کے آثار بھی موجود تھے۔
5چھٹی صدی عیسوی کی دنیا کے بارے میں سب سے متوازن تعبیر کیا پیش کی گئی؟
الفانسانیت کو ایک جامع اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی
بدنیا مکمل طور پر پرامن اور منظم تھی
جدنیا میں کوئی علمی سرگرمی موجود نہیں تھی
دتمام اقوام ایک ہی نظام کے تحت متحد تھیں
مضمون کے مطابق سب سے متوازن تعبیر یہ ہے کہ انسانیت کو ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی شدید ضرورت تھی۔
6جزیرۂ عرب میں سیاسی زندگی کی بنیاد کیا تھی؟
الفمرکزی شاہی حکومت
بقبائلی وفاداری
جمذہبی خلافت کا نظام
دجمہوری انتخابی نظام
عرب میں مرکزی حکومت کے بجائے قبائلی وفاداری ہی سیاسی زندگی کی اصل بنیاد سمجھی جاتی تھی۔
7خانہ کعبہ کی اصل حیثیت اور بعد کی صورتِ حال کیا بیان کی جاتی ہے؟
الفیہ ابتدا سے بت پرستی کا مرکز تھا
بیہ حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا مگر بعد میں بت پرستی پھیل گئی
جیہ ایک عسکری قلعہ تھا
دیہ صرف تجارتی گودام کے طور پر استعمال ہوتا تھا
کعبہ اصلاً حضرت ابراہیمؑ کی توحیدی یادگار تھا، لیکن صدیوں میں اس کے گرد بت پرستی پھیل چکی تھی۔
8عرب معاشرے کی کن خوبیوں کا ذکر تاریخی مآخذ میں ملتا ہے؟
الفصرف ظلم اور جنگ
بشاعری، حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت
جصرف زراعت اور کاشتکاری
دصرف بحری تجارت
عرب معاشرے میں شاعری، مضبوط حافظہ، مہمان نوازی اور شجاعت جیسی نمایاں خوبیاں پائی جاتی تھیں۔
9عرب معاشرے میں کن خامیوں کا بھی ذکر ملتا ہے؟
الفخونریزی، سود اور کمزوروں پر ظلم
بصرف تعلیمی پسماندگی
جصرف موسمی مشکلات
دصرف زبان کی کمزوری
عرب معاشرے کی خوبیوں کے ساتھ ساتھ خونریزی، سود خوری اور کمزوروں پر ظلم جیسی خامیاں بھی نمایاں تھیں۔
10بعض عرب قبائل میں کون سی سنگ دل رسم رائج تھی؟
الفلڑکیوں کو زندہ دفن کرنا
ببچوں کو تعلیم دینا
جغلاموں کو آزاد کرنا
دیتیموں کی سرپرستی کرنا
بعض قبائل میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر دینے کی سنگ دل رسم پائی جاتی تھی، جسے بعد میں اسلام نے ختم کیا۔
11غلام، یتیم اور مقروض افراد کی حیثیت عرب معاشرے میں کیسی تھی؟
الفوہ محفوظ اور بااختیار طبقہ تھے
بوہ طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے
جانہیں مکمل قانونی تحفظ حاصل تھا
دان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا
غلام، یتیم اور قرض دار افراد طاقتور طبقوں کے استحصال کا آسان ہدف تھے اور ان کے حقوق کا کوئی مؤثر تحفظ نہیں تھا۔
12پیشِ اسلام عرب میں وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت کی حیثیت کیسی تھی؟
الفمکمل مساوی قانونی اختیار حاصل تھا
بعموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی
جاسے سب سے زیادہ حقوق حاصل تھے
داس کا کوئی معاشرتی کردار نہیں تھا
وراثت اور نکاح کے معاملات میں عورت عموماً مستقل قانونی اختیار سے محروم تھی، جو بعد میں اسلامی احکام سے بدلا۔
13بازنطینی روم کس خطے کی بڑی سیاسی قوت تھا؟
الفمغربی افریقہ
بمشرقی بحیرۂ روم
ججنوبی ایشیا
دوسطی امریکہ
بازنطینی روم مشرقی بحیرۂ روم کے علاقے میں اس دور کی سب سے بڑی سیاسی اور عسکری قوت تھا۔
14روم میں مسیحی فرقوں کے اختلافات کا کیا نتیجہ نکلتا تھا؟
الفمکمل مذہبی ہم آہنگی
بریاستی جبر اور باہمی کشمکش
جفوری صلح اور اتحاد
دان اختلافات کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا
مسیحی فرقوں کے اعتقادی اختلافات اکثر ریاستی جبر اور باہمی کشمکش کا سبب بنتے تھے۔
15روم کی عام آبادی کس دباؤ کا شکار تھی؟
الفبھاری محصولات اور مسلسل جنگوں کا معاشی دباؤ
بصرف موسمی مشکلات
جصرف تعلیمی کمی
دصرف زبان کے مسائل
بھاری محصولات اور روم و ایران کی مسلسل جنگوں نے عام آبادی کو شدید معاشی دباؤ میں مبتلا رکھا۔
16ساسانی ایران میں کس نظام کا غلبہ تھا؟
الفجمہوری نظام
بشہنشاہی نظام اور درباری اشرافیہ کا غلبہ
جقبائلی جمہوریت
دبازنطینی طرزِ حکومت
ایران میں شہنشاہی نظام، سخت طبقاتی تقسیم اور درباری اشرافیہ کا غلبہ تھا۔
17ایران میں کس مذہب کو سرکاری سرپرستی حاصل تھی؟
الفزرتشتی مذہب
ببدھ مت
جیہودیت
دصابئی مذہب
زرتشتی مذہب کو ایران میں سرکاری سرپرستی حاصل تھی، جبکہ دیگر مذاہب کی حالت وقت کے ساتھ بدلتی رہی۔
18روم اور ایران کی طویل جنگوں کا دونوں سلطنتوں پر کیا اثر پڑا؟
الفدونوں سلطنتیں داخلی طور پر کمزور ہو گئیں
بدونوں مزید مضبوط ہو گئیں
جصرف روم کمزور ہوا جبکہ ایران مضبوط رہا
داس کا کوئی اثر نہیں پڑا
روم اور ایران کے مابین صدیوں پر محیط جنگوں نے دونوں سلطنتوں کو داخلی طور پر کمزور کر دیا تھا۔
19مصر اس دور میں سیاسی طور پر کس کے زیرِ اثر تھا؟
الفایرانی سلطنت
برومی اقتدار
جچینی سلطنت
دحبشی بادشاہت
مصر سیاسی طور پر رومی اقتدار کے زیرِ اثر تھا اور مذہبی طور پر داخلی اختلافات کا شکار تھا۔
20حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی کون سی خصوصیت سیرت کے تناظر میں اہم ہے؟
الفاس کی عسکری طاقت
باس کا عدل اور مظلوم مسلمانوں کو پناہ دینا
جاس کی تجارتی دولت
داس کا زرتشتی مذہب اختیار کرنا
نجاشی کے عدل نے بعد میں مظلوم مسلمانوں کو ہجرت کے وقت محفوظ پناہ فراہم کی، جو اس کے کردار کی نمایاں خصوصیت تھی۔
21پیشِ اسلام ہندوستان کی نمایاں سماجی خصوصیت کیا تھی؟
الفمکمل سماجی مساوات
بذات پات کی سخت تقسیم
جمرکزی جمہوری نظام
دقبائلی بادشاہت کا خاتمہ
ہندوستان میں مذہبی تنوع کے ساتھ ساتھ ذات پات کی سخت اور غیر منصفانہ تقسیم موجود تھی۔
22چین نے اس دور میں کس بنیاد پر مضبوط تہذیبی ڈھانچہ قائم کیا؟
الفصرف عسکری طاقت پر
بمنظم سلطنت، زراعت، تجارت اور علمی روایت پر
جصرف مذہبی جبر پر
دصرف بحری تجارت پر
چین میں منظم سلطنت، ترقی یافتہ زراعت، وسیع تجارت اور علمی روایت نے ایک مضبوط تہذیبی ڈھانچہ تشکیل دیا۔
23نبوی دعوت نے انسانیت کو تقسیم کرنے والی کن بنیادوں کے مقابلے میں کیا پیش کیا؟
الفنسل اور طبقے کی برتری کو مزید تقویت دی
بتقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور دیا
جصرف عرب کی برتری کو تسلیم کیا
دصرف مالی حیثیت کو معیار بنایا
اسلام نے نسل، طبقے اور قبیلے سے بلند ہو کر تقویٰ اور کردار پر مبنی اخلاقی برادری کا تصور پیش کیا۔
24عالمی پس منظر سے قرآن کے کس پیغام کی وسعت نمایاں ہوتی ہے؟
الفعدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی
بصرف عرب کی مقامی روایات کی
جصرف قبائلی جنگوں کی حکمتِ عملی کی
دصرف تجارتی معاہدوں کی
اس عالمی پس منظر سے قرآن کے عدل، رحمت اور انسانی مساوات کے پیغام کی حقیقی عالمگیر وسعت نمایاں ہوتی ہے۔
25بعثتِ نبوی نے انسانی مساوات کی بنیاد کس چیز کو قرار دیا؟
الفتقویٰ اور کردار کو
بنسل اور رنگ کو
جقبیلے اور خاندان کو
دمال اور دولت کو
اسلام نے انسانیت کو ایک ایسی اخلاقی برادری کا تصور دیا جس کی بنیاد تقویٰ اور کردار پر تھی، نہ کہ خون یا رنگ پر۔
26مضمون کے مطابق یہ نتیجہ اخذ کرنا کیوں مناسب نہیں کہ بعثت سے قبل پوری دنیا یکساں طور پر تاریک تھی؟
الفکیونکہ روم، ایران، ہندوستان اور چین میں ریاست، علم، تجارت اور تعمیرات کے کئی ترقی یافتہ پہلو موجود تھے
بکیونکہ اس دور میں کوئی مسئلہ موجود ہی نہیں تھا
جکیونکہ عرب مکمل طور پر مہذب تھا
دکیونکہ اس دور کی کوئی تاریخ محفوظ نہیں
روم، ایران، ہندوستان اور چین میں علم، تجارت اور تعمیرات کے ترقی یافتہ پہلو موجود تھے، اس لیے پوری دنیا کو یکساں تاریک کہنا مناسب نہیں۔
27ان تمام تہذیبوں میں کون سے مشترکہ مسائل بھی نمایاں طور پر پائے جاتے تھے؟
الفمذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ اور استحصال
بصرف زبان کا مسئلہ
جصرف موسمی مشکلات
دکوئی مسئلہ نہیں تھا
ترقی یافتہ پہلوؤں کے باوجود ان تمام تہذیبوں میں مذہبی تحریف، طبقاتی ناہمواری، جنگ اور استحصال بھی نمایاں طور پر پایا جاتا تھا۔
28درج ذیل میں سے کون سا بیان بعثتِ نبوی سے قبل کی عالمی صورتحال کو سب سے بہتر بیان کرتا ہے؟
الفدنیا میں کچھ ترقی یافتہ پہلوؤں کے باوجود گہرا مذہبی، سیاسی اور اخلاقی بحران موجود تھا جس نے ایک عالمگیر رہنمائی کو ناگزیر بنا دیا
بدنیا مکمل طور پر مثالی اور منصفانہ تھی
جصرف عرب میں مسائل تھے جبکہ باقی دنیا مکمل خوشحال تھی
داس دور کا کوئی مستند تاریخی ریکارڈ موجود نہیں
مضمون کا مجموعی تجزیہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ محدود ترقی کے باوجود دنیا گہرے مذہبی، سیاسی اور اخلاقی بحران سے دوچار تھی، جس نے عالمگیر الہامی رہنمائی کو ضروری بنا دیا۔
29عرب معاشرے میں کمزور طبقات کے استحصال اور نجاشی کے عدل کے مابین موازنہ کیا سبق دیتا ہے؟
الفاس دور میں ظلم کے ساتھ ساتھ عدل کی روایت بھی مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئی تھی
بہر جگہ صرف ظلم ہی موجود تھا
جنجاشی کا عدل بے اثر رہا
دعرب اور حبشہ کے حالات بالکل یکساں تھے
نجاشی کے عادلانہ نظام نے، جو بعد میں مسلمانوں کی پناہ گاہ بنا، یہ ظاہر کیا کہ اس دور میں بھی عدل کی روایت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
30مضمون کے مطابق انسانیت کو کس نوعیت کی رہنمائی کی سب سے زیادہ ضرورت تھی؟
الفایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی
بصرف مقامی سیاسی اصلاح کی
جصرف اقتصادی ترقی کی
دصرف عسکری طاقت کی
مضمون کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ انسانیت کو کسی مقامی اصلاح کی نہیں بلکہ ایک جامع، محفوظ اور عالمگیر الہامی رہنمائی کی اشد ضرورت تھی۔